امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت کے دلائل

باسمه تعالیٰ،

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 128 ہجری میں ابواء میں پیدا ہوئے، 148 سے 183 ہجری تک 35 سال امامت کی، جو منصور، مہدی، ہادی اور ہارون کے دورِ ظلم و جبر میں گزری۔ باوجود سخت پابندیوں کے، آپ نے بہت سے شاگرد تربیت کیے اور فقہی روایات کی کثرت سے علمی خدمات انجام دیں۔ آخر میں 183 ہجری میں ہارون کے حکم سے بغداد کی قید میں شہید ہوئے۔



🔺🔺🔺 امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے دلائل:


📢 ۱۔ نصوص:

امام کاظم علیہ السلام دوسرے معصوم ائمہ علیہم السلام کی طرح دو قسم کے نص (واضح حکم یا وصیت) پر اپنی امامت کے لیے حامل تھے:

✔️ نصوص عامہ: یعنی وہ نصوص جو تمام ائمہ کی امامت کو ثابت کرتی ہیں۔ جیسے حدیث جابر و حدیث لوح و اس طرح کے دیگر اخبار۔

✔️ نصوص خاصہ: یعنی وہ نصوص جو ہر امام سے مخصوص ہیں اور جن میں اس کی امامت پر صراحت کی گئی ہے۔


یہاں ہم امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی امامت پر صرف پانچ نصوص خاصہ کی طرف اشارہ کریں گے:


1️⃣ معاذ بن کثیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: اُس خدا کی قسم جو آپ کو یہ مقام عطا فرمائے، میری خواہش ہے کہ آپ کی وفات سے پہلے یہی مقام آپ کی اولاد کو بھی عطا ہو جائے۔ تب آپؑ نے فرمایا: اللہ نے یہ کر دیا ہے۔ میں نے عرض کیا: قربان جاؤں، وہ کون ہیں؟ تو آپؑ نے اُس ہستی کی طرف اشارہ کیا جو وہاں لیٹی ہوئی تھیں اور فرمایا: یہ لیٹا ہوا (بچہ) ہے۔ اور وہ اس وقت عبد صالح (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی القاب میں سے ایک لقب) تھے، اور اُن دنوں وہ بچے تھے۔

(کلینی، اصول کافی، ج ۲، ص ۸۲، انتشارات علمیه اسلامیه)

2️⃣ مفضل بن عمر کہتے ہیں: میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابو ابراہیم (موسیٰ بن جعفر) علیہ السلام تشریف لائے، اس وقت وہ نوجوان تھے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے بارے میں وصیت ہے کہ اس (کے امام ہونے) کو تسلیم کرو اور اس کے (امامت کے) معاملے کو اپنے ان اصحاب میں سے جو قابل اعتماد ہوں، بتا دو۔

(کلینی، اصول کافی، ج ۲، ص ۸۳)

3️⃣ موسیٰ صیقل مقتل بن عمر سے روایت کرتے ہیں: میں امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھا کہ حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) جو اس وقت بچے تھے، تشریف لائے۔ امام صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا: "میری سفارشات کو اس کے بارے میں قبول کرو، اس کے مرتبے کا خیال رکھو، اور اس کی امامت کا معاملہ ہر اس صحابی سے بیان کرو جو رازدار اور قابل اعتماد ہو۔"

(ارشاد، مفید، ج۲، ص۳۰۳)

4️⃣ ابن ابی نجران، عیسیٰ بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام صادق (علیہ السلام) سے عرض کیا: اگر خدا نہ خواستہ کوئی حادثہ پیش آ جائے (اور آپ اس دنیا سے چلے جائیں) تو میں کس کی پیروی کروں؟ امام (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا۔

(ارشاد، مفید، ج۲، ص۳۰۵)

5️⃣ امام صادق (علیہ السلام) نے صفوان جمّال کے سوال کے جواب میں فرمایا: "اس منصب (امامت) کا حامل کھیل کود میں مشغول نہیں ہوتا۔" اسی دوران موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) جو ابھی بچے تھے، تشریف لائے۔ ان کے ساتھ مکہ کی ایک بکری کا بچہ تھا اور وہ اس سے فرما رہے تھے: "اپنے پروردگار کو سجدہ کر۔"

امام صادق (علیہ السلام) نے انہیں اپنے بازوؤں میں لے لیا اور فرمایا: "میرے ماں باپ ان پر قربان جائیں، یہ کھیل کود والے نہیں ہیں۔"

(مناقب آل ابوطالب، ابن شهر آشوب، ج۴، ص۳۱۷)


📢 ۲۔ معجزات و کرامات:

