شرعی طور پر مرد کو دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، مرد اگر دونوں بیویوں کے حقوق برابری کے ساتھ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو شرعاً دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت ضروری نہیں، بلکہ بیوی کی اجازت کے بغیر بھی مرد کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہوگا البتہ اگر بیوی مرد کو باقاعدہ دوسری شادی کی اجازت دے دیتی ہو تو ایسی صورت میں کوئی گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
قانون پاکستان کے مطابق دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے تحریری
اجازت نامے کے لیے یونین کونسل کے چیئرمین کو درخواست دینی ہوتی ہے جس میں دوسری مجوزہ
شادی کی وجوہات اور پہلی بیوی سے اجازت حاصل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں آگاہ کیا
جاتا ہے۔ یونین کونسل چیئرمین یہ درخواست موصول ہونے پر شوہر اور بیوی سے اپنی اپنی
جانب سے ایک، ایک رکن نامزد کرنے کے لیے کہتے ہیں جس کے نتیجے میں چیئرمین کی سربراہی
میں ’ثالثی کمیٹی‘ تشکیل پاتی ہے۔ یہ ثالثی کمیٹی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی
کی وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔ قانون کے
مطابق کچھ مواقع پر اگر ثالثی کمیٹی کی اجازت کے بغیر شادی کی جائے تو ایسا کرنے کی
صورت میں مرد کو سزا ہو سکتی ہے یا اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ سزا ایک برس
تک قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔
آن لائن (Online) دوسرا نکاح پڑھوانے کے لیے مندرجہ ذیل اسناد
کی تصاویر (Scan) واٹساپ پر بھیج دیں۔
۱۔ لڑکے (دلہا) کا شناختی
کارڈ
۲۔ لڑکی (دوسری بیوی) کا شناختی کارڈ
۳۔ یونین کونسل کا تحریری اجازت نامہ
۳۔ چھ گواہوں کے شناختی کارڈ (دو لڑکی کی طرف سے، دو لڑکے کی طرف سے، دو شادی کے گواہان)
