اوقات کراہت نماز نافلہ
واجب نمازیں ،نوافل یومیہ (آٹھ رکعت نافلہٴ ظہر، آٹھ رکعت نافلہٴ عصر، چار رکعت نافلہٴ مغرب
دو رکعت نافلہٴ عشا اور گیارہ رکعت نافلہٴ شب، دو رکعت نافلہٴ صبح) و نوافل ذوات السبب (جیسے نماز
ِزيارت، نمازِ استخارہ و مخصوص دنوں اور راتوں کی مستحبی نمازیں، نماز جعفرِ
طیار، نماز رسول اللہ، نماز امیرالمؤمنین و
دیگر معصومینؑ)
کسی وقت بھی
پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور ان کا قضا کرنا بھی کسی وقت بھی جائز ہے۔
نوافل مبتدا (وہ نوافل جو نوافلِ یومیہ یا نوافلِ ذوات
السبب کے علاوہ ہیں جس کے بارے میں خاص نص نہیں، جیسے دن میں کسی
بھی وقت دو رکعت نفل پڑھنا صرف مستحب ہونے کی وجہ سے) کو بعض فقہا نے پانچ اوقات میں پڑھنا مکروہ قرار دیا ہے:
۱۔ نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک
۲۔ نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک
۳۔ طلوع آفتاب سے لے کر جب تک یہ پھیل
نہ جائے
۴۔ سورج کے عروج (جب سورج سر پر ہو) سے
زوال تک
۵۔ غروب آفتاب
لیکن اگر کسی نے نماز کو ان اوقات میں
داخل ہونے سے پہلے شروع کر دیا ہو، تو اسے مکمل کرنا مکروہ نہیں۔
وہ روایات جو یہ
بتاتی ہیں کہ انسان نمازِ فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک، اور نمازِ عصر کے بعد سے
غروبِ آفتاب تک نافلہ نہیں پڑھ سکتا، ان میں دو روایتیں بنیادی ہیں جو سند کے اعتبار
سے معتبر ہیں۔
ایک موثّقہ حلبی[1]
اور دوسری موثّقہ معاویہ بن عمار[2]
ہے۔
پہلی روایت میں ہے کہ: لا
صلاة بعد الفجر حتی تطلع الشمس یعنی نمازِ صبح کے بعد طلوعِ آفتاب تک کوئی نماز نہیں۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ: لا صلاة بعد العصر حتی تصلی المغرب و لا
صلاة بعد الفجر حتی تطلع الشمس
البتہ دیگر روایات
بھی اس مضمون میں موجود ہیں مگر وہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔
ان دونوں روایتوں
کا اطلاق واجب نماز، نماز نافلہ یومیہ و نمازنافلہ ذاتِ السبب کی نفی کرتا ہے، یعنی یہ بیان کرتے ہیں کہ (ان اوقات
میں) نماز کا تحقق ہی نہیں ہوتا۔ ان روایات میں یہ ذکر نہیں کہ مراد، فرض نماز کی قضا
ہے یا نافلہ کی قضا۔
نافلہ مبتدا (نوافل
کی تیسری قسم) کی تو کوئی قضا ہوتی ہی نہیں؛ جب بھی انسان دو رکعت ادا کرے، وہی دو
رکعت اسی وقت مستحب شمار ہوتی ہیں۔ نوافل کی قضا اس وقت بنتی ہے جب انسان نے نافلہ
شب نہ پڑھی ہو، یا نافلہ ظہرین نہ پڑھی ہو، یا نمازِ صبح کی نافلہ وغیرہ نہ پڑھی ہو۔
یہ روایات قضائے
فریضہ، قضائے نوافلِ یومیہ، نافلۂ ذاتِ السبب اور نوافلِ مبتدا سب کو شامل کر لیتی
ہیں۔ لیکن قضائے فریضہ کے بارے میں تخصیص لازم ہے، کیونکہ پہلے سے معتبر روایات موجود
ہیں، جیسے صحیحه عبد اللہ بن مسکان، موثّقہ ابو بصیر، صحیحه زرارہ، جن میں ہے کہ اگر
مکلف سے نمازِ مغرب و عشاء رہ جائے تو وہ ان کی قضا کر لے۔[3]