امامت ثابت کرنے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ معجزہ اور کرامت بھی ہے۔ ذیل میں امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی امامت کے اثبات کے لیے ہم آپ کے بعض معجزات اور کرامات نقل کر رہے ہیں:

1️⃣ احمد بن مہران، ابی بصیر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

میں نے حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے عرض کیا: قربان جاؤں، امام کس چیز سے پہچانا جاتا ہے؟

آپ نے فرمایا:

"کئی خصلتوں سے پہچانا جاتا ہے، جن میں پہلی یہ ہے کہ اس کے والد کی طرف سے اس کی امامت کے بارے میں کوئی قول یا اشارہ صادر ہو چکا ہو، تاکہ وہی حجت اور دلیل ہو۔ دوسری یہ کہ اس سے سوال کیا جائے تو وہ جواب دے، اور اگر سوال نہ کیا جائے تو خود گفتگو شروع کرے۔ اور یہ کہ وہ کل (مستقبل) کی خبر دے سکے، اور لوگوں سے ہر اس زبان میں بات کر سکے جو وہ بولتے ہیں۔"

پھر آپ نے فرمایا: "اے ابومحمد! اس سے پہلے کہ تم اٹھ کر جاؤ، میں تمہیں ان میں سے ایک نشانی دکھاتا ہوں۔"

ابوبصیر کہتے ہیں:

دیر نہ لگی کہ اہلِ خراسان کا ایک شخص آیا اور اس نے عربی زبان میں آپ سے بات کی، لیکن موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نے اسے فارسی میں جواب دیا۔

اس خراسانی شخص نے کہا: خدا کی قسم! میں نے آپ سے فارسی میں بات اس لیے نہیں کی کہ مجھے گمان تھا کہ آپ فارسی اچھی طرح نہیں جانتے!

آپ نے فرمایا:

"سبحان اللہ! اگر میں تمہیں اچھی طرح جواب نہ دے سکوں تو امامت کے منصب کے لیے تم پر میری برتری کیا ہے؟"

پھر فرمایا:

"اے ابومحمد! بے شک امام وہ ہے جو ہر شخص کی زبان اور نیز پرندے اور ہر جاندار کی زبان اچھی طرح جانتا ہو۔"

( مفید، ارشاد، ج ۲، ص ۲۱۷)

2️⃣ محمد بن مفضل روایت کرتے ہیں کہ ہمارے اصحاب میں وضو کے دوران پاؤں کے مسح کے بارے میں اختلاف ہو گیا کہ آیا مسح انگلیوں کے پوروں سے ٹخنوں تک ہے یا اس کے برعکس؟ چنانچہ علی بن یقطین (جو ہارون کے وزیر اور امام کاظم علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے اور امام کے حکم پر تقیہ کے تحت دربارِ ہارون میں شیعوں کی حمایت کرتے تھے) نے امام علیہ السلام کو ایک خط لکھ کر وضو کے طریقے اور اس اختلاف کے بارے میں دریافت کیا۔ ان کے خط کا مضمون تھا:

"ہماری جان آپ پر قربان، بے شک اصحاب نے پاؤں کے مسح میں اختلاف کیا ہے، اگر آپ مصلحت سمجھیں تو اپنے مبارک خط سے اسے تحریر فرما دیں تاکہ میرا عمل آپ کے عمل کے مطابق ہو جائے، ان شاء اللہ۔"

امام علیہ السلام نے جواب میں لکھا:

"میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ وضو میں تین بار کلی کرو، تین بار ناک میں پانی ڈالو، تین بار چہرہ دھوؤ، داڑھی کے بالوں کو خلال کرو، دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین بار دھوؤ، پورے سر اور دونوں کانوں کے ظاہر اور باطن کا مسح کرو، اور دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک تین بار دھوؤ۔"

یہ خط جب علی بن یقطین کو پہنچا تو وہ امام کے جواب پر حیران ہوئے، پھر بھی کہنے لگے: میرے آقا کو جو کچھ فرمایا ہے، وہ زیادہ جاننے والے ہیں، میں ان کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں اور امام علیہ السلام کے فرمودہ کے مطابق عمل کروں گا۔

اس زمانے میں بدگوؤں نے ہارون کے پاس علی بن یقطین کی شدید بدگوئی کی اور کہا کہ وہ رافضی ہے۔ حالانکہ ہارون نے کئی بار ان کا امتحان لیا تھا، اس کے باوجود اس نے اپنے خواص کو جمع کیا اور اپنے وزیر کے بارے میں مشورہ کیا۔ ان میں سے بعض نے کہا: اگر آپ مناسب سمجھیں تو نماز کے وقت ان کے وضو کرنے کے طریقے سے ان کا امتحان لیں، کیونکہ روافض وضو میں ہم سے اختلاف رکھتے ہیں اور ہم سے کم عمل کرتے ہیں۔ ہارون نے یہ قبول کیا اور طے ہوا کہ اس طریقے سے علی بن یقطین کے مذہب کا پتہ چلایا جائے۔

