کیفیت و شرط ِوجوب نماز ِ جمعہ

 

کیفیت  و شرط ِوجوب نماز ِ جمعہ

فقہاء نے اتفاق کیا ہے کہ نمازِ جمعہ واجب تعیینی ہے اگر اِسے معصومؑ یا ان کے مقرر کردہ شخص کے ذریعے ادا کیا جائے، جبکہ غیبتِ امامؑ میں اس کے بارے میں اختلاف ہے۔
اکثر فقہاء نے اس قول کو اختیار کیا کہ نمازِ جمعہ واجب تخییری ہے۔

نمازِ جمعہ کے بارے میں تین ابحاث مہم ہیں:
۱۔ اس کے وجوب کے بارے میں
۲۔اس وجوب کی کیفیت کے بارے میں
۳۔کیا نمازِ جمعہ کے وجوب (یا صحت) کی شرط امام معصوم کا حاضر ہونا ہے؟

نمازِ جمعہ کا اصل وجوب تو مُسلَم و ثابت ہے، لیکن یہ کہ آیا اس کا وجوب تعیینی ہے یا تخییری[1]، اور کیا یہ امام کی موجودگی پر موقوف ہے۔

سیرت مسلمین یہ رہی تھی کہ  کی جمعہ کے دن مسجدوں میں بیٹھا کرتے تھے تاکہ خلیفہ آئے اور نمازِ جمعہ قائم کرے، اور اگر خلیفہ نہ آتا تو وہ نمازِ ظہر پڑھ لیتے تھے۔  اگر کوئی یہ کہے کہ اس مسئلے کی علت تقیہ ہے، یعنی نمازِ جمعہ پڑھنا واجب ہے لیکن جابر خلفاء نے اس منصب کو غصب کر لیا تھا، تو اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ تقیہ یا وہ رسمی طرزِ عمل جو ظالم خلفاء کے ذریعے پیدا ہوا، وہاں قابلِ تصور ہے جہاں اہلِ سنت ایک ہی مذہب رکھتے ہوں، حالانکہ اہلِ سنت کے درمیان نمازِ جمعہ اور خلیفہ کے بارے میں مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے خلیفہ کی موجودگی شرط ہے، جبکہ بعض کے نزدیک خلیفہ کی موجودگی شرط نہیں۔ جب خود اہلِ سنت کے درمیان اختلاف موجود ہو، تو پھر تقیہ کا جواز باقی نہیں رہتا لہٰذا اگر ائمہ علیہم السلام فرمائیں کہ نمازِ جمعہ کی شرط امام کی موجودگی ہے، تو اسے تقیہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ شیعوں کی سیرت ہمیشہ یہی رہی کہ وہ خود نمازِ جمعہ قائم نہیں کرتے تھے اور اس کے احکام بھی نہیں سیکھتے تھے۔ پس ظاہر ہے کہ یہ سیرت ہمیں خود معصوم علیہ السلام سے پہنچی ہے۔ اس طرح کی بے شمار نشانیاں پائی جاتی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی نہیں ہے۔
فقہا کے اقوال میں اجماع کا دعویٰ پایا جاتا ہے، اور بعض نے نمازِ جمعہ کو واجبِ تعیینی قرار دیا ہے جبکہ بعض نے اس کے برعکس رائے دی ہے۔ چونکہ علما کے اقوال مختلف ہیں — مثلاً شیخ طوسی نے کتاب الخِلافُ فی الأحکام میں جو فتویٰ دیا ہے وہ سید مرتضیٰ کے فتوے کے برعکس ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں کوئی اجماع موجود نہیں ہے، مزید یہ کہ اگر بالفرض اجماع کا دعویٰ کیا بھی جائے تو وہ اس مسئلے میں مفید نہیں، کیونکہ اتفاقِ رائے سرے سے پایا ہی نہیں جاتا۔
مرحوم کلینی نے الکافی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی ہے، لیکن جو روایات انہوں نے نقل کی ہیں وہ اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتیں، اور یہ بعید ہے کہ مرحوم کلینی کے پاس کوئی اور روایت ہو جسے انہوں نے نقل نہ کیا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحوم کلینی نے اپنی ذاتی فہم کو باب کے عنوان کے طور پر ذکر کیا ہے۔
آیت اللہ بروجردی جیسے بعض کا خیال ہے کہ مرحوم کلینی کے پاس کچھ روایات تھیں جنہیں انہوں نے ذکر نہیں کیا، لیکن یہ بات معقول نہیں کہ کوئی شخص کسی باب کا عنوان کسی چیز پر رکھے مگر اس باب سے متعلق روایات نقل نہ کرے۔
نتیجہ یہ ہے کہ سیرت کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ روایات میں سے کوئی بھی وجوبِ تعیینی کو ثابت نہیں کرتی۔ دوسرے لفظوں میں، سیرت ان روایات کے مراد پر ایک قرینۂ لُبّی (یعنی عقلی و عملی قرینہ) کے طور پر کام کرتی ہے۔
بعض، جیسے شیخ صدوق، نمازِ جمعہ کو واجبِ تعیینی قرار دیتے ہیں۔

نمازِ جمعہ کا تعیینی یا تخییری ہونے کے بارے  میں ایک روایت نقل کرتے ہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ نمازِ جمعہ واجب ہے۔ روایت کا مضمون یہ ہے کہ:
مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع قَالَ: إِنَّمَا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ خَمْساً وَ ثَلَاثِينَ صَلَاةً مِنْهَا صَلَاةٌ وَاحِدَةٌ فَرَضَهَا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي جَمَاعَةٍ وَ هِيَ الْجُمُعَةُ وَ وَضَعَهَا عَنْ‏ تِسْعَةٍ عَنِ الصَّغِيرِ وَ الْكَبِيرِ وَ الْمَجْنُونِ وَ الْمُسَافِرِ وَ الْعَبْدِ وَ الْمَرْأَةِ وَ الْمَرِيضِ وَ الْأَعْمَى وَ مَنْ كَانَ عَلَى رَأْسِ فَرْسَخَيْنِ[2]
ترجمہ:
" محمد بن علی بن حسین نے اپنی سند کے ساتھ زرارہ بن اعیان سے اور وہ ابو جعفر امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ:بے شک اللہ عز وجل نے لوگوں پر جمعہ سے جمعہ تک پینتیس نمازیں فرض فرمائیں، جن میں سے ایک نماز اللہ تعالیٰ نے جماعت کے ساتھ فرض فرمائی اور وہ نماز جمعہ ہے۔ اور اس نے اس فرض کو بچوں، بوڑھوں، پاگل، مسافر، غلام، عورت، بیمار، نابینا اور وہ شخص جو دو فرسخ کے فاصلے پر ہو، سے معاف فرمایا۔"

حدیث کے صدر میں فرمایا گیا ہے کہ خداوند نے لوگوں پر فرض کیا ہے … اور ایک اور جگہ فرمایا کہ جماعت کرنا بھی واجب ہے۔ یہ روایت دو مرتبہ کہتی ہے کہ نمازِ جمعہ فرض ہے، تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح فرمایا "فرض ہے" اس کا مطلب فرضِ تعیینی ہے؟ یا یہ کہنا درست ہے کہ روایت صرف نمازِ جمعہ کے فرض ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور فرضِ تعیینی کی کیفیت بیان نہیں کرتی۔ لہٰذا حدیث کے صدر سے واجبِ تعیینی کا مطلب نہیں نکالا جا سکتا۔
حدیث کے ذیل میں فرمایا گیا: وَ وَضَعَهَا عَنْ‏ تِسْعَةٍ عَنِ الصَّغِيرِ وَ الْكَبِيرِ و …… کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نمازِ جمعہ ان نو گروہوں کے علاوہ دوسروں پر واجبِ تعیینی ہے؟ اگر روایت یہ کہتی کہ اللہ عزوجل نے نمازِ جمعہ ان نو گروہوں سے ہٹا دی ہے، تو کہا جا سکتا تھا کہ باقی افراد پر نمازِ جمعہ واجب ہے، لیکن روایت میں فرمایا گیا ہے کہ ان نو گروہوں سے چھوٹ دی گئی ہے، اور ایک گروہ وہ ہے جس کا فاصلہ دو فرسخ یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی نہیں ہے اور نمازِ جمعہ کسی مخصوص مقام پر ادا کی جاتی ہے۔ اس صورت میں اگر نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی ہوتی تو ان افراد کو بھی کہا جاتا کہ اپنی نماز پڑھو۔ یہ روایت ابتدا ہی سے ظاہر کرتی ہے کہ نمازِ جمعہ کا مخصوص مقام ہے اور یہ بھی کہ جو لوگ قریب ہیں ان پر بھی نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی نہیں ہے۔

اب ہم باقی روایات کا تجزیہ کرتے ہیں:
وَ عَنْهُ عَنِ الْعَبَّاسِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ ع قَالَ: إِذَا كَانُوا سَبْعَةً يَوْمَ‏ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلُّوا فِي جَمَاعَةٍ وَ لْيَلْبَسِ الْبُرْدَ وَ الْعِمَامَةَ وَ يَتَوَكَّأُ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا وَ لْيَقْعُدْ قَعْدَةً بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ وَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ وَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْهُمَا قَبْلَ الرُّكُوعِ[3]
ترجمہ: "اگر جمعہ کے دن تم سات افراد ہو تو تمہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے، اور لازم ہے کہ عبا اور عمامہ پہنے (یہ ہدایت کہ برد اور عمامہ پہنا جائے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مراد نمازِ جمعہ ہے) اور کمان یا عصا (یا تلوار) پر سہارا لے۔ دو خطبوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھے، قراءت بلند آواز میں کرے، اور پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے اور دوسری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت پڑھے۔"

روایت میں صیغہ امر غائب «فلیصلّوا» آیا ہے، کیا یہ واجبِ تعیینی پر دلالت کرتا ہے یا نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت صرف نمازِ جمعہ کے جواز پر دلالت کرتی ہے، واجبِ تعیینی پر نہیں۔ کیونکہ اصولی قاعدے کے مطابق
"امر در مقام توهّم حظر، دلالت بر اباحه دارد"، یعنی جب کسی کام کے بارے میں ذہن میں حرمت یا ممانعت کا وہم ہو، اور شارع اس پر "کرو" کا حکم دے، تو اس کا مطلب وجوب نہیں بلکہ جواز ہوتا ہے۔ چونکہ شیعوں کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ جب حکومت ظالموں کے ہاتھ میں ہے، تو کیا ہم نمازِ جمعہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ تو امام نے فرمایا: نمازِ جمعہ پڑھو۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ یہ واجبِ تعیینی ہے بلکہ یہ کہ پڑھنا جائز ہے۔

وَ عَنْهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ حَرِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع قَالَ: صَلَاةُ الْجُمُعَةِ فَرِيضَةٌ وَ الِاجْتِمَاعُ إِلَيْهَا فَرِيضَةٌ مَعَ الْإِمَامِ فَإِنْ تَرَكَ رَجُلٌ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ ثَلَاثَ جُمَعٍ فَقَدْ تَرَكَ ثَلَاثَ فَرَائِضَ وَ لَا يَدَعُ ثَلَاثَ فَرَائِضَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ إِلَّا مُنَافِق[4]
ترجمہ:
 "نمازِ جمعہ واجب ہے اور نمازِ جمعہ میں اجتماع کرنا بھی واجب ہے۔ جو شخص بغیر وجہ کے تین نمازِ جمعہ ترک کرے، اس نے تین واجبات ترک کیے اور تین واجبات کسی بھی شخص ترک نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ منافق ہو۔"

روایت میں فرمایا گیا کہ نمازِ جمعہ اور اس میں حاضر ہونا واجب ہے، اور جو اسے ترک کرے وہ منافق ہے۔ یہ روایت صرف نمازِ جمعہ کے واجب ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ واجبِ تعیینی ہے یا نہیں۔ بہترین دلیل یہ ہے کہ فرمایا گیا کہ جو شخص تین نمازِ جمعہ ترک کرے وہ منافق ہے، اور اگر یہ واجبِ تعیینی ہوتا تو ایک نمازِ جمعہ ترک کرنے سے بھی شخص منافق ہو جاتا، لیکن روایت ایسا نہیں کہتی۔ اس لیے یہ روایت واجبِ تعیینی کی کیفیت بیان نہیں کرتی۔

وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ع عَلَى مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ قَالَ تَجِبُ عَلَى سَبْعَةِ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَ لَا جُمُعَةَ لِأَقَلَّ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدُهُمُ الْإِمَامُ فَإِذَا اجْتَمَعَ سَبْعَةٌ وَ لَمْ يَخَافُوا أَمَّهُمْ بَعْضُهُمْ وَ خَطَبَهُمْ [5]
ترجمہ:
"میں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا: نمازِ جمعہ کس پر واجب ہے؟ فرمایا: اگر سات افراد جمع ہوں تو نمازِ جمعہ ان پر واجب ہے، اور اگر پانچ سے کم ہوں تو ان پر واجب نہیں۔ ان میں سے ایک شخص امام بنتا ہے۔ جب سات افراد جمع ہو جائیں اور کوئی خوف و خطرہ نہ ہو تو ان میں سے ایک امام بنتا ہے، خطبہ پڑھتا ہے اور نماز قائم کرتے ہیں۔"

روایت میں فرمایا گیا ہے کہ جب سات افراد ہوں تو نمازِ جمعہ ان پر واجب ہے، اور اگر پانچ سے کم ہوں تو واجب نہیں۔ یہ روایت شیخ صدوق کی من لا یحضره الفقیه میں نقل ہوئی ہے۔  شیخ صدوق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ بعض اوقات روایت کے بعد اپنا فتویٰ بھی درج کر دیتے تھے، اور بہت سے لوگ جو اس فرق کو نہیں جانتے، صدوق کے فتوے کو بھی روایت کا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ لہٰذا یہ بات واضح نہیں کہ یہ عبارت امام علیہ السلام کی حدیث ہے یا خود شیخ صدوق کا فتویٰ۔ اگر یہ شیخ صدوق کا قول ہو تو پھر یہ فقہی رائے ہے، نہ کہ حجت شرعی روایت۔ اگر اسے روایت تسلیم بھی کیا جائے تو اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ اگر کوئی خطرہ نہ ہو تو نمازِ جمعہ پڑھنا چاہیے، لیکن یہ بات قطعی طور پر معلوم نہیں ہوتی کہ یہ امام کا کلام ہے یا شیخ صدوق کا۔ اس لیے یہ روایت واجبِ تعیینی کے اثبات پر دلالت نہیں کرتی۔

ہم مزید چند روایات کا جائزہ لیتے ہیں جو نمازِ جمعہ کے وجوب کی کیفیت اور امام کی موجودگی کی شرط سے متعلق ہیں۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِاللَّهِ ع عَنِ‏ الصَّلَاةِ يَوْمَ‏ الْجُمُعَةِ- فَقَالَ‏ أَمَّا مَعَ‏ الْإِمَامِ‏ فَرَكْعَتَانِ وَ أَمَّا مَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ فَهِيَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ بِمَنْزِلَةِ الظُّهْرِ يَعْنِي إِذَا كَانَ إِمَامٌ يَخْطُبُ فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهِيَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَ إِنْ صَلَّوْا جَمَاعَةً[6]
ترجمہ:
"میں نے امام علیہ السلام سے جمعہ کے دن کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ امام نے فرمایا: اگر امامِ معصوم موجود ہو تو نمازِ جمعہ دو رکعت ہے، لیکن اگر اکیلا پڑھے تو چار رکعت پڑھے جو نمازِ ظہر کے برابر ہے۔ اگر امام خطبہ پڑھ رہا ہو تو دو رکعت پڑھے، لیکن اگر ایسا امام موجود نہ ہو جو خطبہ دے، تو چار رکعت پڑھے، چاہے جماعت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔"

یہ روایت یا تو صحیحہ ہے، یا اگر سماعہ کی موجودگی کی وجہ سے اس کی سند میں کچھ ضعف شمار کیا جائے تو کم از کم موثّقہ ہے۔
یہ روایت مختلف ابواب میں وسائل الشیعه میں متعدد بار مختلف تعبیرات کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ روایت سے واضح طور پر یہ سمجھ آتا ہے کہ یہاں امام سے مراد امامِ معصوم ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ روایت میں فرمایا گیا: اگر امام موجود ہو تو دو رکعت نمازِ جمعہ پڑھو، اور اگر امام نہ ہو تو چار رکعت نمازِ ظہر پڑھو، حتی اگر جماعت کے ساتھ پڑھو۔ چونکہ جماعت میں بہرحال ایک امامِ جماعت ہوتا ہے، اس لیے یہاں امام سے مراد عام امامِ جماعت نہیں بلکہ امامِ معصوم یا اس کا منصوب نمائندہ ہے۔
اس روایت کو بطورِ دلیل پیش کیا جا سکتا ہے کہ جن روایات میں امام کا لفظ نمازِ جمعہ کے باب میں آیا ہے، وہاں مراد امامِ معصوم ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر امامِ معصوم موجود ہو تو نمازِ جمعہ واجب ہے، اور اگر امامِ معصوم موجود نہ ہو تو نمازِ جمعہ نہیں بلکہ نمازِ ظہر ادا کی جائے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ فَضَالَةَ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ‏ إِذَا كَانَ‏ قَوْمٌ‏ فِي‏ قَرْيَةٍ صَلَّوُا الْجُمُعَةَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ مَنْ يَخْطُبُ لَهُمْ جَمَّعُوا إِذَا كَانُوا خَمْسَ‏ نَفَرٍ وَ إِنَّمَا جُعِلَتْ رَكْعَتَيْنِ لِمَكَانِ الْخُطْبَتَيْن [7]
ترجمہ: 
"جب کچھ لوگ کسی قریہ میں ہوں تو وہ نمازِ جمعہ چار رکعت کے طور پر پڑھیں۔ لیکن اگر ان کے پاس کوئی ایسا شخص ہو جو ان کے لیے خطبہ پڑھ سکے، تو اگر وہ پانچ افراد ہوں تو نمازِ جمعہ پڑھیں، اور خطبے دو رکعت نماز کے برابر شمار ہوں گے۔"

یہ روایت عام طور پر معتبر متون میں منقول ہے۔
روایت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر امام موجود ہو تو نمازِ جمعہ دو رکعت پڑھی جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کو نمازِ جمعہ پڑھانے کا حق نہیں بلکہ ایک مخصوص شخص یعنی امام ہی نمازِ جمعہ برپا کرے۔ اور ایسا شخص عام طور پر گاؤں میں نہیں بلکہ شہروں میں پایا جاتا تھا، کیونکہ نمازِ جمعہ کی اقامت ہمیشہ حکومتی نظام سے وابستہ تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمازِ جمعہ کی شرط یہ ہے کہ امامِ منصوب (نصب شدہ امام) موجود ہو، چاہے وہ امامِ معصوم کی طرف سے مقرر ہو یا حکومتی (حتیٰ کہ خلفاءِ جور) کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: حَثَّنَا أَبُو عَبْدِاللَّهِ ع‏ عَلَى صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حَتَّى‏ ظَنَنْتُ‏ أَنَّهُ‏ يُرِيدُ أَنْ نَأْتِيَهُ فَقُلْتُ نَغْدُو عَلَيْكَ فَقَالَ لَا إِنَّمَا عَنَيْتُ عِنْدَكُمْ [8]
ترجمہ:
 "امام صادقؑ نے ہمیں نماز جمعہ کی ترغیب دی یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ شاید ہمیں امام کے پاس جا کر نماز پڑھنی چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ ہم کل آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور نماز پڑھیں گے۔ امامؑ نے فرمایا: نہیں، جہاں تم ہو وہیں پڑھو۔"

آیت‌ﷲ بروجردی نے روایت کا مفہوم اس طرح بیان کیا ہے کہ جب امامؑ نے لوگوں کو نماز جمعہ کے لیے ابھارا تو زرارہ نے گمان کیا کہ امامؑ جمعہ کے بعد قیام کا ارادہ رکھتے ہیں، اسی وجہ سے عرض کیا کہ میں کل خدمت میں حاضر ہوں گا۔ اور چونکہ خود نماز جمعہ اہل سنت کے خلاف ایک عملی اظہارِ موقف ہے، اس لیے آیت‌ﷲ بروجردی کے فہم کے مطابق روایت کا تعلق قیام و سیاست سے ہے۔ اس تفسیر کے مطابق روایت نماز جمعہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور امامؑ نے اجازت دی ہے کہ شیعیان اہل سنت کے ساتھ نماز جمعہ ادا کریں۔
لیکن روایت سے یہ معنی مراد نہیں۔ بلکہ روایت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اس زمانے (عہدِ امام صادقؑ) میں تقیہ کا وقت تھا اور امامؑ یہ فرما رہے ہیں کہ اے شیعو! تم اہل سنت کی جماعت میں کیوں شرکت نہیں کرتے تاکہ تمہاری پہچان نہ ہو اور جان کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ لہٰذا امامؑ نے حکامِ جور کی جماعت میں شرکت کی ترغیب دی۔ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شیعیان کو مستقل نماز جمعہ نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ اہل سنت کی نماز جمعہ میں شرکت کرنی چاہیے، اور امام جمعہ بھی وہی ہونا چاہیے جو منصوب ہو، کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ ان کی جماعت میں شامل ہو جو خود کو منصوب سمجھتے ہیں۔

وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: قَالَ: مِثْلُكَ يَهْلِكُ وَ لَمْ يُصَلِّ فَرِيضَةً فَرَضَهَا اللَّهُ‏- قَالَ قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ صَلُّوا جَمَاعَةً يَعْنِي صَلَاةَ الْجُمُعَةِ [9]
ترجمہ: "افسوس ہے کہ تم ہلاک ہو رہے ہو اور اس دنیا سے جا رہے ہو جبکہ وہ نماز جو خدا نے واجب کی ہے، تم نے نہیں پڑھی۔ میں نے عرض کیا: کیا کروں؟ فرمایا: نمازِ جماعت پڑھو یعنی نمازِ جمعہ ادا کرو۔"

یہ روایت اس بات کی وضاحت نہیں کرتی کہ نماز جمعہ واجب تعیینی ہے اور اس کی شرط امامِ معصوم یا اس کے منصوب کا ہونا ہے۔ زرارہ بن أعین پہلے سنی تھے، پھر شیعہ ہوئے اور شیعہ کے بڑے علما میں سے ہیں۔ عبدالملک ان کے بھائی تھے، جو یقینی طور پر سنی تھے اور ممکن ہے بعد میں شیعہ ہوئے ہوں۔ اگر وہ شیعہ نہ ہوئے ہوں تو روایت کا مفہوم یہ ہوگا کہ امام نے فرمایا: تم جو سنی ہو، مرنے والے ہو اور وہ نماز (جمعہ) نہیں پڑھی جو تمہارے دین میں واجب ہے۔ اس صورت میں یہ روایت ہمارے لیے استدلالی فائدہ نہیں رکھتی۔
اور اگر عبدالملک شیعہ ہو گئے ہوں، تو امام نے فرمایا: تم مرنے والے ہو اور وہ واجب نماز جو خدا نے فرض کی ہے، نہیں پڑھی۔ یعنی وہ شیعہ ہونے کے بعد تقیہ یا تقدس کے باعث اہل سنت کے ساتھ نماز جمعہ نہیں پڑھتے تھے۔ امام نے فرمایا کہ تم وہ واجب ترک کر رہے ہو جو خدا نے مقرر کیا ہے، لہٰذا نماز جمعہ پڑھو۔
پس روایت سے یہ معنی نہیں نکلتا کہ شیعہ حضرات خود نماز جمعہ قائم کر سکتے ہیں، بلکہ امام فرماتے ہیں کہ اہل سنت کی نماز جمعہ میں شرکت کرو۔ لہٰذا یہ روایت ہمارے محلِ بحث (وجوب تعیینی یا تخییری) پر دلالت نہیں رکھتی۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ يَحْيَى الْحَلَبِيِّ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‏ فِي‏ خُطْبَةِ يَوْمِ‏ الْجُمُعَةِ- وَ ذَكَرَ خُطْبَةً مُشْتَمِلَةً عَلَى حَمْدِ اللَّهِ وَ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ وَ الْوَصِيَّةِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَ الْوَعْظِ إِلَى أَنْ قَالَ وَ اقْرَأْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ وَ ادْعُ رَبَّكَ وَ صَلِّ عَلَى النَّبِيِّ ص- وَ ادْعُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ تَجْلِسُ قَدْرَ مَا يُمْكِنُ هُنَيْهَةً ثُمَّ تَقُومُ وَ تَقُولُ وَ ذَكَرَ الْخُطْبَةَ الثَّانِيَةَ وَ هِيَ مُشْتَمِلَةٌ عَلَى حَمْدِ اللَّهِ وَ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ وَ الْوَصِيَّةِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَ الصَّلَاةِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ الْأَمْرِ بِتَسْمِيَةِ الْأَئِمَّةِ ع إِلَى آخِرِهِمْ وَ الدُّعَاءِ بِتَعْجِيلِ الْفَرَجِ إِلَى أَنْ قَالَ وَ يَكُونُ آخِرُ كَلَامِهِ‏ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ‏ الْآيَةَ[10]
ترجمہ: "میں نے امام سے جمعہ کے دن کے خطبے کے بارے میں پوچھا، امام نے فرمایا: نماز جمعہ میں ایک سورت قرآن کی تلاوت کرو، خدا کی حمد و ثنا بیان کرو، صلوات بھی بھیجو، لوگوں کے لیے دعا کرو، پھر کچھ دیر بیٹھو، پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ پڑھو جو حمدِ خدا، اس کی ثنا، تقوائے الٰہی کی وصیت، نبی اکرم ﷺ پر صلوات، ائمہ علیہم السلام کے ذکر اور دعا برائے تعجیلِ فرج پر مشتمل ہو، اور دوسرے خطبے کے آخر میں آیۂ "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ" پڑھو۔"