پس جب ہم قضائے فرائض
کے مسئلے سے فارغ ہو جاتے ہیں کہ انسان کسی بھی وقت ان کی قضا کر سکتا ہے، تو اس بنا
پر «لا صلاة» جو ظاہر میں مطلق نفیِ نماز پر دلالت کرتا ہے، اس عموم سے ان موارد (یعنی
قضائے فرائض) کو ضرور مستثنیٰ کرنا ہوگا۔
اسی طرح قضائے نوافلِ
یومیہ کو بھی اس عموم سے مستثنیٰ کرنا ضروری ہے۔ جو نوافل وقت پر نہ پڑھی گئی ہوں،
اگر ان کی قضا ان اوقات میں کی جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں۔
اسی طرح نافلہ ذاتِ
سبب کو بھی استثنا کرنا ضروری ہے، اگرچہ بعض حضرات[4]
نے فرمایا ہے کہ نافلہ ذاتِ السبب کے بارے میں ہمارے پاس استثنا کی کوئی دلیل نہیں
ہے۔
روایات میں سے ایک
روایت صحیحہ معاویہ بن عمار[5]
ہے: شیخ کلینیؒ نے عن
محمد بن اسماعیل، عن الفضل بن شاذان کے واسطے سے روایت کی ہے۔ یہ شیخ کلینیؒ کی ایک سند ہے۔ و عن احمد بن محمد ادریس، احمد بن محمد بن
ادریس ابوعلی الاشعری ہیں، جو شیخ کلینیؒ کے مشائخ ہیں اور ثقہ، عادل راوی ہیں۔ و عن احمد بن ادریس، عن محمد بن
عبدالجبار الاشعری جمیعاً یہ دو سندیں ہوئیں۔ اگرچہ شیخ کلینیؒ کی وہ روایات جو محمد
بن یحیی العطار یا علی بن ابراہیم سے نقل ہوئی ہیں بہت زیادہ ہیں، لیکن شیخ کلینیؒ
کی احمد بن ادریس قمی (ابوعلی اشعری) سے منقول روایات بھی تعداد میں کافی ہیں۔
جمیعاً عن صفوان بن یحیی عن معاویة بن
عمار یہ روایت سند کے
اعتبار سے صحیح ہے۔
قال: سمعت أباعبدالله علیہ السلام یقول:
خمس صلوات لاتترک علی حالٍ یعنی یہ پانچ نمازیں کسی حالت میں ترک نہیں کی جاتیں۔
یعنی ہر وقت انہیں ادا کیا جا سکتا ہے، نہ یہ کہ ترک کرنا حرام ہے، کیونکہ ان میں سے
بعض نمازیں مستحب بھی ہوتی ہیں۔
اذا طفت بالبیت ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم بیت اللہ کا
طواف کرو۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ واجب طواف کے وقت بلکہ فرمایا جب بھی تم نے طواف
کیا چاہے وہ مستحب طواف ہی کیوں نہ ہو، یہ ذاتِ سبب شمار ہو گا۔
و اذا اردت ان تحرم اور جب تم احرام باندھنے کا ارادہ کرو، تو
اس وقت کی نماز ترک نہیں ہوتی۔اگر طلوعِ آفتاب سے پہلے احرام باندھنا چاہتے ہیں، اس
کی نماز مستحب ہے، پس یہ ذاتِ سبب میں داخل ہے۔ اگر چاہتے ہیں کہ اس کو طلوعِ آفتاب
سے پہلے، نمازِ صبح کے بعد ادا کریں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
و صلاة الکسوف و اذا نسیت فصلّ اذا ذکرت،
و صلاة الجنازة یہ بھی ان میں شامل
ہیں۔ مثلاً ہم نوافل بھول گئے تھے، نمازِ فجر کی نافلہ ادا نہیں کی تھی؛ اب ہم اسے
فجر کے بعد ادا کر لیتے ہیں۔ یا نوافلِ ظہرین یاد نہیں رہیں تو عصر کے بعد ادا کر لیتے
ہیں۔ یہ روایت قضا پر بھی دلالت کرتی ہے اور ذاتِ السبب پر بھی، اور یہاں کسی خاص خصوصیت
کا احتمال نہیں ہے۔
یعنی اس کا مطلب
یہ ہے کہ بعض اعمال (جیسے احرام) نماز کی وجہ سے کامل ہوتے ہیں، جیسا کہ شیخ مفیدؒ