ہارون نے اپنے وزیر کو گھر مدعو کیا اور مختلف کاموں میں مصروف رکھا یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا۔ علی بن یقطین نے جس کمرے میں تھے، اسے خلوت میں بنا کر وضو کی تیاری کی۔ ہارون بھی دیوار کے کنارے سے انہیں دیکھ رہا تھا اور اس نے ان کا مکمل وضو کرنا دیکھ لیا۔ اسے یقین ہو گیا کہ علی بن یقطین اسی مذہب پر ہیں جس پر وہ (ہارون) تھا۔ ہارون نے بلند آواز سے کہا: "اے علی بن یقطین! جس نے یہ گمان کیا کہ تو رافضی ہے، اس نے جھوٹ کہا۔" اور اس کے بعد ہارون کی ارادت علی بن یقطین کے لیے مزید بڑھ گئی۔

اس واقعے کے بعد امام کاظم علیہ السلام کا علی بن یقطین کے نام ایک خط آیا جس کا مضمون تھا:

"وضو میں پہلے چہرے کو ایک بار واجب کے طور پر دھوؤ اور پھر ایک بار استحباب کے طور پر، اور ہاتھوں کو کہنیوں سے اس طرح دھوؤ، اور اپنے سر کے اگلے حصے اور دونوں قدموں کے ظاہری حصے پر اپنے وضو کے بچے ہوئے تری سے مسح کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ بے شک جس چیز کا ہمیں تم پر خوف تھا، وہ دور ہو گئی۔"

(اربلی، کشف الغمه، ج ۳،ص ۲۳ – ۲۵)


🔺 ہم جانتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت ۲۵ شوال سنہ ۱۴۸ ھجری میں ہوئی۔

(مفید، الارشاد، ۱۳۷۲ ش، ج۲، ص۱۸۰)


📢📢📢 جبکہ؛

📚 نسّاب جمال الدین احمد بن علی المعروف ابن عنبہ کے مطابق حضرت اسماعیل کی وفات سن ۱۳۳ ھجری میں ہوئی۔

(ابن‌ عنبہ‌، احمد، عمدۃ الطالب‌، بہ‌کوشش‌ محمد حسن‌ آل‌ طالقانی‌، نجف‌، ۱۳۸۰ھ/۱۹۶۱م‌، ص۲۳۳)

📚 تقی‌الدین مقریزی کے مطابق حضرت اسماعیل کی وفات ۱۳۸ ھجری میں ہوئی۔

 (مقریزی‌، احمد، اتعاظ الحنفاء، بہ‌ کوشش‌ جمال‌الدین‌ شیال‌، قاہرہ‌، ۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م‌، ص‌ ۱۵)

📚 قزوینی کے مطابق حضرت اسماعیل کی وفات ۱۴۵ ھجری میں ہوئی۔

(جوینی‌، عطا ملک‌، تاریخ‌ جہانگشا، بہ‌کوشش‌ محمد قزوینی‌، لیدن‌، ۱۳۵۵ھ/۱۹۳۷م‌ ج۳،ص۳۰۹)

📚 نقل ہوا ہے کہ سنہ ۱۳۸ ھجری صحیح تر معلوم ہوتا ہے۔

(حبیبی مظاهری، «اسماعیل بن جعفر»، ج۹، ص۶۴۸)


📚 زرارہ بن‌ اعین‌ سے منقول روایت کے مطابق حضرت اسماعیل‌ کی وفات کے بعد اور دفن سے پہلے امام‌ صادق‌ؑ نے تقربیا اپنے ۳۰ اصحاب کو ان کی وفات پر گواہ بنایا۔

اسی طرح سے ان کے غسل، کفن، تشییع جنازہ و دفن کو آشکارا طور پر انجام دیا۔

(نعمانی‌، الغیبہ، ۱۳۹۷ق، ص۳۲۸)


📚 اور حکم دیا کہ ان کی نیابت میں حج کیا جائے۔

(ابن‌ شهرآشوب‌، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۱، ص۲۶۶)


📚 امام صادق (ع) کا مقصد ان کاموں سے یہ تھا کہ وہ لوگ جو ان کی امامت کے قائل ہیں، اپنے اس عقیدہ سے دست بردار ہو جائیں۔

(طبرسی‌، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۵۴۶؛ ابن‌ شهر آشوب‌، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۱، ص۲۶۶)