سندی اعتبار سے روایت صحیحہ ہے اور تمام راوی ثقہ و جلیل القدر ہیں۔
یہ روایت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ ہر شخص نماز جمعہ قائم کر سکتا ہے، بلکہ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ نماز جمعہ امامِ معصوم یا اس کے منصوب کے ساتھ مشروط ہے۔ کیونکہ امام علیہ السلام نے محمد بن مسلم کو نماز جمعہ کے طریقے کی تعلیم دیتے ہوئے دراصل اسے اجازت (اذن) دی اور اس عمل کے لیے نصب فرمایا۔ لہٰذا یہ روایت اس امر پر دلیل ہے کہ امامِ جمعہ کو امامِ معصوم کی طرف سے منصوب ہونا چاہیے۔

نمازِ جمعہ کا وجوب امامِ معصوم کی موجودگی سے مشروط ہے یا نہیں؟
اس مسئلے میں چند آراء پائی جاتی ہیں
:
۱۔ ایک قول یہ ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ عینی ہے اور اس کی صحت امامِ معصوم (یعنی سلطانِ عادل) کی موجودگی پر موقوف نہیں۔ صرف چند شرائط ہیں، جیسے کم از کم سات افراد کا ہونا اور جماعت کی صورت میں ادا ہونا وغیرہ۔ اس قول کے مطابق نمازِ جمعہ عصرِ غیبت میں بھی واجبِ عینی ہے۔
۲۔ دوسرا قول یہ ہے کہ نمازِ جمعہ مناصبِ خاصہ میں سے ہے، جو حکومت (چاہے عادل ہو یا جائر) سے متعلق ہے، یعنی اگر حکومتِ جور بھی نمازِ جمعہ قائم کرے تو اس میں شرکت جائز ہے۔
۳۔ تیسرا قول یہ ہے کہ نمازِ جمعہ عصرِ غیبت میں واجب ہے بشرط یہ کہ امامِ معصوم یا اس کا نائب (خاص یا عام) اسے قائم کرے، لیکن چونکہ ائمہؑ نے اذنِ عام عطا فرمایا ہے، لہٰذا ہر شخص نمازِ جمعہ پڑھ سکتا ہے۔ اس صورت میں نمازِ جمعہ واجبِ عینی ہوگی، مگر اذنِ عام کے تحت۔
۴۔ چوتھا قول یہ ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ تخییری ہے، یعنی مکلف کو اختیار ہے کہ نمازِ ظہر پڑھے یا نمازِ جمعہ۔

پہلا قول، یعنی نمازِ جمعہ کو واجبِ عینی قرار دینا، قابلِ قبول نہیں، کیونکہ یہ تمام مسلمانوں (شیعہ و سنی) کے عملی طرزِ عمل کے خلاف ہے۔ ہمیشہ مسلمانوں کا طریقہ یہی رہا ہے کہ اگر امامِ جمعہ موجود ہوتا تو نمازِ جمعہ میں شریک ہوتے، اور اگر امام نہ ہوتا تو نمازِ ظہر ادا کرتے۔ نیز مسلمانوں کے درمیان نمازِ جمعہ کی تعلیم و تعلم عام نہیں تھی، اور بہت سے علاقوں میں نمازِ جمعہ قائم ہی نہیں ہوتی تھی۔ یہ سب اس امر کی واضح دلیل ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ عینی نہیں ہے۔ مزید برآں، اگر نمازِ جمعہ واجبِ عینی ہوتی تو ائمہؑ کو لازماً اس کا حکم صراحتاً بیان کرنا چاہیے تھا، حالانکہ ایسی کوئی روایت موجود نہیں جس میں فرمایا گیا ہو کہ عصرِ غیبت میں نمازِ جمعہ واجبِ عینی ہے اور ضرور پڑھو۔ بلکہ ائمہؑ خود بھی عموماً نمازِ جمعہ نہیں پڑھتے تھے۔ پس سیرۂ مسلمین اور روایات کا فقدان، دونوں اس قول کے عدمِ قبولیت پر دلالت کرتے ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ نمازِ جمعہ واجب تو ہے لیکن یہ مناصبِ خاصہ میں سے ہے، یعنی ہر شخص اپنی طرف سے نمازِ جمعہ قائم نہیں کر سکتا، بلکہ اگر کوئی اس منصب پر نصب کیا گیا ہو تو وہ نمازِ جمعہ برپا کرے گا، ورنہ نمازِ ظہر پڑھنی ہوگی۔
اس قول کی دلیل صحیفہ سجادیہ کی ۴۸ دعا ہے، جس کی سند نہایت معتبر اور محکم ہے۔ اس دعا کے ایک حصے میں یوں وارد ہوا ہے:
اللَّهُمَ‏ إِنَ‏ هَذَا الْمَقَامَ‏ لِخُلَفَائِكَ‏ وَ أَصْفِيَائِكَ‏ وَ مَوَاضِعَ أُمَنَائِكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّفِيعَةِ الَّتِي اخْتَصَصْتَهُمْ بِهَا قَدِ ابْتَزُّوهَا، وَ أَنْتَ الْمُقَدِّرُ لِذَلِكَ، لَا يُغَالَبُ أَمْرُكَ، وَ لَا يُجَاوَزُ الْمَحْتُومُ مِنْ تَدْبِيرِكَ‏ كَيْفَ شِئْتَ وَ أَنَّى شِئْتَ، وَ لِمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ غَيْرُ مُتَّهَمٍ عَلَى خَلْقِكَ وَ لَا لِإِرَادَتِكَ حَتَّى عَادَ صِفْوَتُكَ وَ خُلَفَاؤُكَ مَغْلُوبِينَ مَقْهُورِينَ مُبْتَزِّينَ، يَرَوْنَ حُكْمَكَ مُبَدَّلًا، وَ كِتَابَكَ مَنْبُوذاً، وَ فَرَائِضَكَ مُحَرَّفَةً عَنْ جِهَاتِ أَشْرَاعِكَ، وَ سُنَنَ نَبِيِّكَ مَتْرُوكَةً
ترجمہ: "اے پروردگار! یہ مقام و منصب [یعنی نمازِ عید و جمعہ یا امامت و خلافت کا مقام] تیرے خلفاء، جانشینوں اور برگزیدہ بندوں [یعنی ائمہ معصومینؑ] کے لیے مخصوص ہے، [مگر دشمنانِ حق نے ظلم و غصب کے ذریعے انہیں چھین لیا] یہاں تک کہ تیرے برگزیدہ اور جانشین بندے مغلوب و مقہور ہوگئے اور اپنا حق کھو بیٹھے۔"

یہ عبارت صاف دلالت کرتی ہے کہ امامتِ جمعہ امامِ معصومؑ کے اختیارات میں سے ہے، جو خود اقامہ کرے یا کسی کو اس منصب پر نصب کرے یا اس کا نائبِ عام مقرر ہو اور شاید کہا جا سکتا ہے کہ ائمہ معصومینؑ نے شیعیانِ اہلِ ایمان کو بھی اجازت دی ہے کہ اگر وہ نمازِ جمعہ پڑھیں تو وہ امامِ معصومؑ کی طرف سے مأذون شمار ہوں۔

مرحوم فاضل ہندی (صاحب کشف اللثام) کے نزدیک چونکہ عبادات تعبدی ہیں، اس لیے اگر یقین نہ ہو کہ خدا نے کسی عمل کا حکم دیا ہے تو وہ عبادت نہیں بلکہ حرام ہے۔ چونکہ ہمیں یقین ہے کہ نمازِ جمعہ امامِ معصومؑ یا ان کے منصوب امام کے ساتھ مشروع ہے، لیکن جب امامِ معصومؑ یا عادل حاکم موجود نہ ہو، تو امرِ الٰہی ثابت نہیں، لہٰذا نمازِ جمعہ عبادت نہیں بلکہ حرام ہے۔ اگر امام جائر ہو یا اس کا نمائندہ ہو تو بھی یہی حکم ہے کیونکہ شک کی صورت میں اصل عدمِ امر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جماعت میں اقتدا امامِ منصوب سے ہو تو قرائت ساقط ہے، لیکن اگر امامِ جائر سے ہو تو شک رہتا ہے اور اصل عدمِ سقوط قرائت ہے، پس نماز باطل ہے۔ (البتہ بعض اس استدلال پر تنقید کرتے ہیں کہ ہر حالت میں قرائت کا نہ ہونا بطلان کی دلیل نہیں، جیسے بعض صورتوں میں مأموم خود قرائت کرسکتا ہے۔) فاضل ہندی کہتے ہیں کہ زمانِ غیبت میں نمازِ جمعہ نہ واجبِ عقد ہے نہ واجبِ حضور، کیونکہ ائمہ علیہم السلام نے طاغوتی زمانوں میں نمازِ جمعہ کو مشروع نہیں سمجھا۔ مرحوم فاضل ہندی کہتے ہیں کہ جس روایت میں آیا ہے کہ جب سات شیعہ ایک جگہ جمع ہوں تو ایک امام بنے اور خطبہ بھی پڑھے، اس میں جملہ «امهم بعضهم» خبریہ ہے، انشائیہ نہیں۔ یعنی عبارت یہ نہیں کہ کسی کو امام بنایا جائے، بلکہ ایک امام بن جاتا ہے۔  ان کے نزدیک یہ روایت نمازِ جمعہ پر دلالت نہیں کرتی بلکہ صرف خبر ہے۔ جواب یہ ہے کہ اصولی طور پر جملہ خبریہ بھی اگرچہ انشائیہ نہ ہو، بعض مواقع پر انشائیہ کے معنٰی پر دلالت کرتی ہے، لہٰذا یہ استدلال درست نہیں۔

نمازِ جمعہ کے وجوب کے باب میں کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات واجبِ تعیینی ہے، جیسے کہ امامِ معصوم کی موجودگی اور دسترس میں ہونا۔ لیکن زمانہِ غیبت میں، ابتداءً غیبت سے لے کر صدی دہم (زمانہ شہید ثانی) تک کسی فقیہ نے نمازِ جمعہ کو واجبِ تعیینی قرار نہیں دیا۔  پہلی بار شہید ثانی نے کہا اور اس کے بعد ان کے بھتیجے صاحبِ مدارک نے یہی فرمایا۔  مرحوم صاحب جواہر کہتے ہیں کہ شہید ثانی کی کتاب جس میں نمازِ جمعہ کے وجوب کا ذکر ہے، وہ ان کی جوانی کی تصنیف ہے اور قابلِ اعتماد نہیں کیونکہ وہ اس وقت مجتہد نہ تھے۔