کا قول ہے کہ انسان کو طلوعِ شمس سے پہلے طواف نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا لازمہ
یہ ہوگا کہ وہ طواف کے فوراً بعد نماز پڑھے، جب کہ وہ نماز طلوعِ شمس سے پہلے آجائے
گی، لہٰذا طواف نہ کرے۔ طواف طلوعِ شمس کے بعد اور دھوپ پھیلنے کے بعد انجام دے۔[6]
البتہ یہ حکم ان
صحیح روایات کے مخالف ہے۔
ہشام بن حیان (هاشم
الحیان ابی سعید المکاری) کی روایت[7]
جو زیادہ واضح ہے: و عن
علی بن ابراهیم، عن محمد بن عیسی، عن یونس، عن هشام بن أبی سعید المکاری عن ابی بصیر، عن ابی عبدالله علیہ السلام
قال: خمس صلوات تصلیهن فی کل وقت: صلاة الکسوف و الصلاة علی المیت و صلاة الاحرام
جو کہ ذاتِ سبب ہے و
الصلاة التی تفوت یعنی قضا کی نماز
و صلاة الطواف من الفجر الی طلوع الشمس و
بعد العصر الی اللیل
وہی وقت جسے مکروہ کہا گیا تھا، روایت بیان کرتی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ اس روایت کی
سند میں هشام بن حیان ہے، اور اس کے لیے کوئی معتبر توثیق ثابت نہیں۔ لہٰذا پہلی صحیحہ
کے مقابلے میں اسے مؤید کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
صحیحہ حسین بن ابی
العلاء[8]
میں ہے: و عنه (شیخ کی سند
حسن بن سعید)، عن فضالة بن ایوبعن فضالة بن ایوب و عن القاسم بن محمد جمیعاً یہ دو راوی ہیں۔
اگر کوئی قاسم بن محمد بن جوہری پر اشکال کرے تو کوئی نقصان نہیں، کیونکہ فضالہ بن
ایوب، جو جلیل القدر ہیں، وہ بھی ساتھ روایت کر رہے ہیں۔
عن الحسین بن ابی العلاء، عن ابی عبدالله
علیہ السلام قال: اقضِ صلاة النهار أیَّ ساعة شئت من لیل أو نهار کل ذلک سواء
نمازِ یومیہ کی قضا تم جب چاہو، رات کسی بھی وقت یا دن کے کسی بھی وقت، ادا کر لو،
سب برابر ہے۔
پس نمازِ یومیہ کو
اگر رات میں ادا کرو تو وہ قضا ہوگی۔ اگر دن میں پڑھو تو بھی ای ساعة عموم پر نصّ ہے۔ ان سابقہ روایات کا تقیید
یہاں نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ عام یا مطلق ہوتیں تو کہ سکتےتھے کہ یہاں تقیید ہو جاتی
ہے، لیکن یہاں صریح عموم ہے: کل ذلک سواء کوئی فرق نہیں۔
ہماری بحث میں، کیونکہ
نافلہ مبتدا کی قضا نہیں ہوتی، تو ذاتِ السبب اور قضائے نافلہ یومیہ اس حکم میں داخل
نہیں ہوتے۔ لہٰذا ان دونوں کو مستثنیٰ کرنا ضروری ہے، جیسا کہ صاحبِ عروہ نے بھی مستثنیٰ
کیا ہے۔
اس باب میں دوسری
روایت، علی بن بلال کی روایت ہے:[9]
و باسناده (سند شیخ) عن محمد بن احمد بن
یحیی، عن محمد بن عیسی، عن علی بن بلال، قال: کتبت الیه فی قضاء النافلة من طلوع
الفجر الی طلوع الشمس، و من بعد العصر الی أن تغیب الشمس فکتب لا یجوز ذلک الا
للمقتضی فاما لغیره فلا
میں نے امامؑ کو نافلہ کی قضا کے بارے میں لکھا:
وہی دو وقت جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یا تو مشروع نہیں یا جائز
نہیں۔
امامؑ نے لکھا: یہ