⚪ پس حضرت اسماعیل کا امام جعفر صادق کی حیات میں وفات پا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ منصبِ امامت کے لیے مقرر نہیں تھے۔ اسی لیے امام جعفر صادقؑ کی شہادت، ۲۵ شوال ۱۴۸ ھجری، کے بعد منصبِ امامت امام موسیٰ کاظمؑ کی طرف منتقل ہوا، اور آپؑ ہی برحق ساتویں امام قرار پائے۔


⚪ شیعہ امامت کو صرف پیغمبر اکرم (ص) کے اہل بیت تک محدود سمجھتے ہیں۔ وہ مختلف شواہد اور قرائن کی بنا پر، جن میں سب سے اہم پچھلے امام کی طرف سے صریح نص، امام کا وسیع علمی ذخیرہ، اور عوام کے سوالوں کے جواب دینے کی صلاحیت شامل ہے، اپنے زمانے کے امام کی پہچان کرتے تھے۔ چوں کہ ظالم حکمران ہمیشہ معصوم اماموں پر دباؤ ڈالتے اور انھیں ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس لیے یہ فطری تھا کہ ائمہ اپنی ہدایات اور وصیتیں کھلے عام لوگوں تک نہیں پہنچا سکتے تھے۔ بعض اوقات تو وہ اپنے بعد والے امام کا نام بھی صاف صاف نہیں بتا سکتے تھے۔ اسی وجہ سے شیعہ معاشرے میں کچھ معمولی اختلافات اور شاخیں پیدا ہوگئیں، البتہ وقت گزرنے کے ساتھ سچائی ان لوگوں پر آشکار ہوگئی جو حقیقت کے طلب گار تھے۔

یہ ابہام بھی امامت شیعہ کی تاریخ کا ایک اہم نکتہ ہے، جو امویوں کے خاتمے اور عباسیوں کے بر سرِ اقتدار آنے کے کچھ ہی عرصے بعد تاریخ کے صفحے پر ابھرا۔

بنی عباس نے ایک طرف تو پیغمبر اکرم (ص) کے اہل بیت کی حمایت کے نعرے کے ساتھ اقتدار حاصل کیا تھا، اس لیے وہ ائمہ کے ساتھ بہت سخت برتاؤ نہیں کر سکتے تھے۔ دوسری طرف، چونکہ وہ اپنی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے تھے اور اماموں کی معاشرے میں فعال موجودگی کو اپنی خواہشات اور اہداف کے مطابق نہیں پاتے تھے، اس لیے ان بزرگوں کے ساتھ انھوں نے دوغلے رویے اختیار کیے۔ اس طرح کہ ظاہراً تو کسی حد تک ان کا احترام بھی کرتے، مگر حقیقت میں ہمیشہ ان کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔

📢 اس وقت کے حالات میں، اگر چھٹے امام (ع) کا جانشین باضابطہ اور کھلے عام شیعوں کو بتا دیا جاتا تو نو تشکیل شدہ عباسی خلافت کی طرف سے ان کی جان کو لاحق خطرہ کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔ چنانچہ جس طرح حضرت موسیٰ (ع) کی نبوت فرعون کے دربار میں موجودگی کے دوران پوشیدہ رہی، اسی طرح ساتویں امام کی امامت بھی ابتدا میں ابہام کے پردے میں چھپی رہی۔ اسی پوشیدگی کی وجہ سے شیعوں کے ایک گروہ نے بعض قرائن کی بنا پر امام صادق (ع) کے ایک بیٹے کو اگلا امام سمجھ لیا، حالانکہ انھوں نے امام (ع) سے اس بیٹے کے بارے میں کوئی خاص نص نہیں سنی تھی۔

شیعہ یہ احتمال دے رہے تھے کہ امام ہفتم، امام صادق (ع) کی ان تین اولاد میں سے کوئی ایک ہوں گے: اسماعیل، عبداللہ افطح، یا امام موسیٰ کاظم (ع)

اسی طرح یہ اختلافِ رائے شیعوں میں کچھ تحریکوں کا سبب بنا، جن کا اب ہم جائزہ لیتے ہیں:


✔️✔️✔️ سب سے پہلے وہ تحریک جس کا مرکز اسماعیل تھا، جو امام صادق (ع) کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ بہت سے شیعوں کا خیال تھا کہ معمول کے مطابق جس طرح بڑا بیٹا باپ کا جانشین ہوتا ہے، اسماعیل بھی اپنے والد کے بعد امام بنیں گے۔

اسی بنا پر امام صادق (ع) سے سوالات بھی کیے جاتے تھے، لیکن آپ پہلے بیان کردہ حالات کی وجہ سے کوئی واضح جواب نہیں دیتے تھے، بلکہ اشاروں اور کنایوں میں بات کرتے تھے۔ ہم انہی میں سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں:

