سید محمد شہروز حسین زیدی (علامہ سید شہروز زیدی) نے محبتِ اہلبیت ؑ سے سیراب اور بہار ِایمان کے عروج کے صدقے سر سبزو شاداب درختوں کے سائے میں ۶ نومبر ۱۹۹۷ کو کراچی میں اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کیا اور ایسی ہوا میں نشوونما پائی کہ جس کا ہر جزء دین، مذہب اور انسانیت کی خدمت کے پاکیزہ جذبوں سے معطر تھا۔ اِن کے والد اور والدہ دونوں ہی اپنے بیٹے کو صحیح اسلامی تربیت کے ساتھ آراستہ و پیراستہ کرنے، اسلامی تمدن سے مزین کرنے اور اس کی عقل کی زرخیز کھیتی میں معارف الٰہی اور علوم ِ دین کی کاشت میں ہمہ وقت کوشاں رہتے۔
شہروز زیدی نے رزقِ علم کے حصول کی ابتداء اپنے گھر سے ہی کی اور غلامان عباس اسکول، کراچی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخل ہوئے اور وہیں سے ۲۰۱۴ میں اچھے نمبروں سے میٹرک (سائنس) پاس کیا، اور پھر انٹر میڈیٹ کے لئے این سی آر کالج میں داخلہ لیا اور سن ۲۰۱۶ میں انٹر (پری انجینئرنگ) پاس کیا۔
سن ۲۰۱۶ کے آواخر میں جامعہ کراچی سے فلسفہ میں بیچلرز کے لئے داخلہ لیا اور ساتھ ہی جامعہ المصطفیٰ کراچی میں داخلہ لیا اور فارسی، عربی گرائمر، صرف، نحو، منطق، تاریخ، علم کلام، فلسفہ وغیرہ کی ابتدائی تعلیم ڈاکٹر مہدی مقدسی، فدا حسین عابدی، نسیم حیدر زیدی، صادق تقوی، میر عباس الحسینی، علی حسن شگری، خواجہ رضا، نجم الحسن حیدری، ناصر حافظی، ذوالفقار علی شہانی صاحب و دیگر بزرگ علماء کرام سے حاصل کی۔
۴ دسمبر سن۲۰۲۰ء میں ادبی، نیک و سید گھرانے کی مومنہ جو کہ شہروز زیدی کی خالہ زاد بھی تھیں؛ سے شادی ہوئی۔ اور شادی کے مکمل ایک سال بعد ۴ دسمبر ۲۰۲۱ء میں کراچی سے قم القدس، ایران کی طرف اپنی زوجہ کے ہمراہ ہجرت کی اور وہاں کے علمی مرکز میں حوزہ علمیہ کے مایہ ناز اساتید سے علمی فیض حاصل کرنے لگے۔
اور مندرجہ ذیل کتب ان اساتید سے پڑھیں:
علم کلام؛ کتاب محاضرات فی الالهیات؛ استاد حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمد علی نیازی سے،
علم اصول؛ اصول آیت اللہ باقر الصدر؛ استاد لواسانی سے
فقہ استدلالی؛ (آیت اللہ باقر ایروانی)؛ استاد محمود رضا محصل ھمدانی و استاد سید مھدی موسوی سے
مکاسب؛ استاد سید مھدی موسوی سے
تفسیرالقرآن؛ استاد وحید نجف زادہ سے
مقدمات مکمل کرنے کے بعد فلسفہ و عرفان اسلامی کے رشتے کو تخصص کے لئے اختیار کیا اور پھر مندرجہ ذیل کتب ان اساتید سے پڑھیں۔
کلیات فلسفہ (دکتر علی شیروانی)؛ استاد میرازایی جاھد سے
عرفان و تصوف؛ استاد میرزایی جاھد سے
آموزش فلسفہ (آیت اللہ مصباح یزدی)؛ استاد ڈاکٹر غفاری قرہ باغی سے
منطق تکمیلی؛ استاد نجم الھدی سے
معرفت شناسی، حکمت متعالیہ، حکمت اشراق و مشاء وغیرہ؛ استاد شھریار سلیمانی سے
سن 2019ء میں کراچی یونیورسٹی سے کلیہ سماجی علوم بی-اے (پاس) کی ڈگری حاصل کی۔
سن 2024 ء میں وفاق المدارس الشیعہ سے شہادت العالمیہ فی العلوم العربیہ و الاسلامیہ (Masters in Arabic and Islamic Studies) کی ڈگری حاصل کی۔
سن 2025 ء میں جامعہ المصطفی العالمیہ قم المقدس سے کارشناسی فلسفہ و عرفان اسلامی (Masters in Islamic Philosophy & Mysticism) کی ڈگری حاصل کی۔
سید شہروز زیدی ابتداء تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق، تبلیغ، فعالیت فرھنگی، تدوین میں بھی مشغول رہے اور اب تک ان کی کئی کتب چھپ چکی ہیں جیسے؛
۱۔ خار دل یزداں
۲۔ خیر البریہ
۳۔ صلاۃ کیا ہے؟
اسکے علاوہ کئی تحقیقی مقالاجات و تراجم بھی موجود ہیں۔
سید شہروز زیدی عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ طب سنتی و حجامہ، مشاور خانوادہ، نکاح رجسٹرار، تحقیق و تدوین، شاعری و خطابت میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
کئی مراجع عظام کی جانب سے علامہ سید شہروز زیدی کو "اجازہ وکالت امور حسبیه" و "اجازہ نقل روایت" عطا ہوا۔
سید شہروز زیدی نے ۲۰۱۸ میں ادارہ "مفتاح الحیات کنسلٹنٹس" قائم کیا، جو ۳ جون ۲۰۲۴ کو SEPC سے باضابطہ رجسٹر ہوا۔ یہ جامع تعلیمی، اصلاحی و خدماتی پلیٹ فارم شرعی مسائل، خاندانی مشاورت اور سماجی بہبود کے امور میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری مشاورت دینا اور معاشرے میں آگاہی و فلاح کو فروغ دینا ہے۔
سید شہروز زیدی کی خواہش ہے کہ خاص طور پر پاکستان میں مومنین کے لئے دینی اور جدید دنیاوی تعلیم کے لئے اعلیٰ اداروں کو قائم کریں تاکہ مومنین ان اداروں میں مفت اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے قوم وملت سے جہالت اور غربت کی لعنت کو ختم کر سکیں۔
خداوند متعال علامہ سید شہروز زیدی کی زندگی دراز کرے اور ان کی تمام خواہشات کو پورا کرے اور ہمیں ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