جائز نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ کوئی موجب و ضرورت ہو۔اور رہے دوسرے (یعنی غیرِ مقتضی)،
تو ان کے لیے جائز نہیں۔
مقتضی سے مراد یہ
ہے کہ وہ شخص جو نمازِ قضا ادا کرتا ہو، چاہے وہ نافلہ ہو یا مستحب، چونکہ مانحن فیہ میں سوال ہی قضائے نافلہ کے بارے میں ہے، اس لیے امامؑ فرماتے
ہیں کہ جو شخص قضا انجام دیتا ہے، اس کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ ان اوقات میں نافلہ
کی قضا کرے۔ اس طرح نافلہ کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ مقتضی مجمل ہے اور
اسے قضائے نافلہ پر محمول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اصل سوال ہی قضائے نافلہ تھا اور
اگر مقتضی سے قضا مراد ہو تو یہ استثناء بے معنی ہو جاتا ہے اور پہلا لا یجوز کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔ اسی بنا پر کہا گیا
کہ روایت مجمل ہے۔
لیکن روایت مجمل
نہیں۔ کیونکہ قضا کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ عمل کو اس کے وقت کے باہر تدارکاً انجام
دینا، اور دوسرا مطلق اتیان، یعنی یہ لازم نہیں کہ وقت کے باہر ہی انجام دیا جائے؛
جیسے قضى صلاته یعنی اس نے اپنی
نماز ادا کی۔ پس جب کہا گیا ہے: کُتِبَ إِلَیهِ فِي قَضَاءِ النَّافِلَة تو اس سے مراد ہے نافلہ کا مطلق اتیان۔ اس
طرح طلوعِ فجر سے طلوعِ شمس تک اور عصر کے بعد غروب تک ان اوقات میں نافلہ ادا کرنا
ممکن ہے، اور نافلہ کی قضا مترتبہ صورت میں تو صحیح ہے مگر نافلہِ مبتدا میں صحیح نہیں۔
یہی حکم موثّقہ حلبی[10]
میں یوں تعلیل کیا گیا ہے:
لَا صَلَاةَ بَعدَ الفَجرِ حَتّى تَطلُعَ
الشَّمس، فَإِنَّ رَسُولَ اللّه(ص) قَالَ: إِنَّ الشَّمسَ تَطلُعُ بَینَ قَرنَيِ
الشَّیطان
یعنی نماز نہ پڑھنے
کی علت یہ بتائی گئی کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور دو
سینگوں کے درمیان ہی غروب ہوتا ہے، اور بعض کے مطابق لَا صَلَاةَ بَعدَ العَصرِ حَتّى تُصَلَّى المَغرِب یہ تعلیل باطل ہے،
اور عامہ نے اسے رسول اللہ سے نقل کیا ہے۔
مرحوم خوئیؒ نے فرمایا کہ یہ بات قطعاً باطل ہے اور اہلِ سنت کے اقوال سے مشابہ ہے،
اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ امام نے یہ بات تقیہ کی وجہ سے بیان فرمائی ہے۔ ورنہ چونکہ
زمین کروی ہے اور ہر وقت کسی نہ کسی جگہ طلوع، زوال اور غروبِ آفتاب پایا جاتا ہے،
تو پھر تو انسان کو کسی بھی وقت مستحب نماز نہیں پڑھنی چاہیے، کیونکہ قرنی الشیطان
ہمیشہ موجود رہیں گے۔
لیکن انصاف کی بات
یہ ہے کہ یہ توضیح (جو مرحوم خوئیؒ نے دی ہے) مکمل معلوم نہیں ہوتی۔کیونکہ اگر یہ بیان
امامؑ کی طرف سے صادر ہوا ہے تو اس کی واضح توجیہ موجود ہے، کیوں کہ یہ ایک معنوی امر
ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں بھی سورج طلوع ہوتا ہے، وہاں اس وقت کی مناسبت سے عبادت