📚 مفضل بن مرثد روایت کرتے ہیں: جب اسماعیل زندہ تھے، میں نے امام صادق (ع) سے پوچھا: کیا اللہ نے ہم پر اسماعیل کی اطاعت بھی اسی طرح واجب کر دی ہے جیسے ان کے باپ دادا کی تھی؟ (یعنی کیا وہ ہمارے اگلے امام ہیں؟) آپ نے جواب دیا: ”بات اس مقام تک نہیں پہنچتی!“ میں نے سمجھا کہ آپ مجھ سے تقیہ فرما رہے ہیں اور صحیح جواب نہیں دے رہے، لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد اسماعیل کا انتقال ہو گیا اور میں آپ کی مراد سمجھ گیا۔

(مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 47، ص 251–250)

📚 اسماعیل کی وفات کے بعد، امام صادق (ع) نے کوشش کی کہ ان کی موت کے بارے میں کسی بھی قسم کے شک و شبہے کو ختم کر دیں۔

(مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 47، ص254)

🔺 لیکن شیعوں میں سے ایک گروہ جس کی اسماعیل سے خاص دلچسپی تھی، اور کچھ دوست نما دشمنوں نے یہ قبول نہیں کیا کہ امامت کا سلسلہ اسماعیل کے علاوہ کسی اور بیٹے سے جاری ہو سکتا ہے۔ چنانچہ چھٹے امام (ع) کی وفات کے بعد انہوں نے اس سلسلے میں مختلف آراء کا اظہار کیا۔

1️⃣ پہلا گروہ یہ مانتا تھا کہ اسماعیل فوت نہیں ہوئے، بلکہ ان کے والد نے ان کی جان بچانے کے لیے منظر کشی کی تاکہ وہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔

2️⃣ دوسرا گروہ یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ اسماعیل حقیقتاً انتقال فرما گئے، لیکن اپنی وفات سے پہلے انہوں نے اپنے بیٹے محمد بن اسماعیل کو جانشین منتخب کر لیا تھا۔ اس گروہ کو اس وقت "مبارکیہ" کہا جاتا تھا، اور بعد میں یہی "قرامطہ" کہلائے جو بعد کی صدیوں میں ایک طاقتور سیاسی تحریک بنے۔ انہوں نے کچھ وجوہات کی بنا پر اسی مذہب کو اپنی کارروائیوں کی بنیاد بنایا، اور عملاً انہوں نے ہی اسماعیل کی امامت کے عقیدے کو، جبکہ اس کی کوئی حمایت باقی نہیں رہی تھی، ایک بار پھر معاشرے میں زندہ کیا۔

3️⃣ تیسرا گروہ، جو اسماعیلیہ میں سے تھا، محمد بن اسماعیل کو ہی ساتواں امام سمجھتا تھا۔ لیکن چونکہ اسماعیل کی طرف سے اپنے بیٹے کی امامت کے لیے وصیت کرنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا تھا جبکہ چھٹے امام (ع) خود زندہ تھے، اس لیے یہ لوگ ان کی امامت کو امام صادق (ع) کی وصیت سے ثابت سمجھتے تھے نہ کہ اسماعیل کے کہنے سے۔

(مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار ج 37، ص 10- 9)

🎓 اسماعیلی فرقے کے وجود میں آنے کے طریقے سے مختصر تعارف کے بعد، یہ بتانا ضروری ہے کہ محمد بن اسماعیل کے بعد، تقریباً ایک صدی تک اس فرقے کی کوئی خاص سرگرمی دیکھنے میں نہیں آتی۔

اور صرف کوفہ اور بحرین کے قرامطہ کے ظہور کے ساتھ، جنہیں مذہبی گروہ سے زیادہ سیاسی جماعت سمجھا جاتا تھا، ایک بار پھر محمد بن اسماعیل کا نام زبانوں پر آ گیا اور ان کے لیے ”قائم“ کا لقب استعمال ہونے لگا۔ بعد کے زمانوں میں مصر کے فاطمیوں اور دروزیوں جیسے گروہ بھی اسی عقیدے کی طرف مائل ہوئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ”اسماعیلیہ“ مذہب کی تشکیل کی کوئی واضح بنیادیں موجود نہیں ہیں، نہ ہی اس میں تسلسل اور استحکام پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں آپ تفصیلی کتب کا رجوع کر سکتے ہیں۔


✔️✔️✔️ دوسری تحریک عبداللہ افطح کے گرد مرکوز تھی، جو امام صادق (ع) کے وہ بیٹے تھے جو اسماعیل سے چھوٹے اور امام کاظم (ع) سے بڑے تھے۔ ممکن ہے کہ وہی ذہنیت جو شیعوں میں موجود تھی کہ امام کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا ہی باپ کا جانشین ہوگا، اس تحریک کی تشکیل میں اثرانداز ہوئی ہو جسے ”فطحیہ“ کہا جاتا تھا! خود عبداللہ بھی اس بات سے خالی نہ تھے کہ وہ ساتویں امام کے طور پر پہچانے جائیں۔