اگر فرض کیا جائے کہ فتوای شہید ثانی قطعی ہے کہ نمازِ جمعہ زمانہ غیبت میں واجب ہے، تب بھی بحث یہ ہے کہ یہ واجب تعیینی ہے یا تخییری؟ جو لوگ واجبِ تعیینی مانتے ہیں، وہ سورۃ جمعہ کی آیت فاسعوا سے تمسک کرتے ہیں، لیکن اس کا مفہوم ممکن ہے کہ صرف شخصِ پیامبر یا خطبہ پڑھنے کے لیے ہو۔  نیز خطبہ یقینی طور پر واجب نہیں اور اس کا ترک گناہ بھی نہیں، اس لیے یہ امر استحبابی بھی ہو سکتا ہے۔

روایات اور نوع وجوب:
روایات یقینا نمازِ جمعہ کے وجوب کی دلیل ہیں، لیکن یہ دلالت نہیں کرتیں کہ یہ وجوب تعیینی ہے یا تخییری۔ بلکہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ واجب تخییری ہے:
اولاً: روات خود نمازِ جمعہ نہیں پڑھتے تھے، یعنی وہ روایات سے واجب تعیینی استنباط نہیں کرتے تھے۔
ثانیاً: فقہا ابتداءً تا قرن دہم کسی نے نمازِ جمعہ کو واجبِ تعیینی نہیں جانا، بلکہ بعض فقہا نے حتیٰ کہ حکم حرمت بھی دیا، جیسے ابن ادریس و سلار۔
ثالثاً: عملی سیرہ شیعیان کے مطابق نمازِ جمعہ عام طور پر ادا نہیں کی جاتی تھی۔
رابعاً: روایات میں آیا کہ اگر کوئی دو فرسخ دور ہے تو نمازِ ظہر پڑھی جائے، حالانکہ اگر واجبِ تعیینی ہوتی تو وہاں بھی نمازِ جمعہ واجب قرار دی جاتی، کیونکہ اس فاصلے میں بھی سات افراد موجود ہو سکتے تھے۔
ان سب دلائل سے واضح ہے کہ نمازِ جمعہ واجب ہے لیکن وجوب تعیینی نہیں ہے۔ اگرچہ بعض روایات سے تعیینی استنباط ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وجوب تخییری ہے۔

پیش کردہ روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زمانۂ غیبت میں نمازِ جمعہ واجبِ تخییری ہے، اور اس پر مختلف شواہد بھی پیش کیے۔ اب ہم اس بحث کو آگے بڑھاتے ہیں کہ شاید بعض افراد یہ کہیں کہ ایسی روایات بھی موجود ہیں جو ہمیشہ کے لیے نمازِ جمعہ کے واجبِ تعیینی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ع عَلَى مَنْ‏ تَجِبُ‏ الْجُمُعَةُ قَالَ‏ تَجِبُ‏ عَلَى سَبْعَةِ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَ لَا جُمُعَةَ لِأَقَلَّ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدُهُمُ الْإِمَامُ فَإِذَا اجْتَمَعَ سَبْعَةٌ وَ لَمْ يَخَافُوا أَمَّهُمْ بَعْضُهُمْ وَ خَطَبَهُمْ [11]
ترجمہ:
"میں نے پوچھا: نمازِ جمعہ کن لوگوں پر واجب ہے؟ امامؑ نے فرمایا: سات مسلمان افراد پر نمازِ جمعہ واجب ہے۔ اگر ان کی تعداد پانچ سے کم ہو تو نمازِ جمعہ واجب نہیں۔ ان پانچ میں سے ایک امام اور چار مأموم ہونے چاہییں۔ اور اگر سات افراد ہوں اور تقیہ کی کوئی حالت نہ ہو، تو لازم ہے کہ ان میں سے بعض امامت کریں اور خطبہ بھی پڑھیں۔"
شیخ صدوق کی سند زرارہ تک صحیح (صحیحه) ہے۔
روایت کا جملہ أَمَّهُمْ بَعْضُهُمْ وَ خَطَبَهُمْ اگرچہ خبریہ ہے، مگر انشائی معنی میں ہے، یعنی وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ روایت کے آغاز میں لفظ تجب بھی آیا ہے جو وجوب کو ظاہر کرتا ہے۔ بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ روایت کا صدر اور ذیل دونوں حصہ وجوبِ تعیینیِ نمازِ جمعہ پر دلالت کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم روایت کو اس طرح معنی کریں کہ "اگر سات افراد ہوں تو نماز جمعہ واجب ہے"، تو یہ بات واضح ہے کہ تقریباً ہر جگہ سات افراد تو موجود ہی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ تعبیر غیرمفید بن جاتی ہے۔ اس لیے زیادہ مناسب تفسیر یہ ہے کہ روایت میں ذکر شدہ سات افراد مخصوص افراد کی طرف اشارہ ہے، جیسے قاضی، حاکمِ شرع، خطیب، یا احکام کے نفاذ کرنے والے افراد وغیرہ۔

وَ عَنْهُ عَنْ صَفْوَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي حَدِيثٍ قَالَ: الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى‏ كُلِ‏ أَحَدٍ لَا يُعْذَرُ النَّاسُ فِيهَا إِلَّا خَمْسَةٌ الْمَرْأَةُ وَ الْمَمْلُوكُ وَ الْمُسَافِرُ وَ الْمَرِيضُ وَ الصَّبِيُّ [12]
ترجمہ:
"نمازِ جمعہ ہر شخص پر واجب ہے، اور کوئی بھی معذور نہیں کہ اس میں شریک نہ ہو، سوائے پانچ افراد کے: عورت، مسافر، بیمار، بچہ، اور غلام۔"
یہ روایت صحیحه ہے، اور اسے شیخ طوسی نے نقل کیا ہے۔ کیا یہ روایت نمازِ جمعہ کے واجبِ تعیینی ہونے پر دلالت کرتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ روایت اس پر دلالت نہیں کرتی۔ کیونکہ روایت کا مفہوم یہ ہے کہ مذکورہ پانچ گروہ (عورت، مریض، مسافر وغیرہ) وجوبِ نمازِ جمعہ کے حکم کے شامل نہیں ہیں۔ یعنی اگر یہ لوگ نمازِ جمعہ میں شریک ہو جائیں تو ان کی نماز صحیح ہے، مگر ان پر واجب نہیں۔ جب روایت کہتی ہے کہ "نمازِ جمعہ عورت پر واجب نہیں"، تو اس کا مقصد یہ نہیں کہ دوسروں پر نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی ہے، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ جہاں نمازِ جمعہ برپا ہو، وہاں جن پر یہ واجب ہے، ان سب پر شرکت لازم ہے، مگر عورتوں پر اس میں شرکت کا وجوب نہیں۔ لہٰذا روایت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر نمازِ جمعہ برپا کی جا رہی ہے، تو جن پر وجوب ثابت ہے، ان پر شرکت لازم ہے؛ لیکن اگر نمازِ جمعہ برپا ہی نہیں کی جا رہی، تو ان پر جانا واجب نہیں۔ یعنی روایت وجوبِ تعیینی نہیں، بلکہ وجوبِ مشروط یا تخییری فہم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْدِاللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ تَدَعَ الْجُمُعَةَ فِي‏ الْمَطَرِ[13]
ترجمہ: "بارش کے وقت نمازِ جمعہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔"
دلالت کے اعتبار سے اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ جب بارش نہ ہو تو نمازِ جمعہ واجب ہے۔ لیکن درحقیقت یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر نمازِ جمعہ واجبِ عینی ہوتی تو بارش جیسا معمولی عذر اس کے ترک کا جواز نہیں بن سکتا تھا۔ پس جب روایت اجازت دیتی ہے کہ بارش کے وقت نمازِ جمعہ نہ پڑھو، تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی نہیں بلکہ تخییری ہے۔ جیسے بارش یا سخت سردی کے وقت نمازِ جماعت کا قیام ضروری نہیں رہتا، اور خود رسولِ اکرم ﷺ بھی ان مواقع پر جماعت کو موقوف فرما دیتے تھے، مگر ہر شخص کو گھر پر اپنی نماز پڑھنے کا حکم ہوتا تھا۔

اب تک یہ بات واضح ہوئی کہ نمازِ جمعہ اپنی اصل میں واجب تو ہے، مگر وجوبِ تعیینی نہیں بلکہ وجوبِ تخییری رکھتی ہے۔ شیعہ فقہاء میں سے دو بزرگ یعنی ابنِ ادریس حلّی (صاحبِ السرائر) اور سلّار دیلمی (صاحبِ المراسم) نے فرمایا ہے کہ زمانۂ غیبت میں نمازِ جمعہ حرام اور غیر مشروع ہے۔ ان کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ اصل میں انہیں کوئی خاص دلیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ نمازِ جمعہ ایک عبادت ہے، اور عبادت کے لیے امرِ شرعی کا ہونا لازم ہے۔ جب اس پر کوئی امرِ شرعی نہیں پایا جاتا، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ عمل غیر مشروع اور حرام ہے۔ یعنی وجوب کے قائلین پر دلیل لانا لازم ہے، نہ کہ حرمت کے قائلین پر۔ پھر بھی انہوں نے اپنے دعوے پر کچھ دلائل ذکر کیے ہیں، مثلاً یہ کہ اس مسئلے میں اجماع ہے کہ زمانۂ غیبت میں نمازِ جمعہ مشروع نہیں اور حرام ہے۔ لیکن یہ اجماع قابلِ اعتماد نہیں، کیونکہ یہ اجماعِ مدرکی ہے، اور صرف انہی دو حضرات نے اسے نقل کیا ہے، جن کے علاوہ کوئی اور مخالف نہیں پایا گیا جس سے اجماع ثابت ہو۔ لہٰذا یہ اجماع دلیل نہیں بن سکتا۔

اسی طرح ابنِ ادریس نے مزید دلائل میں سیرت، حفظِ نظام، اور بعض روایات کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے سیرت کے ضمن میں کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ اور ائمہ علیہم السلام کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی امامِ جمعہ کو مقرر کرتے تھے، نمازِ جمعہ قائم ہوتی تھی، اور جب امامِ جمعہ مقرر نہ ہوتا، تو کوئی نمازِ جمعہ ادا نہیں کرتا تھا۔ پس چونکہ زمانِ غیبت میں نہ نصب ممکن ہے نہ اجازت، لہٰذا نمازِ جمعہ حرام ہے۔

اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ ایسی سیرت اگر ثابت ہو بھی، تو وہ یا نبی اکرم ﷺ کی سیرت ہوگی یا امیرالمؤمنینؑ اور دیگر معصومینؑ کی۔رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ آپ مدینہ میں نمازِ جمعہ قائم فرماتے تھے، مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ آپ نے کسی کو امامِ جمعہ کے طور پر مقرر فرمایا ہو۔امیرالمؤمنینؑ کے زمانے میں اگرچہ آپ نے بعض افراد کو والی یا قاضی مقرر فرمایا، اور وہ نمازِ جمعہ پڑھتے تھے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہیں امامِ جمعہ کے طور پر خاص طور پر نصب فرمایا گیا ہو۔ ممکن ہے کہ وہ بحیثیتِ حاکم نماز پڑھاتے ہوں، اور عوام کے ذہن میں یہ بات ہو کہ جو شخص حاکم ہے، وہی نمازِ جمعہ بھی پڑھائے۔ ہمیں کوئی ایسی نص نہیں ملتی کہ حضرتؑ نے کسی کو بطورِ امامِ جمعہ مخصوص کیا ہو۔ لہٰذا صرف اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ نمازِ جمعہ کے لیے "نصب" شرط ہے۔ اسی طرح باقی ائمہ علیہم السلام کے زمانے میں بھی کوئی معتبر خبر نہیں ملتی کہ انہوں نے کسی کو امامِ جمعہ کے طور پر مقرر فرمایا ہو۔ زیادہ سے زیادہ بعض افراد کو اجازتِ نماز دی گئی۔ پس ثابت ہوا کہ سیرت سے نمازِ جمعہ کے حرام ہونے پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوتی۔

