"الہام" سے کیا مراد ہے؟ کیا الہام کسی شخص کے لیے یقین آور ہے؟ الہام اور وسوسہ شیطان میں کیسے فرق کریں؟ کیا الہام خواب میں بھی ہو سکتا ہے؟

سوال: "الہام" سے کیا مراد ہے؟ کیا الہام کسی شخص کے لیے یقین آور ہے؟ الہام اور وسوسہ شیطان میں کیسے فرق کریں؟ کیا الہام خواب میں بھی ہو سکتا ہے؟



✍🏻 علامہ سید شہروز زیدی



باسمه تعالیٰ،

📄 عرفاء و فلاسفہ اسلامی کے مطابق "الہام" مؤمن کے دل میں غیب کی دنیا سے حقیقت یا حقائق کے پہنچنے کو کہتے ہیں، جو اکثراً اسے نیک امور کی طرف مشتاق کر دیتا ہے۔

📄 الہام کا اصطلاحی معنی حق کی طرف بغیر کسی معمولی اور ظاہری سبب کے دل میں یقین یا ظن یا رجحان پیدا ہونے کا ہے جو خدا کی رحمت سے صادر ہوتا ہے اور اسے اختیاری امر نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا، باطل کی طرف بغیر کسی معمولی اور ظاہری سبب کے دل میں یقین یا ظن یا رجحان کا پیدا ہونا الہام نہیں، بلکہ وسوسہ ہے جو شیطان کے القاء سے صادر ہوتا ہے۔

جیسا کہ حق کی طرف کسی معمولی اور ظاہری سبب کے ساتھ دل میں یقین یا ظن یا رجحان کا پیدا ہونا، جیسے کوئی چیز دیکھنا یا سننا یا پڑھنا الہام نہیں، بلکہ تنبہ یا تفقہ ہے اور اسے اختیاری امر سمجھا جاتا ہے۔


📄 البته الہام لغوی اور عام معنٰی میں، بغیر کسی معمولی اور ظاہری سبب کے کسی بھی چیز کی طرف دل میں یقین یا ظن یا رجحان کے پیدا ہونے کو شامل ہے اور اس اعتبار سے اسے "الہام الٰہی" اور "الہام شیطانی" میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جیسے "وحی" جو قرآن میں دو قسموں الٰہی اور شیطانی میں تقسیم ہوئی ہے۔

جیسا کہ الٰہی وحی کے بارے میں ارشاد فرمایا:

كَذَلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

"اسی طرح اللہ تعالیٰ جو غالب اور حکیم ہے، آپ کی طرف اور آپ سے پہلے لوگوں کی طرف وحی فرماتا ہے۔"

(الشّوری/ ۳)

اور ارشاد فرمایا:

وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ

"اور آپ اس چیز کی پیروی کریں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔"

(الأحزاب/ ۲)

اور شیطانی وحی کے بارے میں ارشاد فرمایا:

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا

"اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنایا جو دھوکہ دینے کے لیے ایک دوسرے کو آراستہ باتوں کی وحی کرتے ہیں۔"

(الأنعام/ ۱۱۲)

اور ارشاد فرمایا:

وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

"اور بے شک شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو یقیناً تم مشرک ہو جاؤ گے۔"

(الأنعام/ ۱۲۱)


📄 الہام اور وحی کا باہمی تعلق اور الہام کے حصول کے راستے، مسلمان علماء کے درمیان اختلافی مسائل میں سے ایک ہیں۔ 

الہام، عرفاء اور مکتبِ حکمتِ صدرائی کے فلاسفہ کے نزدیک (مشائیوں کے برعکس) شناخت اور معرفت کے لیے ایک منبع ہونے کی حیثیت سے حجیت رکھتا ہے۔ یہ غیبی امر براہِ راست خداوند کی جانب سے یا فرشتوں کے واسطے سے ہو سکتا ہے۔