(کافی، ج 1، ص 351)

🙂‍↔️ لیکن جب ان سے دینی سوالات کیے گئے اور وہ ان کے جواب دینے سے قاصر رہے، نیز ان سے ایسے رویے صادر ہوئے جو امام کے مرتبے کے شایانِ شان نہ تھے، اور ان میں ایک ایسا عیب پایا گیا جس سے امام کو پاک ہونا چاہیے، تو ان شیعوں کی ایک بڑی تعداد جو ان کے گرد جمع ہو گئی تھی، اپنے عقیدے سے باز آ گئی۔ پھر ان روایات کی روشنی میں جو بتاتی تھیں کہ امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے بعد امامت دو بھائیوں کو نہیں ملے گی، انہوں نے صرف امام موسیٰ کاظم (ع) کی امامت کو تسلیم کر لیا اور اپنی سابقہ غلطی کو سمجھ گئے۔ بہت دن نہیں گزرے کہ عبداللہ نے ستر دن کے بعد دنیا سے وداع کہہ دیا، اور ان کے چند باقی ماندہ ماننے والے بھی جو ابھی تک ان کی امامت پر قائم تھے، دوسرے شیعوں میں شامل ہو گئے۔ امام صادق (ع) نے ان واقعات کی پیش گوئی کرتے ہوئے اپنے بیٹے امام ہفتم (ع) کو نصیحت فرمائی تھی: ”تمہارا بھائی میرے بعد خود کو میرا جانشین بنائے گا اور امامت کا دعویٰ کرے گا۔ میرے بیٹے! تم اس سلسلے میں اس سے کوئی گفت و شنید یا جھگڑا نہ کرنا، کیونکہ یہ میرے خاندان کا پہلا فرد ہوگا جو میرے بعد وفات پائے گا اور مجھ سے جا ملے گا۔“

(رجال کشی، ص 255 – 254، انتشارات دانشگاه مشهد، 1348 هـ ش)

جیسا کہ آپ نے دیکھا، عبداللہ ان ستر دنوں میں امام نہیں تھے، بلکہ صرف امامت کا دعویٰ کیا تھا جو ان کی جلد موت کے ساتھ خود بخود ختم ہو گیا۔ آج کوئی بھی اس مکتب کا پیرو نہیں ہے اور نہ ہی عبداللہ کی امامت کو ماننے والا ہے، لہٰذا قدرتی طور پر اس بارے میں بحث بھی بےسود ہوگی۔


✔️✔️✔️ تیسرا سلسلہ، جو دراصل شیعہ کا اصل اور مستند سلسلہ ہے، اس کے پیروکار یا تو شروع ہی سے یا پھر بالآخر امام موسیٰ کاظم (ع) کے گرد جمع ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگرچہ امام صادق (ع) نے اپنی جانشینی کا معاملہ تمام شیعوں پر علنی نہیں کیا تھا بلکہ اس طرح برتاؤ کیا کہ دشمن شک میں پڑ جائیں اور کوئی کارروائی نہ کر سکیں، تاہم امام صادق (ع) نے اپنی جانب سے بعض خاص شیعوں کو امام کاظم (ع) کی امامت کے بارے میں خصوصی اور خفیہ وصیتیں کی تھیں۔

(کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، ج 1، باب الاشاره و النص علی ابی الحسن موسی (ع) ص 311 - 308 ، با 16 روایت)

اور نیز وہ قرائن اور شواہد جو ان کی رحلت کے بعد ظاہر ہوئے، انہوں نے زیادہ تر شیعوں کے لیے کوئی شک نہیں چھوڑا کہ ساتواں امام وہی امام موسیٰ کاظم (ع) ہیں، اور جو ابہامات پیدا ہوئے تھے، ان کی بنیادی وجہ اُس وقت کے موجودہ حالات تھے۔

اب اُس دور اور اُس وقت کے خلیفہ (منصور دوانیقی) کی طرف سے امام ہفتم کو قتل کرنے کی سازشوں کو سمجھنے کے لیے ہم دو روایات نقل کرتے ہیں جو خود امام کاظم (ع) کی امامت کی دلائل میں سے بھی شمار ہوتی ہیں:

📚 پہلی روایت: ابو ایوب نحوی، جو منصور (بنی عباس کے حاکمِ وقت) کے درباریوں میں سے تھا، نقل کرتا ہے کہ آدھی رات کو منصور نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ میں حاضر ہوا تو اسے دیکھا کہ وہ ایک کرسی پر بیٹھا ہے اور شمع کی روشنی میں ایک خط پڑھ رہا ہے۔ جب میں نے اسے سلام کیا تو وہ روتے ہوئے خط کو میری طرف پھینکتے ہوئے بولا: ”یہ محمد بن سلیمان (مدینہ کے حاکم) کا خط ہے جس میں اس نے مجھے جعفر بن محمد (ع) کی وفات کی خبر دی ہے... کیا اب اس جیسا کوئی شخص مل سکتا ہے؟!“ (لیکن اتنا دکھ ظاہر کرنے کے باوجود) اس نے مجھ سے کہا کہ میں مدینہ کے حاکم کو یہ جواب لکھ دوں: 

”اگر اس (امام ششم) نے کسی خاص شخص کو اپنا وصی بنایا ہے تو اُسے اپنے پاس بلاؤ اور اس کی گردن اُڑا دو!“ 

لیکن دوبارہ مدینہ کے حاکم کی طرف سے جواب آیا: ”انہوں نے پانچ افراد کو وصی بنایا ہے، جن میں سے ایک خود آپ (یعنی خلیفہ عباسی) ہیں، دوسرا میں ہوں، اور باقی تین یہ ہیں: حمیدہ (ان کی اہلیہ)، عبداللہ اور موسیٰ (ع)!“

(کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، ج 1، ص 310، روایت 13، دار الکتب الاسلامیه، تهران، 1365 هـ ش)

📚 ایک اور روایت بھی ہے جو اُس زمانے کے خفقان آمیز ماحول کو مزید واضح کرتی ہے: ہشام بن سالم نقل کرتے ہیں: چھٹے امام (ع) کی رحلت کے بعد، میں اور مؤمن طاق مدینہ میں تھے۔ ہم نے دیکھا کہ بیشتر شیعہ اس روایت کی بنا پر کہ ”اگر امام کا بڑا بیٹا کسی قسم کی مشکل (یعنی عیب یا کمزوری) میں مبتلا نہ ہو تو وہ اپنے باپ کا جانشین ہوگا“، عبداللہ (افطح) کو ساتواں امام مان چکے تھے۔ میں اور میرا ساتھی اس کے پاس گئے، اور وہ سوالات جو ہم نے پہلے امام صادق (ع) سے پوچھ کر ان کے جوابات حاصل کیے تھے، ان میں سے ایک نمونہ عبداللہ کے سامنے رکھا۔ لیکن اس نے امام صادق (ع) کے جواب کے بالکل برعکس جواب دیا! ہم بے حد پریشان اور افسردہ ہو کر اس کے گھر سے نکل آئے، اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کس دوسرے شخص کے پاس جائیں۔ یہاں تک کہ ہمیں شیعہ میں رہنے میں بھی شک ہونے لگا، خاص طور پر جب اس دور میں مختلف مذہبی خیالات جیسے مرجئہ، قدریہ، معتزلہ، زیدیہ اور خوارج وغیرہ موجود تھے، تو ہم نہیں جانتے تھے کہ ان میں سے کسے اپنا نیا مذہب بنائیں۔ ہم اسی طرح حیران اور روتے ہوئے مدینہ کی ایک گلی میں بیٹھے تھے کہ ایک ناشناس بوڑھے نے مجھے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔

یاد رہے کہ اس وقت عباسی خلیفہ منصور دوانیقی نے مدینہ میں جاسوس لگا رکھے تھے تاکہ یہ معلوم کریں کہ چھٹے امام کی وفات کے بعد شیعہ کس کے گرد جمع ہو رہے ہیں، پھر اگلے امام کو پہچان کر اسے قتل کروا دیں۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں یہ بوڑھا بھی انہی جاسوسوں میں سے نہ ہو۔ چنانچہ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ”اس نے صرف مجھے اشارہ کیا ہے، تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں، بہتر ہے تم مجھ سے کچھ فاصلہ کر لو اور بے جا اپنے آپ کو موت کے منہ میں مت ڈالو۔“ میرے ساتھی نے کچھ دور ہو کر کھڑے ہو گئے، اور میں جب اپنے لیے کوئی راہِ نجات نہ پا سکا تو اس بوڑھے کے ساتھ چل پڑا۔ راستے میں ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے موت دیکھ رہا تھا، یہاں تک کہ بوڑھا مجھے امام موسیٰ کاظم (ع) کے گھر کے پاس چھوڑ کر خود کسی اور طرف چلا گیا۔