ایک اور دلیل جو بعض فقہا نے پیش کی ہے، وہ "حفظِ نظام" کا مسئلہ ہے۔
ابنِ ادریس جیسے علماء کا کہنا ہے کہ شریعتِ مقدسہ کبھی ایسا حکم نہیں دے سکتی جو لوگوں میں اختلاف، انتشار یا جانی نقصان کا باعث بنے، کیونکہ حفظِ نظام یعنی معاشرتی نظم و سکون برقرار رکھنا واجب ہے۔ ان فقہا کا استدلال یہ ہے کہ اگر نمازِ جمعہ کو عام طور پر ہر ایک کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے تو ہر شخص امامِ جمعہ بننے کی کوشش کرے گا، اور نتیجتاً لوگوں میں اختلاف اور فتنہ پیدا ہوگا، حتیٰ کہ ممکن ہے خون خرابہ بھی ہو۔ پس شارعِ مقدس کو لازم ہے کہ امامِ جمعہ کو نصب (متعین) کرے، اور جسے شارع نے نصب نہ کیا ہو، اسے نمازِ جمعہ پڑھانے کا حق نہیں۔ اس بنا پر وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ زمانِ غیبت میں نمازِ جمعہ حرام ہے۔

لیکن اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ حفظِ نظام بلاشبہ واجب ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جو جھگڑے امامتِ جمعہ کے بارے میں ہوتے ہیں، کیا وہ شارع کے اجازت دینے کی وجہ سے ہیں؟ یا اس وجہ سے کہ لوگ اقتدار، مقام یا شہرت کے خواہاں ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ اختلاف کی اصل وجہ دنیاوی مفادات ہیں، نہ کہ شرعی اجازت۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ شارع نے خود ایسی راہیں مقرر کی ہیں جن سے اختلاف ختم ہوسکتا ہے، مثلاً درسِ اخلاق، مجالسِ وعظ وغیرہ۔ اگر ان اسلامی اصولوں پر عمل کیا جائے تو یہ اختلافات پیدا ہی نہیں ہوں گے۔

ابنِ ادریس نے ایک اور دلیل روایات سے پیش کی۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ روایات بتاتی ہیں کہ جہاں نمازِ جمعہ برپا ہو، وہاں سے دو فرسخ تک کے لوگ نماز میں شرکت کریں، اور جو اس سے دور ہیں وہ نمازِ ظہر پڑھیں۔ ان کے بقول ان روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ جمعہ صرف دو فرسخ کے دائرے تک مشروع (جائز) ہے، اور جو اس سے دور ہیں ان کے لیے نمازِ جمعہ غیر مشروع (ناجائز) ہے۔

لیکن اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ ان روایات میں "اقامہ نماز" (یعنی جمعہ قائم کرنا) اور "حضور در نماز" (یعنی شرکت کرنا) فرق ہے۔ یہ روایات اس بارے میں نہیں ہیں کہ کون نمازِ جمعہ برپا کرے یا نہ کرے، بلکہ یہ اس بارے میں ہیں کہ کس پر شرکت واجب ہے اور کس پر نہیں۔ یعنی ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دو فرسخ سے زیادہ فاصلے پر ہیں ان پر شرکت واجب نہیں، نہ یہ کہ ان کے لیے نمازِ جمعہ حرام ہے۔ یہ روایات حرمت پر دلالت نہیں کرتیں بلکہ صرف اس بات پر دلالت رکھتی ہیں کہ دور رہنے والوں پر شرکت واجب نہیں۔

چند دیگر روایات کا جائزہ لیتے ہیں جنہیں ان علما نے حرمتِ نمازِ جمعہ کے استدلال میں بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے:

وَ فِي الْعِلَلِ وَ عُيُونِ الْأَخْبَارِ بِأَسَانِيدَ تَأْتِي عَنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ عَنِ الرِّضَا ع قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَتِ الْخُطْبَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ- لِأَنَ‏ الْجُمُعَةَ مَشْهَدٌ عَامٌ‏ فَأَرَادَ أَنْ يَكُونَ لِلْأَمِيرِ سَبَبٌ إِلَى مَوْعِظَتِهِمْ وَ تَرْغِيبِهِمْ فِي الطَّاعَةِ وَ تَرْهِيبِهِمْ مِنَ الْمَعْصِيَةِ وَ تَوْقِيفِهِمْ عَلَى مَا أَرَادَ مِنْ مَصْلَحَةِ دِينِهِمْ وَ دُنْيَاهُمْ وَ يُخْبِرُهُمْ بِمَا وَرَدَ عَلَيْهِمْ مِنَ (الْآفَاقِ مِنَ) الْأَهْوَالِ الَّتِي لَهُمْ فِيهَا الْمَضَرَّةُ وَ الْمَنْفَعَةُ وَ لَا يَكُونُ الصَّابِرُ فِي الصَّلَاةِ مُنْفَصِلًا وَ لَيْسَ بِفَاعِلٍ غَيْرُهُ مِمَّنْ يَؤُمُّ النَّاسَ فِي غَيْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ- وَ إِنَّمَا جُعِلَتْ خُطْبَتَيْنِ لِيَكُونَ‏ وَاحِدَةٌ لِلثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ وَ التَّمْجِيدِ وَ التَّقْدِيسِ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ الْأُخْرَى لِلْحَوَائِجِ وَ الْإِعْذَارِ وَ الْإِنْذَارِ وَ الدُّعَاءِ وَ لِمَا يُرِيدُ أَنْ يُعَلِّمَهُمْ مِنْ أَمْرِهِ وَ نَهْيِهِ مَا فِيهِ الصَّلَاحُ وَ الْفَسَادُ [14]
ترجمہ:  "امام رضا علیہ السلام نے فرمایا
: نمازِ جمعہ اور اس کے خطبے جمعہ کے دن اس لیے تشریع کیے گئے ہیں کہ جمعہ کا دن عوام کے اجتماع کا دن ہے۔ پس خداوندِ متعال نے چاہا کہ امیر یا حاکم کے پاس ایسا موقع ہو جس کے ذریعے وہ لوگوں کو نصیحت کرے، حالات سے آگاہ کرے، دین و دنیا کی مصلحتیں بیان کرے، اور لوگوں کو ان امور سے باخبر کرے جو ان کے لیے نفع یا نقصان کے حامل ہیں۔ جو شخص بیٹھ کر خطبہ سنتا ہے، وہ نماز سے جدا نہیں (یعنی خطبہ نمازِ جمعہ کا ہی حصہ ہے)۔
وہ امامانِ جماعت جو دوسرے دنوں میں نماز پڑھاتے ہیں، وہ نمازِ جمعہ نہیں پڑھا سکتے۔ ایک خطبہ حمدِ الٰہی کے لیے ہونا چاہیے، اور دوسرا لوگوں کی ضروریات، انذار، دعا، اور ان امور کے لیے جو امت کی صلاح و فساد سے متعلق ہیں۔"

یہ روایت علل الشرایع اور عیون اخبار الرضا میں منقول ہے۔ سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، کیونکہ شیخ صدوق نے اسے اپنے استاد سے نقل کیا ہے، لیکن ان استادان کے نام کتبِ رجال میں مذکور نہیں، وہ مجہول ہیں۔ اگرچہ شیخ صدوق نے ان کے نام کے بعد "رضی الله عنه" کہا ہے، لیکن صرف یہ ترضّی وثاقت کی دلیل نہیں بنتی۔

بعض فقہاء مثلاً ابن ادریس نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ نمازِ جمعہ میں خطبہ اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ حاکم لوگوں کو منافع و مضار بتائے، اور یہ علم صرف امام معصوم یا اس کے خاص نائب کو ہوتا ہے، لہٰذا ان کے علاوہ کوئی نمازِ جمعہ نہیں پڑھا سکتا۔

لیکن درست بات یہ ہے کہ روایت میں ایسا مفہوم نہیں پایا جاتا۔ روایت صرف یہ کہتی ہے کہ امامِ جمعہ کو ان امور کا ذکر کرنا چاہیے، لیکن یہ نہیں کہتی کہ اگر وہ ذکر نہ کرے تو نماز باطل ہوگی، یا یہ کہ ان امور کا بیان کرنا نمازِ جمعہ کی شرط ہے۔

وَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنِ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ- فَقَالَ أَمَّا مَعَ الْإِمَامِ فَرَكْعَتَانِ وَ أَمَّا مَنْ صَلَّى وَحْدَهُ فَهِيَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَ إِنْ صَلَّوْا جَمَاعَةً [15]
ترجمہ: "امام صادقؑ سے نمازِ جمعہ کے بارے میں سوال ہوا۔ آپؑ نے فرمایا
: اگر کوئی امام کے ساتھ نماز پڑھے تو دو رکعت ہے،اور جو تنہا نماز پڑھے تو چار رکعت ہے، خواہ وہ نماز کو جماعت سے ہی کیوں نہ پڑھے۔"

یہ روایت ضعیف السند ہے، کیونکہ اس میں راوی محمد بن حسین ہے جو مشترک بین ضعیف و ثِقہ (یعنی دو راوی اسی نام سے ہیں، ایک قابل اعتماد اور دوسرا غیر معتبر) ہے، لہٰذا سند میں اجمال و ضعف پیدا ہوتا ہے۔

ابن ادریس نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ مراد از «امام» یہاں امامِ معصومؑ ہے، لہٰذا نمازِ جمعہ صرف امامِ معصومؑ کے ساتھ صحیح ہے، ورنہ نہیں۔

لیکن اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ:روایت حرمتِ نمازِ جمعہ کو بیان نہیں کر رہی، بلکہ صرف فرقِ بین الحکمین (دو صورتوں کے احکام کا فرق) کو بتا رہی ہے۔ ممکن ہے روایت کا مفہوم یہ ہو کہ:
 اگر امامِ معصومؑ خود موجود ہوں نماز جمعہ دو رکعت۔
 اگر امامِ معصومؑ موجود نہ ہوں نماز چار رکعت (یعنی نمازِ ظہر) پڑھی جائے۔
یہ لازم نہیں آتا کہ نمازِ جمعہ حرام ہو، بلکہ ممکن ہے امامؑ نے اذنِ عام دے رکھا ہو کہ اُن کی غیرحاضری میں بھی نمازِ جمعہ قائم کی جا سکتی ہے۔ پس یہ روایت زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کرتی ہے کہ نمازِ جمعہ اصلًا حقِ امامِ معصومؑ ہے، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ آیا امامؑ نے اس حق کو سلب کیا ہے یا تفویض۔ بلکہ ممکن ہے کہ امامؑ نے اپنے شیعوں کو عمومی اجازت دی ہو کہ وہ اس عبادت کو قائم رکھیں۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الْحَلَبِيِ‏ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنِ الْفِطْرِ وَ الْأَضْحَى- إِذَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ- فَقَالَ اجْتَمَعَا فِي زَمَانِ عَلِيٍّ ع- فَقَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَأْتِ وَ مَنْ قَعَدَ فَلَا يَضُرُّهُ وَ لْيُصَلِّ الظُّهْرَ وَ خَطَبَ ع خُطْبَتَيْنِ جَمَعَ فِيهِمَا خُطْبَةَ الْعِيدِ وَ خُطْبَةَ الْجُمُعَةِ [16]
ترجمہ: "حلبی سے منقول ہے کہ امامؑ سے پوچھا
: اگر عید فطر یا عید قربان جمعہ کے دن آ جائے، تو کیا دو نمازیں (عید اور جمعہ) پڑھنی چاہئیں یا ایک نماز کافی ہوگی؟ امامؑ نے فرمایا: ایسا معاملہ حضرت علیؑ کے زمانے میں پیش آیا۔ حضرتؑ نے فرمایا: جو چاہے نماز جمعہ میں آئے، اور جو نہ چاہے، نماز ظہر پڑھ لے۔ پھر حضرتؑ نے دو خطبے پڑھے، اور خطبۂ جمعہ و عید کو جمع کیا، اور دوبارہ فرمایا: جو چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے، بلکہ ظہر پڑھے۔"