کا زمانہ نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس گھڑی میں شیطان کا معنوی اثر زیادہ ہوتا ہے،
کیونکہ سورج پرست لوگ اسی وقت کو سورج کی پرستش کے لیے موزوں سمجھتے تھے، اور سورج
کی پرستش دراصل شیطان کی پرستش ہی کی طرف پلٹتی ہے؛ کیونکہ شیطان ہی اُنہیں غیرِ خدا
کی عبادت پر اُکساتا ہے۔ اسی عمل کو عرفی زبان میں یوں کہا گیا ہے، لہٰذا جہاں سورج
طلوع ہوتا ہے، وہیں اس وقت کراہت آتی ہے، اور دنیا کے باقی علاقوں میں جہاں اس وقت
طلوع نہیں ہو رہا کراہت کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔
البتہ ہماری اس با ت کے مقابلے میں و
مرحوم خوئی کے قول کی تائید میں ایک معتبر روایت موجود ہے[11]
و باسناده صدوق (رحمہ الله) عن ابی الحسن
محمد بن جعفر الاسدی عن محمد بن العثمان العمری و اما ما سألت عن الصلاة عند طلوع
الشمس و عند غروبها، فلئن کان كما یقول الناس ان الشمس تطلع بین قرنی الشیطان و
تغرب بین قرنی الشیطان فما أرغم أنف الشیطان بشیئ افضل من الصلاة فصلّها
امام فرماتے ہیں شیطان کی ناک کو زیادہ خاک
میں ملانے کے لیے نماز سے بہتر کیا ہے؟ نماز پڑھو اور شیطان کی ناک کو خاک میں ملاو۔
شیخ صدوق نے یہ روایت
اپنی کتابوں اکمال الدین اور اتمام النعمة میں نقل کی ہے۔
امام حجّتؑ کی طرف
سے ایک توقیع آیا کہ اگر اہلِ سنت درست کہتے ہیں کہ: الشمس تطلع بین قرنی الشیطان و تغرب بین قرنی الشیطان، اور یہ بات صحیح
ہے؛ تو شیطان کو کمزور کرنے کے لیے نماز سے بہتر کیا ہو سکتا ہے؟ لہٰذا نماز پڑھو اور
شیطان کے منہ کو خاک میں ملاؤ۔
روایت کی سند اور
دلالت مضبوط ہے، لیکن یہ صرف نمازِ عند طلوع الشمس و عند غروبها کے بارے میں ہے اور
روایت دیگر تین اوقات پر متعرض نہیں ہوئی۔
مرحوم محقق نے ایک
عجیب قول بیان کیا ہے؛ وہ فرماتے ہیں کہ معلوم نہیں یہ کلام امامؑ کا ہے، شاید یہ توقیع
محمد بن عثمان عمری نے کہی اور فتویٰ دیا۔ حالانکہ روایت کا متن واضح ہے کہ یہ امام
حجّتؑ سے ہے؛
لفظ لایحلّ ما أحد إلا بطیبة نفسه فکیف بمالنا کے بعد امامؑ
نے تعبیر کی کہ ہم عترت ہیں؛ یہ عمری کا لفظ نہیں بلکہ امام حجّتؑ کا لفظ ہے۔ تو یہ
کیسے ممکن ہے کہ محقق نے روایت نہیں دیکھی؟ لہٰذا روایت کی دلالت اور سند میں کوئی
مسئلہ نہیں۔
روایت کا اشکال صرف
اسی سبب سے ہے کہ راویانِ سند مستند مکمل نہیں۔
صاحب مدارک اپنی سند کے بارے میں ایک اور اشکال[12] پیش کرتے ہیں۔ ان کا اشکال یہ ہے کہ روایت میں احتمال قطع ہے، کیونکہ یہ روایت «محمد بن جعفر الاسدی» تک محمد بن عثمان العمری کے وسیلے سے پہنچی۔ لیکن یہ قول درست نہیں ہے، کیونکہ ظاهر روایت یہ ہے کہ یہی جواب، جو اس واسطے کے ذریعہ پہنچا، صحیح طور پر محمد بن جعفر الاسدی تک پہنچا۔ روایت کی سند اور اس میں چار مشایخ کے ذکر کی وجہ سے یہ معتبرہ تصور کی جاتی ہے۔ چاروں کا اتفاق اعتبار کا باعث بنتا ہے۔ اگر یہ روایت بھی نہ ہوتی، تب بھی وہ قول باطل ہوتا۔
