استخارہ

استخارہ کا مطلب «خير اور نيکی کی طلب» ہوتا ہے۔
بعض شريعت کے پابند لوگوں کی يہ روش ہے کہ جب کوئی اہم کام انجام دينا چاہتے ہيں، تو پہلے ماہر افراد سے مشورہ کرتے ہيں، يوں اس کام کے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کو مد نظر لاتے ہيں، ليکن اس کے باوجود، اگر پھر بھی تحير کا شکار ہوں اور اس کام کو انجام دينے يا اس کو ترک کرنے کے بارے ميں مردد ہوتے ہيں تو استخارے کا سہارا ليتے ہيں۔ جو ايک قسم کا اللہ تعالیٰ سے مشورہ لينا ہے، اس طريقے سے وہ اس کام کے بارے ميں اپنے تحير اور ترديد کو ختم کرتے ہيں۔
استخارہ کچھ سمجھ نہ آنے یا فیصلہ نہ کر پانے کی صورت میں رجاء کے قصد سے کیا جاتا ہے ، وہ بھی فکر و مشورت کے بعد ۔
بہتر ہے کہ پہلے تجربہ کار اور باوثوق لوگوں سے مشورہ لے اور اگر اس کے باوجود اس کا تذبذب دور نہ ہو تو وہ استخارہ کر سکتا ہے۔ استخارہ پر عمل کرنا واجب نہیں ہے لیکن حتی الامکان اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ ایک چیز کے لیے دوبارہ استخارہ کرنا جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ استخارہ کا موضوع بدل جائے ، یا اسکے لیے صدقہ دے دیا جائے ۔ جس کام کے لیے استخارہ کر رہا ہے وہ مباح اور جائز ہو۔ واجب، مستحب ، حرام یا مکروہ کام کے لئے استخارہ صحیح نہیں ہے۔

دفتر ہذا کے سرپرست اعلیٰ علامہ شہروز زیدی نے مؤمنين کی سہولت کے لئے (واٹساپ) کے ذريعہ استخارہ کروانے کی سروس کا آغاز کيا ہے۔

اگر استخارہ کروانا چاہتے ہیں تو:
جس کام کے لئے استخارہ کروانا ہے اس کی نیت کر لیں کہ فلاں کام کرنا خوب (اچھا) ہے یا بد (برا) ہے۔
اور ضروری نہیں ہے کہ اپنا نام یا اپنی والدہ یا والد کا نام  بتائیں یا کام کے بارے میں بتائیں کہ کس لئے استخارہ کروا رہے ہیں۔

نیت کرکے نمبر پر *istikhara* لکھ کر بھیج دیجئے۔
 خوب 
یا   بد جو  جواب  ہوگا قرآن سے استخارہ کرکے بھیج دیا جائے گا۔

)خوب یعنی اچھا ہے انجام دیں، بد یعنی انجام نہ دیں(

 +989022757329