بعض فقہا (جیسے ابن ادریس) نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ حضرت علیؑ نے اختیار دیا "من شاء فلیأتِ و من شاء فلایأتِ"، لہٰذا نماز جمعہ حقِ امام معصومؑ ہے اور اگر امام نہ ہو تو نماز جمعہ جائز نہیں، ورنہ امام علیؑ کو اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار کیوں ہوتا؟

یہ استدلال ناقص ہے، کیونکہ روایت میں نہ حرمت کا مفہوم ہے اور نہ انحصار در امام۔ بلکہ روایت واجبِ تخییری پر دلالت کرتی ہے۔ یعنی اس دن جب عید اور جمعہ اکٹھے ہوں یا تو انسان نماز عید پڑھ لے، یا نماز جمعہ میں شامل ہو جائے، اور اگر جمعہ میں شریک نہ ہوا تو نماز ظہر پڑھ لے۔
یہ تخییر امامِ معصوم کی موجودگی سے خاص نہیں، بلکہ حکمِ شرعی کی رعایت ہے۔ امامؑ نے صرف رخصت (رخصتِ شرعی) دی، نہ یہ کہ نماز جمعہ "حقِ خاصِ امام" ہے۔

لہٰذا اس روایت سے زیادہ سے زیادہ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ نمازِ جمعہ واجبِ تعیینی نہیں بلکہ واجبِ تخییری ہے۔ یعنی مکلف کو اختیار ہے کہ یا جمعہ میں شرکت کرے یا ظہر پڑھ لے۔

اب ان روایات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہیں جو ان فقہا نے پیش کی ہیں جو عصرِ غیبت میں نماز جمعہ کے حرمت کے قائل ہیں، اور ان میں سے ایک روایت کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں:

مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْوَشَّاءِ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ أَمِيرِالْمُؤْمِنِينَ ع- فَخَطَبَ النَّاسَ‏ فَقَالَ هَذَا يَوْمٌ اجْتَمَعَ فِيهِ عِيدَانِ فَمَنْ‏ أَحَبَ‏ أَنْ‏ يُجَمِّعَ‏ مَعَنَا فَلْيَفْعَلْ‏ وَ مَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَإِنَّ لَهُ رُخْصَةً يَعْنِي مَنْ كَانَ مُتَنَحِّياً [17]
ترجمہ: " زمان حضرت علیؑ، دو عید جمعہ کے ساتھ آ گئیں (جمعہ اور عید)، حضرتؑ نے خطبہ دیا اور فرمایا: آج دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں، جو چاہے نماز جمعہ کے لیے ہمارے ساتھ آئے اور جو نہ چاہے، نہ آئے" (یعنی جو لوگ دور ہیں، وہ شرکت نہ کریں)۔

سند میں حسین بن محمد معتبر نہیں ہیں، لیکن اگر مراد حسین بن محمد بن عامر ہوں تو شاید معتبر ہوں۔ معلی بن محمد بھی معتبر نہیں، لیکن وہ کتاب کامل الزیارات کے رجال میں ذکر شدہ ہیں۔
حضرت علیؑ نے رخصت دی کہ جو چاہے نہ آئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز جمعہ واجب عینی نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب عینی ہوتی تو امام معصومؑ کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ اس واجب کو معطل کرے۔

قرآن کی آیات نماز جمعہ کے وجوب عینی کی دلیل نہیں دیتیں اور جو روایات پیش کی گئی ہیں وہ ہمیں وجوبِ تخییری کی طرف لے جاتی ہیں۔ اس قدر تحقیق و بحث کے باوجود ہم خداوند کا قطعی حکم نہیں جان سکتے کیونکہ یہ حکم اہم ہے اور اسے آسانی سے تشریع نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے معاملات میں احتیاط یہ ہے کہ توقف اختیار کیا جائے کیونکہ یہاں مختلف آراء ہیں: کچھ حرمت کے قائل ہیں، کچھ واجبِ عینی کے، اور کچھ واجبِ تخییری کے۔ ایسے موقع پر فتویٰ کو حد توقف پر رکھنا چاہیے۔

فقہی دلائل کی صورت میں اگر ہمارے پاس اجتہادی دلائل ناکافی ہوں اور ہم کچھ نہ سمجھ سکیں، جیسا کہ ابھی ہمارا حال ہے، تو بعض فقہا کہتے ہیں کہ اگر عمومی اور عام دلائل موجود ہوں جو ہر مسلمان پر سترہ رکعت نماز فرض ہونے کی خبر دیں، تو جمعہ کے دن بھی اسی عموم کو اختیار کریں۔ لیکن اگر ایک عام دلیل پہلے ہی کسی تخصیص کا شکار ہوئی ہو تو دوبارہ بھی اسے آسانی سے تخصیص دی جا سکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو عموم رسول اکرمؐ اور امیرالمومنینؑ کے زمانے میں تھا، وہ تخصیص خور ہو گیا اور جمعہ کو پندرہ رکعت پڑھا جاتا تھا، لہٰذا شاید اب بھی تخصیص ہو۔ مزید یہ کہ شاید جمعہ کے دن سترہ رکعت واجب ہوں، صرف دو رکعت خطبہ کے لیے مختلف ہوں۔

ایک دلیل یہ بھی ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ زمانہ رسولؐ نماز جمعہ واجب تھی اور اب عصر غیبت میں شک ہے، تو استصحاب بقایِ جمعہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس استدلال میں مسئلہ یہ ہے کہ زمانہ حضور اور زمانہ غیبت مختلف ہیں؛ پہلے وجوب یقینی تھا اور اب شک ہے۔

اگر ہم دیگر اصول عملیہ اختیار کریں، تو بعض اوقات شک یہ ہوتا ہے کہ نماز ظہر واجب ہے یا نماز جمعہ، تو ایسے میں شک مکلف پر ہے اور احتیاط کے طور پر دونوں واجب تصور کیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر شک یہ ہو کہ نماز جمعہ واجب ہے یا حرام، تو یہاں دو برائتیں لازم ہیں: ایک برائت از وجوب اور دوسری برائت از حرمت، اور نتیجہ برائت نکلتا ہے۔ ہم اصالت التخییر کے اصول کو یہاں نہیں رکھتے۔

اگر شک یہ ہو کہ جمعہ نماز ظہر کی طرح واجب ہے یا واجبِ تخییری ہے، تو عقل کہتی ہے نماز ظہر پڑھے، لیکن شرع میں خود نوعیت کا تعین مشکل اور مشقت والا ہے، لہٰذا تعین حذف ہو جاتا ہے اور نتیجہ برائتِ نقلی کے مطابق تخییری وجوب حاصل ہوتا ہے۔

کشف اللثام میں بیان ہوا ہے کہ اگر معصوم نماز جمعہ ادا کرے تو اقامت واجب اور حضور بھی واجب ہے، لیکن جب امام معصوم موجود نہ ہو تو نماز جمعہ واجبِ عینی نہیں، یعنی نہ اقامت واجب ہے اور نہ حضور واجب۔

مرحوم فاضل ہندی فرماتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں اقامت نماز جمعہ واجب عینی نہیں، تین وجوہات کی بنا پر: اصل، اجماع اور روایات۔ اصل یہ ہے کہ شک ہے نماز جمعہ واجب ہے یا نہیں، اس لیے اصل عدم وجوب ہے۔ اجماع کے مطابق بھی اقامت جمعہ زمانہ غیبت میں واجب نہیں۔ بعض روایات بھی عدم وجوب کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسے روایت امامؑ کی زرارہ سے کہنے کی جس میں آیا کہ حیف ہے اگر تم مر جاؤ اور نماز جمعہ نہ پڑھی ہو، اس سے ظاہر ہے کہ اصحاب ائمہ نماز جمعہ نہیں پڑھتے تھے۔ فاضل ہندی مزید فرماتے ہیں کہ اجماع موجود نہیں، اصل کے مقابلے میں مخالف بھی موجود ہے، اور روایات بھی قطعی دلیل نہیں بنتیں۔

فاضل ہندی کی وضاحت کے مطابق، ان کا کہنا ہے کہ نماز جمعہ کے واجب ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اصلِ بحث یہ نہیں کہ واجبِ عینی ہے یا نہیں، بلکہ یہ کہ آیا واجبِ تعیینی ہے یا واجبِ تخییری۔

 

انہوں نے اصل عدم وجوبِ عینی کو دو طریقوں سے سمجھنے کی کوشش کی: یا تو اصالت البرائت ہے یا استصحاب عدم ازلی۔ لیکن اصالت البرائت یہاں قابل اعتبار نہیں کیونکہ اس کے لیے شک در تکلیف ضروری ہے، جبکہ یہاں شک نہیں بلکہ دلیل اجتہادی بھی موجود ہے۔ اس لیے اصل عدم وجوب درست نہیں، بلکہ بحث اصل میں یہ تھی کہ واجبِ تعیینی ہے یا تخییری۔

اگر کوئی کہے ایک اصل ہے جو کہتی ہے نماز جمعہ واجب نہیں اور ایک اصل ہے جو کہتی ہے واجب ہے، تو یہ دونوں اصلیں ایک لفظی اور دوسری عملی ہیں، اور عملی اصل پر لفظی اصل مقدم ہے، اس لیے ان میں تعارض نہیں ہے۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ تعارض دو اصلوں اور تعارض دو روایتوں میں فرق ہے۔ روایتوں میں اگر یقین ہو کہ ایک غلط ہے تو تعارض ہوتا ہے، لیکن اصول عملیہ میں اگر یقین ہو کہ ایک غلط ہے تو مسئلہ نہیں بنتا۔ مثال کے طور پر دو برتن نجس تھے، اب ایک صاف ہو گیا لیکن معلوم نہیں کون، تو دونوں پر استصحاب بقای نجاست کریں گے، یقینی طور پر ایک غلط ہے لیکن کوئی مسئلہ نہیں۔ تعارض تب ہے جب عمل میں ان پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔

نماز جمعہ کے معاملے میں ایک اصل کہتی ہے واجب نہیں، دوسری کہتی ہے واجب ہے۔ پہلی اصل صرف مباح ہونے کو کہتی ہے، نہ کہ حرام، اس لیے کوئی عملی تعارض نہیں ہے۔ ایک کہتا ہے مباح ہے، دوسری کہتا ہے واجب ہے، اس لیے نماز جمعہ پڑھنی چاہیے۔ لہٰذا فاضل ہندی کا کہنا ہے کہ اصول عملیہ میں تعارض کی بات درست نہیں کیونکہ عملی طور پر کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا۔

چند روایات جو تقیہ کے بارے میں ہیں، کیا ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نماز جمعہ واجب ہے یا حرام؟

جواب یہ ہے کہ ان روایات سے براہِ راست واجب یا حرام ہونے کا ثبوت نہیں نکلتا، کیونکہ یہ روایات صرف حالت تقیہ یا استثناء کی وضاحت کرتی ہیں، نہ کہ اصل وجوب یا حرمت کا تعین۔ اس لیے ان سے حکم شرعی معلوم نہیں ہوتا، اور فقہاء میں اختلاف کے سبب احتیاط یہی ہے کہ اگر نماز جمعہ کے بارے میں یقین نہ ہو تو اپنی نماز ظہر کو ادا کریں۔

روایات تقیہ کا جائزہ:

مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ صَفْوَانَ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ‏ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي حَدِيثٍ قَالَ: فِي كِتَابِ عَلِيٍّ ع إِذَا صَلَّوُا الْجُمُعَةَ فِي وَقْتٍ‏ فَصَلُّوا مَعَهُمْ وَ لَا تَقُومَنَّ مِنْ‏ مَقْعَدِكَ‏ حَتَّى‏ تُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ قُلْتُ فَأَكُونُ قَدْ صَلَّيْتُ أَرْبَعاً لِنَفْسِي لَمْ أَقْتَدِ بِهِ فَقَالَ نَعَم [18]
ترجمہ: "امام نے فرمایا کہ حضرت علی نے ایک خط لکھا اور اس میں لکھا کہ جب اہل سنت نماز جمعہ پڑھیں تو ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ نماز جمعہ ختم ہونے کے بعد رک جاؤ اور دو رکعت مزید شامل نہ کرو۔ میں نے عرض کیا یعنی چار رکعت نماز پڑھی جائے اور ان کے پیچھے اقتداء نہ کیا جائے؟ حضرت نے فرمایا: ہاں۔"