📄 الہامِ الٰہی اور وحیِ الٰہی اس اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں کہ وحیِ الٰہی ہمیشہ حق کے بارے میں یقین پیدا کرتی ہے اور کبھی محض ظن یا صرف دل کے رجحان کا باعث نہیں بنتی اور اس اعتبار سے الہامِ الٰہی سے مخصوص تر ہے۔ نیز، وحی اگرچہ کوئی معمولی سبب نہیں رکھتی، لیکن ایک ظاہری سبب رکھتی ہے؛ کیونکہ جس شخص کو یہ ملتی ہے، وہ اسے واضح طور پر دیکھتا یا سنتا ہے اور اس طرح اس کے یقین کا سبب اس پر مخفی نہیں رہتا۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ الہام محض ایک ذہنی اور باطنی ادراک یا رجحان ہے اور اس کی کوئی محسوس اور خارجی حقیقت نہیں، جبکہ وحی مکمل طور پر محسوس اور خارجی ہے اور محض انسانی ذہن اور باطن میں نہیں ہے۔


📄 الہام، جب ظن یا دل کے رجحان کی حد تک ہو تو حجت نہیں ہے؛ کیونکہ ظن اور دل کا رجحان ذاتاً حجت نہیں ہیں؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پیروکاروں کی مذمت کی ہے اور ارشاد فرمایا:

إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ

"وہ صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں اور اس چیز کی جو نفوس چاہتے ہیں۔"

(النّجم/ ۲۳)

بلکہ الہام، جب یقین کی حد تک ہو تو بھی اپنی ذات میں حجت نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں یقین کا سبب معلوم نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ

"اور اس چیز کی پیروی نہ کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔"

(الإسراء/ ۳۶)

الہام، جب الٰہی ہو تو صرف اس اعتبار سے مفید ہے کہ بغیر کراہت اور بدگمانی کے حق کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق کرنے کا باعث بنتا ہے اور یہ شناخت کو بہت آسان اور تیز کر دیتا ہے؛ اس بات کے پیش نظر کہ حق کے بارے میں اس کے مطالعہ اور تحقیق سے پہلے کراہت اور بدگمانی اس کی شناخت کی اہم ترین رکاوٹوں میں سے ہے اور بہترین صورت میں ممکن ہے کہ اس کی شناخت کو مشکل اور مؤخر کر دے۔ اس لیے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو حق کی حقانیت کو اس پر الہام فرما دیتا ہے؛ یعنی اس کے دل میں اس کے بارے میں یقین یا ظن یا رجحان ڈال دیتا ہے، تاکہ وہ آسانی اور تیزی سے اسے پہچان لے اور قبول کر لے۔ یہ نظری اور دینی امور کے سلسلے میں الہامِ الٰہی کا واحد فائدہ ہے، لیکن الہامِ الٰہی عملی اور دنیوی امور کے سلسلے میں بھی ممکن اور واقع ہوتا ہے؛ جیسے حال یا مستقبل میں کسی برے یا اچھے حادثے کے پیش آنے کا یقین یا ظن اور جیسے منافع بخش لین دین کی طرف دل کا رجحان اور جیسے کسی بری نیت رکھنے والے سے نفرت یا خوف۔ یہ بھی ایک الہامِ الٰہی ہے جسے کبھی «فراست» کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کا فائدہ حادثے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا اور نقصان سے بچنا ہے۔

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث میں ہے:

اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ، فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَـآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ﴾

"مومن کی فراست سے بچو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: بے شک اس میں تیز نظر رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"

(الكافي للكليني، ج۱، ص۲۱۸)


🛑 الہام کے حصول کا طریقہ:

✔️ عرفاء کا نظریہ ہے کہ الہام کوئی ایسا عمل نہیں ہے جو شخص کے اختیار میں ہو اور وہ کچھ فنون اور اعمال سیکھ کر اس تک پہنچ سکے، بلکہ بندہ شریعت کی تعلیمات پر توجہ دینے یا دل کی پاکیزگی کے ذریعے اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اس پر الہام کیا جائے۔

✔️ حکما (فلاسفہ) کا نظریہ ہے کہ الہام کا تعلق انسان کے نفس کا افلاک کی ارواح سے ہونے والے رابطے پر منحصر ہے، اور دنیاوی تعلقات اور مادیات سے آزاد ہو کر نفس اس مرتبے تک پہنچ سکتا ہے کہ وہ عالمِ غیب کو اسی طرح دیکھ سکے جیسے عالمِ محسوس و مشہود کو دیکھتا ہے۔

(ابن سینا، الاشارات...، ج۴، ص۱۴۲- ۱۴۵)