اسی دوران امام کے گھر سے ایک خادم باہر آیا اور مجھے اندر لے گیا، وہاں اچانک میری ملاقات امام کاظم (ع) سے ہو گئی۔ انہوں نے بلا مقدمہ میرے ذہن میں آئے ہوئے تمام منحرف مذہبی خیالات کو گنوا دیا اور فرمایا: ”میرے پاس آؤ، ان باطل عقائد کی طرف مائل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔“ میں نے پوچھا: ”کیا واقعی آپ کے والد صاحب (امام صادق ع) رحلت فرما گئے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: ”ان کے بعد امام کون ہے؟“ فرمایا: ”اگر خدا چاہے گا کہ تمہیں امامت کی طرف راہنمائی کرے تو ضرور کر دے گا۔“ میں نے کہا: ”آپ کے بھائی عبداللہ کا خیال ہے کہ وہ والد صاحب کے جانشین ہیں!“ فرمایا: ”اس نے اس کام سے خدا کی بندگی سے نکلنے کا ارادہ کر لیا ہے۔“ میں نے پوچھا: ”کیا آپ خود امام ہیں؟“ فرمایا: ”میں نے یہ نہیں کہا۔“ پھر میں نے دل میں سوچا کہ اپنے سوال کو دوسرے انداز میں پیش کروں، چنانچہ میں نے عرض کیا: ”کیا اس وقت آپ پر کوئی امام ولایت رکھتا ہے؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ یہ سن کر اور ان کی امامت کا یقین ہو جانے کے بعد اچانک میرے دل میں ان کی عظمت اور ہیبت بیٹھ گئی، ایسی کیفیت میں نے امام صادق (ع) کے بارے میں بھی محسوس نہیں کی تھی۔ پھر میں نے عرض کیا: ”کیا میں وہی سوالات جو آپ کے والد سے کیا کرتا تھا، آپ سے بھی پوچھ سکتا ہوں؟“ انہوں نے اجازت تو دے دی لیکن فرمایا: ”اس کی خبر مت پھیلانا، کیونکہ اس طرح کی خبریں پھیلانے سے میرا قتل ہو جائے گا۔“ پھر میں نے ان سے سوالات پوچھے اور انہیں ایسا سمندر پایا جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔ میں نے عرض کیا: ”اس وقت شیعہ سخت حیرانی اور سرگردانی کا شکار ہیں، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خبر مت پھیلاؤ، تو میں لوگوں کو آپ کی طرف کیسے راہنمائی کروں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”پہلے تم صرف قابلِ اعتماد لوگوں سے یہ بات کہو اور انہیں رازداری کی تاکید کرو، اور جان لو کہ اگر یہ معاملہ (بغیر ضروری مقدمات طے کیے) پھیل گیا تو میرے سر کے اڑنے کا سبب بنے گا“ – اور اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا۔ یہ سن کر میں نے اپنے ساتھی اور فضیل، ابو بصیر جیسی ممتاز شخصیات کو اس واقعے سے آگاہ کر دیا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد تمام شیعوں کی توجہ امام کاظم (ع) کی طرف مبذول ہو گئی اور عبداللہ کے گرد چھاؤنی خالی ہو گئی۔ عبداللہ نے مجھے اس سارے معاملے کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے کچھ لوگوں کو کرائے پر رکھا تاکہ وہ مجھے مار پیٹ کریں۔

(کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، ج 1، ص 352 – 351، روایت 7)


✍🏻 مذکورہ بالا دو روایات اور دیگر تاریخی شواہد کی روشنی میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امام صادق (ع) شروع ہی سے اپنے جانشین کو پہچانتے تھے، لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے انہوں نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے امام ہفتم (ع) دشمنوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ دشمن ہر لمحہ گھات میں بیٹھے تھے کہ جیسے ہی نئے امام کی شناخت ہو جائے، انہیں قتل کر دیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس الٰہی تدبیر کے ذریعے، جس پر امام ششم (ع) عمل پیرا تھے، دشمنوں کی سازش ناکام ہو گئی۔ عباسی خلیفہ کافی عرصے تک سرگرداں رہے کہ آخر امام صادق (ع) کا وصی اور ساتواں امام کون ہے؟ جب حقیقت ان پر کھلی تو کام کا کام ہو چکا تھا اور امام کاظم (ع) کی شیعوں کے درمیان پوزیشن مضبوط ہو چکی تھی، اور پھر انہیں قتل کرنا حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ البتہ اس کے باوجود خلفاء نے امام کو اذیت دینے سے ہاتھ نہیں کھینچا اور مسلسل انہیں ایک جیل سے دوسری جیل منتقل کرتے رہے تاکہ ان کے الٰہی مشن میں خلل ڈالیں، لیکن امام ششم (ع) کی حکمت عملی کے نتیجے میں شیعہ طبقہ زیادہ عرصے تک امام موسیٰ بن جعفر (ع) کی رہنمائی سے فیضیاب ہوتا رہا۔


سید شہروز زیدی