محمد بن الحسن طوسی نے حسین سے سعید اہوازی تک صحیح سند بیان کی ہے۔ ابن بکیر موثق ہے، اور اگر موثق بھی نہ ہو تو چونکہ صفوان نے ان سے روایت کی ہے، کوئی اشکال نہیں۔

وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُصَدِّقِ بْنِ صَدَقَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ يُدْرِكُ الْإِمَامَ وَ هُوَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَ قَدْ صَلَّى الْإِمَامُ رَكْعَتَيْنِ قَالَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَ يَدْخُلُ مَعَهُ وَ يَقْرَأُ خَلْفَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى الْحَمْدَ- وَ مَا أَدْرَكَ مِنْ سُورَةِ الْجُمُعَةِ- وَ يَرْكَعُ مَعَ الْإِمَامِ وَ فِي الثَّانِيَةِ الْحَمْدَ- وَ مَا أَدْرَكَ مِنْ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ- وَ يَرْكَعُ مَعَ الْإِمَامِ فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ لِلتَّشَهُّدِ فَلَا يَتَشَهَّدْ وَ لَكِنْ يُسَبِّحُ فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ يُسَبِّحُ فِيهِمَا وَ يَتَشَهَّدُ وَ يُسَلِّمُز [19]
ترجمہ:
"میں نے امام (علیہ السلام) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو امام کو اس حالت میں پائے کہ وہ چار رکعت (جمعہ کی بجائے ظہر) کی نماز پڑھا رہا ہو اور امام دو رکعتیں پڑھ چکا ہو۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: وہ نماز کا افتتاح کرے اور امام کے ساتھ شامل ہو جائے، اور پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے قراءت کرے۔ پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور جو کچھ سورۂ جمعہ سے پا سکے، وہ پڑھے اور امام کے ساتھ رکوع کرے، اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد اور جو کچھ سورۂ منافقین سے پا سکے، وہ پڑھے اور امام کے ساتھ رکوع کرے۔ پھر جب امام تشہد کے لیے بیٹھے تو وہ تشہد نہ پڑھے بلکہ تسبیح کرے، اور جب امام سلام پھیر لے تو وہ دو رکعت نماز پڑھے جن میں تسبیح کرے، پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیرے۔"

عمار بن موسی ایسے شخص ہیں جو عجیب و غریب روایات نقل کرتے ہیں۔ جو نکات دیگر روایات میں نہیں ہیں، وہ ان کی روایات میں موجود ہیں۔ اس روایت کا موضوع یہ تھا کہ امام دو رکعت پڑھ چکے اور ہم دیر سے پہنچے۔ یعنی امام نماز ظہر پڑھ رہے تھے اور جمعہ نہیں تھی۔ لیکن اگر آپ جمعہ پڑھنا چاہتے ہیں تو یوں پڑھیں۔ امام کے تشہد میں سلام نہ دیں بلکہ سبحان اللہ کہیں اور پھر نماز جاری رکھیں۔ تاہم یہ روایت اصل میں نماز جمعہ کی نہیں ہے اور صاحب وسائل نے بھی درست طور پر سمجھا کہ اقتداء کیا جائے، یہ اقتداء ہی تھا۔ حمد اور سورت پڑھنا باطل نہیں ہے بلکہ چونکہ تیسری اور چوتھی رکعت میں امام ہے، ماموم کو قراءت کرنی چاہیے، اور یہ روایت اس بحث سے متعلق نہیں ہے۔

وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ع كَيْفَ تَصْنَعُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ- قَالَ كَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ قُلْتُ أُصَلِّي فِي مَنْزِلِي ثُمَّ أَخْرُجُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ قَالَ كَذَلِكَ أَصْنَعُ أَنَا [20]
ترجمہ: "میں نے امام سے عرض کیا کہ جمعہ کے دن کیا کریں گے؟ امام نے فرمایا، تم کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ گھر میں نماز پڑھوں گا اور ان کے ساتھ نماز جمعہ پڑھوں گا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا، میں بھی یہی کرتا ہوں۔"

یہ روایت یہ ثابت نہیں کرتی کہ ان کے ساتھ نماز میں شرکت کریں یا نہ کریں، یا اقتداء کریں یا نہیں، یا نماز ظہر کفایت کرے یا نہیں۔ یہ روایت صرف یہ دلالت کرتی ہے کہ جائز ہے پہلے نماز ظہر پڑھ لی جائے اور پھر نماز جمعہ پڑھی جائے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ہم غیبت کے زمانے میں نماز جمعہ کے بارے میں قطعی حکم نہیں دے سکتے۔ تاہم ہم روایات کو ایک اور انداز سے جائزہ لیں گے۔

روایات کی تقسیم بندی:
نماز جمعہ سے متعلق روایات چھ قسم کی ہیں:
۱۔ ایک قسم ایسی روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ نماز جمعہ واجب ہے اور کسی شرط یا قیود کا ذکر نہیں ہے۔ ان روایات بہت زیادہ ہیں۔
۲۔ ایک قسم وہ روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ نماز جمعہ عورتوں پر واجب نہیں، جس کا مطلب ہے کہ مردوں پر واجب ہے۔
۳۔ ایک قسم ایسی روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ جس کا فاصلہ دو فرسخ سے زیادہ ہو، اس پر نماز جمعہ واجب نہیں، مطلب یہ کہ دو فرسخ یا اس سے کم پر واجب ہے۔
۴۔ ایک قسم ایسی روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ اگر امام معصوم موجود ہو تو نماز جمعہ واجب ہے، اور اگر غیبت ِ امام ہو تو واجب نہیں۔
۵۔ ایک قسم ایسی روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ ہر امام، چاہے شیعہ ہو یا سنی، کے لیے نماز جمعہ واجب ہے، ورنہ واجب نہیں۔
۶۔ ایک قسم ایسی روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ امام معصوم شرط نہیں۔

روایات کا جائزہ:
روایات کی تعداد عام طور پر بہت زیادہ ہے اور کچھ ضعیف بھی ہیں، لیکن تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے سندی تحقیق کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مستفیض ہیں۔
ان روایات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ پہلی قسم کی روایات بتاتی ہیں نماز جمعہ واجب ہے، لیکن وجوب کے حالات اور وقت کے بارے میں نہیں بتاتیں۔
جو روایات بتاتی ہیں کہ نماز جمعہ عورتوں پر واجب نہیں، وہ بھی وضاحت نہیں کرتیں کہ مردوں پر کن حالات میں واجب ہے، لہٰذا یہ پہلی قسم سے متصادم نہیں ہیں۔
جو روایات بتاتی ہیں کہ دو فرسخ سے زیادہ فاصلے والوں پر واجب نہیں، وہ بھی حالات بیان نہیں کرتیں، لہٰذا یہ بھی پہلی دو اقسام سے متصادم نہیں اور تینوں اصل وجوب کے بیان میں ہیں۔

اگلی قسم کی روایات کہتی ہیں کہ جب امام عادل موجود ہو تو نماز جمعہ واجب ہے، یہ تمام پچھلی اقسام کو محدود اور مخصوص کرتی ہیں اور وجوب کی شرط کو امام معصوم کی موجودگی قرار دیتی ہیں، اگر امام یا نائب امام موجود نہ ہو تو واجب نہیں۔

اگلی قسم کی روایات بتاتی ہیں کہ امام معصوم شرط نہیں اور ہر شخص نماز جمعہ پڑھ سکتا ہے، اور یہ تعارض نہیں رکھتیں کیونکہ مطلب یہ ہے کہ نماز جمعہ کے وجوب کی شرط امام معصوم یا نایب امام کی موجودگی یا اجازت ہے، اور امام نے شیعیان کو اجازت دے دی ہے۔ لہٰذا یہ روایات بھی ایک دوسرے کے ساتھ متصادم نہیں ہیں۔

دوسری قسم بھی بتاتی ہے کہ مطلق امام، چاہے شیعہ ہو یا سنی، کے لیے نماز جمعہ واجب ہے۔ اس کو چند طریقوں سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ نماز اس جگہ پڑھی جا سکتی ہے جہاں حدِ خدا نافذ ہو۔ حد کو عموماً امام یا نایب امام نافذ کر سکتے ہیں۔ اگر روایات کہیں کہ نماز جمعہ پڑھی جائے جہاں اہل سنت حد نافذ کرتے ہیں، یہ تقیہ کے زمرے میں آتا ہے۔

اس تقسیم بندی سے روایات کا تضاد حل ہو جاتا ہے کہ زمانِ حضور میں امام کی وسعت اختیار کے ساتھ نماز جمعہ واجب عینی ہے اور زمانِ غیبت میں ائمہ اجازت دے چکے ہیں کہ نماز جمعہ پڑھی جا سکتی ہے، نہ کہ واجب ہے۔  

ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز جمعہ زمانِ غیبت میں حرام ہے۔
حرمت کے قائلین کے استدلال اور ان کا جواب
:
پہلا استدلال یہ ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ روز جمعہ نمازِ ظہر واجب ہے اور اگر کوئی اسے پڑھے بری الذمہ ہے، لیکن نماز جمعہ مشکوک ہے، یعنی اگر پڑھیں برائت حاصل ہوگی یا نہیں، معلوم نہیں۔ لہٰذا نمازِ ظہر پڑھنا چاہیے۔
جواب یہ ہے کہ یہ بحث ابتدا میں ہے اور اصول کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ یہ شک مکلف پر ہے اور احتیاط لازم ہے۔

دوسرا استدلال یہ کہ اگر نماز جمعہ واجب ہو اور ہر شہر میں امام جمعہ مقرر کیا جائے تو فتنے پیدا ہوں گے، اور فتنے حرام ہیں، لہٰذا امام جمعہ مقرر کرنا اور نماز جمعہ ادا کرنا حرام ہے۔
جواب یہ ہے کہ امام جمعہ کو عادل ہونا چاہیے اور اگر کسی کی وجہ سے فتنے پیدا ہوں تو وہ عادل نہیں۔ عدالت کے تقاضے میں فتنے والے کی نماز جائز نہیں۔

تیسرا استدلال یہ کہ سیرۃ المسلمین یہ تھی کہ امام جمعہ مقرر کرتے اور اگر مقرر نہ کریں تو نماز جمعہ حرام ہے۔
جواب یہ ہے کہ قبول ہے کہ سیرۃ میں نصب ذکر ہے، لیکن یہ شرط نہیں کہ نماز جمعہ کے جواز کے لیے نصب ضروری ہو۔ سیرۃ دلیلِ لفظی ہے، عمل دلیل نہیں، لہٰذا نماز جمعہ حرام نہیں بلکہ جائز ہے۔

پس کوئی نہیں کہہ سکتا کہ نماز جمعہ زمانِ غیبت میں حرام ہے۔ یہ دیکھنا ہے کہ نماز جمعہ واجب تعیینی ہے یا تخییری۔ اس میں دو چیزیں الگ ہونی چاہئیں:
ایک اقامہ نماز جمعہ اور دوسرا حضور نماز جمعہ۔ روایات زیادہ تر حضور کے بارے میں ہیں، یعنی اگرچہ وجوب کے بارے میں بھی ہیں، لیکن اصل موضوع حضور میں وجوب ہے۔