✔️ بعض صوفیاء فلاسفہ کے اس تجزیے کی طرف متوجہ ہیں اور مانتے ہیں کہ اگر بیداری کی حالت میں انسان کے نفسِ ناطقہ اور فلک کے نفس کے درمیان رابطہ اور تعامل واقع ہو، تو اس حالت میں بغیر اس کے کہ کوئی فرشتہ انسان کے لیے حاضر ہو، اس پر الہام واقع ہوتا ہے۔

(نسفی، الانسان الکامل، ص۲۳۵، ۲۳۹، ۲۴۱، ۳۲۴)


📄 خواب (رؤیا) الہام شمار نہیں ہوتا، کیونکہ یہ محض ایک ذہنی اور باطنی ادراک یا رجحان نہیں، بلکہ ایسی چیز ہے جو غیر بیداری میں دیکھی اور سنی جاتی ہے۔ خواب کی حجیت، خواب دیکھنے والے یا اس کی تعبیر کرنے والے کی حجیت کے تابع ہوتی ہے۔ یعنی جس شخص کی بیداری میں حجیت معلوم ہو، اس کا خواب حجت ہے؛ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

"پھر جب وہ (اسماعیل) اس کے ساتھ (سنِ) سعی کو پہنچا تو اس نے کہا: میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس دیکھ تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے میرے والد! وہ کام کر جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، عنقریب آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔"

(الصّافّات/ ۱۰۲)

اور جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خواب جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ

"یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچ کر دکھایا، تم ان شاء اللہ ضرور امن کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل ہو گے۔"

(الفتح/ ۲۷)

نیز، جس شخص کی بیداری میں حجیت معلوم نہ ہو، لیکن جس کی بیداری میں حجیت معلوم ہو وہ اس کی تصدیق اور تعبیر کرے، تو اس کا خواب حجت ہے؛ جیسے فرعون کا خواب جس کی حضرت یوسف علیہ السلام نے تصدیق اور تعبیر کی [سورۂ یوسف، آیات ۴۳ تا ۴۹]، لیکن دوسروں کا خواب حجت نہیں ہے؛ کیونکہ بیداری کی طرح خواب میں ان کی غلطی ممکن اور عام ہے اور اس صورت میں نہ صرف دوسرے لوگوں کے لیے، بلکہ خود ان کے لیے بھی حجت نہیں ہے، خاص طور پر عقائد یا دینی احکام کے سلسلے میں، جیسا کہ اہلبیت سے معتبر حدیث میں ہے:

إِنَّ دِينَ اللَّهِ أَعَزُّ مِنْ أَنْ يُرَى فِي النَّوْمِ

"بے شک اللہ کا دین اس سے زیادہ استوار ہے کہ خواب میں دیکھا جائے۔"

(الكافي للكليني، ج۳، ص۴۸۲)


ہاں، اگر دوسرے لوگ کوئی خواب دیکھیں جس کی صحت کے لیے کوئی قطعی دلیل موجود ہو، تو وہ اپنے خواب پر عمل کر سکتے ہیں اور اس کی صحت کے لیے قطعی دلیل، بیداری میں کسی محسوس حقیقت کی خبر ہے جو ان کے لیے مطلقاً معلوم نہ تھی؛ مشروطہ یہ کہ خواب کا مفہوم عقلی اور شرعی قطعیات کے خلاف نہ ہو؛ کیونکہ اگر اس کا مفہوم عقلی اور شرعی قطعیات کے خلاف ہو تو بیداری میں کسی محسوس حقیقت کی خبر جو ان کے لیے مطلقاً معلوم نہ تھی، فتنہ اور آزمائش کا پہلو رکھتی ہے، تاکہ معلوم ہو کہ ان میں سے کون عقلی اور شرعی قطعیات کی پیروی کرتا ہے اور کون اس خواب کی جو ان کے خلاف ہے۔ یہ صورت اس وقت ہے جب خواب کی تعبیر کو عقلی اور شرعی قطعیات کے موافق بنانا ممکن نہ ہو؛ کیونکہ بصورت دیگر اسے اس طرح تعبیر کرنا چاہیے جو عقلی اور شرعی قطعیات کے موافق ہو۔ 

پس غیر معصوم افراد کا خواب، اس کی صحت کے لیے قطعی دلیل کے بغیر قابل قبول نہیں ہے اور جس خواب کی صحت کے لیے قطعی دلیل موجود ہو، اسے اس طرح تعبیر کیا جانا چاہیے جو عقلی اور شرعی قطعیات کے موافق ہو۔


واللہ اعلم