اکثر لوگ جب ان کے گھر اولاد کی ولادت ہوتی ہے تو فوراً یہ سوچنے لگتے ہیں کہ بچے یا بچی کا نام کس طرح رکھا جائے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآنِ مجید سے حروف نکال کر نام رکھا جائے، کچھ علمِ الاعداد یا علمِ نجوم (ستاروں) کے مطابق نام تجویز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور بعض تاریخِ پیدائش یا وقتِ پیدائش کے حساب سے حروف معلوم کر کے نام رکھتے ہیں۔ شریعتِ محمدی ﷺ میں ان میں سے کسی طریقے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ نہ قرآن و سنت میں، نہ اہلِ بیت علیہم السلام کے طریقوں میں ہمیں اس طرح کا کوئی طریقہ یا ہدایت ملتی ہے۔ (البتہ اس کی ممانعت یا حرمت بھی نہیں ہے، اگر رکھا گیا نام اچھا اور با معنی ہو۔)
اسلام میں نام رکھنے کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ نام نیک، با معنی اور پسندیدہ
ہو۔ اولاد کا اچھا نام رکھنا مستحب ہے کیونکہ یہ بچے کا باپ پر حق ہے۔ تمام ناموں میں
سے افضل نام وہ ہیں کہ جن میں اللہ تعالی کی عبودیت کا اظہار ہو جیسے عبداللہ ، عبدالرحیم
، عبدالرحمن وغیرہ ۔ ان کے بعد انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے نام ہیں اور ان سب
میں سے افضل محمد ہے بلکہ جس کے چار بچے ہوں اگر ان میں محمد کا نام نہ ہو تو مکروہ
ہے۔
اسی طرح بہتر ہے کہ بچی کا نام اہلِ بیت علیہم السلام کی خواتین یا نیک صحابیات کے
ناموں پر رکھا جائے مثلاً: فاطمہ، زہرہ، زینب،
خدیجہ، کلثوم، رقیہ، سکینہ، نرجس اور دیگر ایسی بافضیلت خواتین کے نام، جن کے کردار،
ایمان اور پاکیزگی کی مثالیں تاریخ میں روشن ہیں۔
امام باقر ؑ فرماتے ہیں: سب سے اچھانام وہ ہے جس میں عبودیت
کااظہار ہو اوربہترین نام انبیا کے اسماء گرامی ہیں۔[1]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ہر باپ کى ذمہ دارى ہے کہ وہ اپنى اولاد کے لیے خوبصورت نام انتخاب
کرے۔[2]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اولاد کے باپ پر تین حق ہیں پہلا یہ کہ اس کا نام اچھارکھے دوسرا
کہ اسے پڑھنا لکھنا سکھائے تیسرا یہ کہ اس کے لیے شریک حیات ڈھونڈے۔[3]
امام موسى کاظمؑ نے فرمایا:
باپ کى پہلى نیکى اولاد کے ساتھ یہ ہے کہ اسکے لیے پیارا سانام انتخاب
کرے۔[4]
رسول اسلام ﷺ نے فرمایا:
اچھا نام رکھو کیونکہ قیامت کے روز تمہیں انہى ناموں سے پکارا جائے
گا اور کہا جائے گا اے فلان ابن فلان اٹھ کھڑے ہو اور اپنے نورسے وابستہ ہو جاؤ اور
اے فلاں بن فلاں اٹھ کھڑے ہو کہ تمہارے لیے کوئی روشنى نہیں جو تمہارى راہنمائی کرے
۔ [5]
ایک شخص نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا : ہم
لوگ آپ کے اور آپ کے اجداد کے نام اپنےلیے انتخاب کرتے ہیں کیا اس کام کا کوئی فائدہ
ہے آپ نے فرمایا: ہاں الله کى قسم کیا دین اچھوں
سے محبت اور بروں سے نفرت کے سوا بھى کچھ ہے۔[6]
امام باقر ؑ فرماتے ہیں:
شیطان سے بچو اور اس سے بہت خبردار ہو، کہ جب شیطان سنتا ہے کہ کسى
کو محمد اور على کہہ کے پکارا جاررہا ہے تو وہ یوں پگھل جاتا ہے جیسے سیسہ پگھل جاتا
ہو اور جب وہ سنتا ہے کہ کسى کو ہمارےدشمنوں میں سے کسى کے نام سے پکارا جاتا ہے تو
خوشى سے پھولے نہیں سماتا۔[7]
پیغمبر اسلام ﷺنے فرمایا:
جس کسى کے بھى چار بیٹے ہوں اور اسنے کسى ایک کا نام بھى میرے نام
پر نہیں رکھا اس نے مجھ پرظلم کیا ہے۔[8]
امام باقر ؑنے ارشاد فرمایا:
پیغمبر نام کے مسئلے پر اس
قدر اہتمام کرتے تھے کہ اگر ان کے اصحاب یا شہروں کے ناموں میں سے کسى کا اچھا نہ لگتا
تو فوراً بدل دیتے عبدالشمس کو عبدالوہاب میں تبدیل کردیا عبد العزى (عزى بت کا بندہ
) کو آپ نے عبدالله میں بدل دیا عبدالحادث ( شیر کا بندہ ) کو عبدالرحمن میں اور عبدالکعبہ
کوعبدالله میں بدل دیا-[9]
العبد، سید شہروز زیدی