اقامت نماز جمعہ اور حضور: یہاں دو بحثیں ہیں، ایک یہ کہ اقامت نماز جمعہ واجب ہے یا نہیں، اور دوسری یہ کہ اقامت جائز ہے یا نہیں۔ وجوب کے بارے میں کہا جاتا ہے واجب نہیں کیونکہ سیرۃ مسلمین اور امامیہ یہ نہیں تھی کہ چند افراد کسی جگہ جمع ہوں اور نماز جمعہ قائم کریں۔ بلکہ اقامت نماز جمعہ زمانِ غیبت میں واجب نہیں۔ لیکن اقامت نماز جمعہ جائز ہے، اور اگر کوئی ولایت فقیہ مطلق یا مقید قبول کرتا ہے، چونکہ فقیہ زمانِ غیبت نایب معصوم ہے، اس لیے معصوم کے مناصب اس کے پاس ہیں جن میں اقامت نماز جمعہ شامل ہے۔ لہٰذا اقامت نماز جمعہ زمانِ غیبت جائز ہے۔ کچھ روایات ایسی بھی ہیں جن سے لوگ اس کے برعکس سمجھ سکتے ہیں، انہیں بھی بعد میں دیکھا جائے گا۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ وَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ جَمِيعاً عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فَرَضَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ خَمْساً وَ ثَلَاثِينَ صَلَاةً مِنْهَا صَلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ- أَنْ يَشْهَدَهَا إِلَّا خَمْسَةً الْمَرِيضَ وَ الْمَمْلُوكَ وَ الْمُسَافِرَ وَ الْمَرْأَةَ وَ الصَّبِيَّ [21]
ترجمہ:
"خداوند نے ہر ہفتے ۳۵ واجب نماز مقرر کی ہیں۔ ایک نماز واجب ہے ہر مسلمان پر جو نماز جمعہ میں شرکت کرے اور حاضر ہو۔"

اس روایت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ شخص کے لیے لازم ہے کہ نماز میں حاضر ہو، اور یہ بیان کرنے کے مقام پر نہیں کہ نماز جمعہ واجب ہے یا نہیں۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع قَالَ: إِنَّمَا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ‏ الْجُمُعَةِ إِلَى‏ الْجُمُعَةِ خَمْساً وَ ثَلَاثِينَ صَلَاةً مِنْهَا صَلَاةٌ وَاحِدَةٌ فَرَضَهَا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي جَمَاعَةٍ وَ هِيَ الْجُمُعَةُ وَ وَضَعَهَا عَنْ تِسْعَةٍ عَنِ الصَّغِيرِ وَ الْكَبِيرِ وَ الْمَجْنُونِ وَ الْمُسَافِرِ وَ الْعَبْدِ وَ الْمَرْأَةِ وَ الْمَرِيضِ وَ الْأَعْمَى وَ مَنْ كَانَ عَلَى رَأْسِ فَرْسَخَيْنِ [22]
ترجمہ: "خداوند نے ایک ہفتے میں
۳۵ نماز واجب کی ہیں۔ ایک ایسی نماز ہے جسے خدا نے جماعت کے ساتھ فرض قرار دیا، اور وہ نماز جمعہ ہے۔"

اس روایت کا مطلب نماز جمعہ کے قیام پر نہیں بلکہ نماز جمعہ میں شرکت اور جماعت کے ساتھ پڑھنے پر زور دینا ہے۔

نتیجہ یہ کہ جو بہت ساری روایات نماز جمعہ کے بارے میں ہیں، وہ زیادہ تر نماز جمعہ میں شرکت کے بارے میں ہیں اور اقامت کے لازم ہونے پر خاموش ہیں۔

مرحوم آیت‌ﷲ مرتضی حائری نے کتاب صلاۃ الجمعه میں بحث کی ہے کہ نماز جمعہ عصر غیبت میں کس حکم کی حامل ہے اور انہوں نے کہا کہ اقامت اور شرکت دونوں واجب تعیینی ہیں۔ آیت‌ﷲ حائری فرماتے ہیں کہ آیت
فاسعوا الی ذکر کا مطلب نماز جمعہ کی اقامت ہے۔فرماتے ہیں "اذا نودی" یعنی اذان، اس کا موضوعیت نہیں بلکہ طریقیت ہے۔ اذا نودی  کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اذان دی جائے۔ اگر کلمہ اذا نودی کو موضوعیت دی جائے تو مطلب ہوگا کہ اگر کہا گیا تو جانا لازم ہے اور اگر نہیں کہا گیا تو نہیں جانا۔ مرحوم حائری کا خیال تھا کہ یہ طریقیت ظاہر کرتا ہے کیونکہ عرف میں اس عبارت سے موضوعیت نہیں معلوم ہوتی۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر فاصلے دو فرسخ ہوں تو نماز جمعہ کے لیے حرکت کرنا قبل از اذان لازم ہے۔ ذکر کا مطلب نماز جمعہ ہے، اور مراد رسول اکرم ﷺ نہیں۔ اگر کسی روایت میں ذکر کو رسول اکرم ﷺ کے لیے مطبق کیا گیا ہے تو مراد یہ نہیں کہ ہر جگہ یہی معنی ہے بلکہ صرف ایک مصداق ہے۔ اس آیت کا مطلب ہے کہ خدا کے ذکر کی طرف دوڑو، جس میں ایک مصداق رسول اکرم ﷺ اور ایک نماز جمعہ وغیرہ ہے۔

آیت کے ذریعے نماز جمعہ کی وجوب عصر غیبت میں ثابت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن خاص خطاب مشافہہ کے لیے نہیں ہے۔ مرزا قمی فرماتے تھے کہ قرآن کے خطابات مخصوص وقت اور جگہ کے لیے نہیں بلکہ عام ہیں، لہٰذا یہ آیت زمانہ حضور اور غیبت دونوں پر صادق ہے۔

مزید یہ کہ شرعی خطابات صرف صحیح وضع کے لیے نہیں بلکہ اعم از صحیح و فاسد ہیں۔ اس آیت میں نماز کی طرف دوڑنے کا حکم ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ نماز صحیح ہے یا اعم از صحیح و فاسد۔ صحیح نماز وہ ہے جو امام معصوم کے ساتھ ہو، یہ یقینی ہے۔ لہٰذا عصر غیبت میں بھی نماز جمعہ کو اس آیت کی روشنی میں اقامت کرنی چاہیے۔

آیت‌ﷲ حائری پر نقد ہوسکتا ہے کہ  ان کا کہنا کہ "اذا نودی" طریقیت رکھتا ہے اور موضوعیت نہیں، قابل اعتراض ہے کیونکہ ہر لفظ میں اصل طور پر موضوعیت موجود ہوتی ہے۔ طریقیت کے لیے دلیل درکار ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ایک لفظ کا مطلب کسی روایت میں ایک معنی میں آیا تو ضروری نہیں کہ وہ معنی ہر جگہ ہو، صرف ایک مصداق کے لیے ہے۔ تفسیری مباحث میں آئمہ معنی کو نہیں بتاتے بلکہ مصادیق کو واضح کرتے ہیں۔ جب قرآن کہتا ہے "فاسعوا الی ذکر "، تو ہم مصادیق پر نہیں بلکہ معنی پر غور کریں۔ ذکر خدا یاد خدا ہے، نماز جمعہ یاد خدا ہے، نماز یاد خدا ہے، نماز ظہر یاد خدا ہے، خطبہ بھی یاد خدا ہے۔ لہٰذا اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نماز جمعہ واجب عینی ہے۔

 

آیت‌ﷲ حائری کی ایک بنیاد یہ تھی کہ آیت امر کرتی ہے کہ ذکر ﷲ کی طرف دوڑو اور عرف اسے نماز جمعہ کے لیے سمجھتا ہے۔ اصول میں ہم مانتے ہیں کہ عبادات کے الفاظ صحیح و فاسد دونوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ نماز صرف صحیح کے لیے ہے تو "اقیموا الصلاۃ" اطلاق نہیں رکھتا، اور شک کی صورت میں احتیاط کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی کہے نماز اعم از صحیح و فاسد کے لیے ہے تو شک کی صورت میں اطلاق پر تمسک کیا جائے۔

ہم اس آیت کی بحث کر رہے ہیں جس میں لفظ صلاۃ بالکل موجود نہیں ہے، بلکہ موضوع ذکر ﷲ ہے۔ آیت‌ﷲ حائری کے مطابق نماز اعم از صحیح و فاسد کے لیے وضع کی گئی ہے، لیکن یہاں بحث ذکر ﷲ کی ہے۔ ذکر ﷲ ایک کنایتی لفظ ہے، اس لیے صحیح اور اعم کا استدلال یہاں لاگو نہیں ہوتا۔ یہاں دیکھنا چاہیے کہ اس کنایہ کا مکنی عنه کیا ہے؟ کیا یہ نماز صحیح ہے، نماز فاسد، خطبہ، یا رسول اکرم ﷺ؟

یہ استدلال دراصل ان کے خلاف ہے۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عصر غیبت میں نماز جمعہ واجب تعیینی ہے، جبکہ آیت فرماتی ہے "فاسعوا"، یعنی امر ہے اور امر دلالت بر وجوب نہیں بلکہ استحباب بھی ہو سکتا ہے۔ آیت میں "اذا نودی" یعنی جب اذان دی جائے، جو کہ اوّلِ ظہر ہے۔
جمعہ کے دن بھی پہلے ظہر کا خطبہ پڑھا جاتا تھا، کسی نے یہ نہیں کہا کہ خطبہ سننا واجب ہے۔ لہٰذا "
فاسعوا" یعنی دوڑو، اس کا استحبابی حکم ہے، نہ کہ وجوب۔
پس آیت‌ﷲ حائری کا استدلال قابل قبول نہیں۔

آیت «اذا نودی للصلاه من یوم الجمعه فاسعوا الی ذکر » کی وضاحت کرتے ہیں کہ آیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب نماز جمعہ کے لیے کہا جائے تو جانا واجب ہے یا نہیں۔
پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا یہ آیت منافقین اور غیر مومنین پر بھی شامل ہوتی ہے یا نہیں؟ مثلاً اگر کوئی فاسق ہو، کیا وہ آیت کا مخاطب ہے یا نہیں؟ اس معاملے میں کہا جا سکتا ہے کہ آیت کا مقصد تغلیب ہے، یعنی مومن کو غیر مومن پر غالب کرنا۔
اب دیکھنا ہے کہ «
من یوم الجمعه» میں "من" کس سے متعلق ہے؟ "من یوم" جار و مجرور ہے اور کسی متعلق کی ضرورت ہے۔ لفظ "یوم" بھی ظرف اور مفعول فیہ ہے۔ آیت کے آغاز میں "اذا" ہے جو ظرف ہے۔ اس کے مطابق تین احتمالات ہیں:

پہلا: " من یوم " متعلق ہے "اذا" سے اذا من یوم
دوسرا: "
من یوم " متعلق ہے "نودی" سے نودی من یوم
تیسرا: "
من یوم " متعلق ہے "صلاۃ" سے اذا نودی للصلاه من یوم

ادباء اور مفسرین کہتے ہیں کہ "من یوم" "اذا" سے متعلق ہے۔ دوسرا اور تیسرا احتمال یہ فرض کرتے ہیں کہ "من" حرف جر کے طور پر استعمال ہوا، جو ادبیات میں ضعیف ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ "من" "اذا" سے متعلق ہے۔

اگر کوئی دوسرا احتمال قبول کرے تو مطلب یہ ہوا کہ جب اُس وقت، یعنی جمعہ کے دن، اذان دی جائے، نماز جمعہ کے لیے جائے۔ اگر تیسرا احتمال قبول کرے تو مطلب یہ ہوا کہ جب آپ کو نماز جمعہ کے لیے دعوت دی جائے، تو نماز جمعہ میں حاضر ہوں۔ پہلے احتمال کے مطابق آیت نماز جمعہ کے لیے ہے، جبکہ دوسرے اور تیسرے احتمال کے مطابق آیت نماز ظہر کے لیے بیان کرتی ہے۔



[1] ۔ واجب تعیینی اس واجب کو کہا جاتا ہے جس کا تقاضا معین طور پر مکلف سے کیا گیا ہو اور اس کا کوئی متبادل نہ ہو جیسے نماز اور روزہ۔ اس کے مقابلے میں واجب تخییری ہے جس میں مکلف کو دو یا چند واجبات میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

[2] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج 7، ص 295

[3] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۱۰

[4] ۔ الأمالي للصدوق / المصدر من بحار الأنوار: ج٨٦ ، ص١٨٤

[5] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۰۴

[6] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۱۰

[7] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۰۴

[8] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۱۰

[9] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۱۰

[10] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۴۲

[11] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۰۴

[12] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۰۰

[13] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۴۱

[14] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۴۴

[15] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۴۲

[16] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۴۴۷

[17] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۴۴۷

[18] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۴۲

[19] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۳۴۸

[20] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷

[21] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۲۹۹

[22] ۔ وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج ۷، صفحہ ۲۹۹