صاحب عروہ فرماتے
ہیں: و عندی فی کراهة
صلاة مبتدئة فی هذه الاوقات اشکال
اس کا اشکال یہ ہے کہ یہ روایات تعلیل پر مبنی ہیں، اور یہ تعلیل درست نہیں۔ لہٰذا
طلوعِ آفتاب، وسطِ دن، اور غروب کے وقتوں میں یہ اصل ثابت نہیں، اور کوئی معتبر روایت
موجود نہیں۔ مزید یہ کہ ان روایات میں عند الشمس کا بھی ذکر ہے، اور دو موثّقہ روایات بھی ہیں، جن کی تعلیل
ان کی کراهت کو بھی رد کرتی ہے۔ اس لیے نماز کی کراهت یا عدم مشروعیت پر قول دینا صحیح
بنیاد نہیں رکھتا، اور ہم اس کے پابند نہیں ہیں۔مزید بیان فرماتے ہیں کہ اگر ہم کراهت
پر ملتزم ہوں، تو یہ کراهت اُس وقت کی نماز کے شروع کرنے پر ہے، نہ کہ اُس وقت کے دوران
مکمل کرنے پر۔ یعنی اگر کسی نے نماز کو قبل از وقت کراهت شروع کیا اور کراهت کے وقت
میں داخل ہو گیا، تو کوئی اشکال نہیں۔ حتیٰ کہ وہ جو کہتے ہیں کہ یہ مکروہ یا ممنوع
ہے، وہ بھی یہاں دلیل نہیں دے سکتے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ روایات
دراصل شروع کرنے سے منع کرتی ہیں، یعنی ان اوقات میں نماز شروع نہ کی جائے۔ اگر پہلے
ہی شروع کر دی گئی، تو اشکال نہیں۔ دوسری یہ کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ اگر کسی نے
نافلہ ظہر نہیں پڑھی اور وقت مختصر (ذراع) رہ گیا، تو پہلے فریضہ پڑھے اور پھر نافلہ
ادا کرے۔
صحیحہ زرارہ[13]
ہے کہ: محمد بن الحسن
باسناده عن محمد بن احمد بن یحیی، عن احمد بن الحسن، عن عمرو بن سعید، عن مصدق، عن
عمار، عن ابی عبدالله علیہ السلام قال: وقت صلاة الجمعة اذا زالت الشمس شراک أو
نصف
یہاں بتایا گیا ہے
کہ نماز جمعہ کی نفل پہلے پڑھی جاتی ہے۔ اگر نماز نافلہ شروع ہو جائے اور صرف ذراع
باقی ہو، تو باقی رکعت مکمل کی جائے۔ اگر ذراع ختم ہونے سے پہلے فریضہ شروع ہو جائے،
تو نفلی چھوڑ دی جائے اور فریضہ ادا کیا جائے۔ اسی طرح اگر بعض رکعتیں پہلے پڑھی گئی
ہوں، تو انہیں مکمل کر کے عصر کی نماز پڑھی جائے۔
اگر ہم اس روایت
کو ملازمت کے طور پر دیکھیں، تو یہ صرف نافلہ یومیہ کے بارے میں ہے۔ اگر نافلہ یومیہ
شروع ہو جائے، تو انسان اسے کراهت کے وقت مکمل کر سکتا ہے، خصوصاً نافلہ ظہرین میں۔
لیکن یہ بات اس وقت کے ابتداء میں نماز کے شروع کرنے پر نہیں صدق آتی کیونکہ روایت
کے الفاظ: لاصلاة بعد العصر
حتی تصلی المغرب کا مطلب یہ ہے کہ
اگر نماز پہلے سے شروع نہیں ہوئی، تو بعد کے وقت میں نہیں پڑھی جا سکتی۔ مگر اگر پہلے
سے شروع کی گئی ہو، تو اسے مکمل کرنا جائز ہے تاکہ فضیلت کا نقصان نہ ہو۔
والحمدلله رب العالمین
الاقل، سید شہروز زیدی
[1] ۔ وسائل الشیعہ، ج۴، ص۲۳۴، حدیث۱
[2] ۔ وسائل الشیعہ، ج۴، ص۲۳۵، حدیث۲
[3] ۔ وسائل الشیعہ، ج۴، ص۲۸۷، باب۶۲
[4] ۔ التنقیح، الصلاة، 1/527
[5] ۔ وسائل الشیعة، 4/241، حدیث 4
[6] ۔ المقنعہ، ص 212
[7] ۔ وسائل الشیعة، 4/241، حدیث 5
[8] ۔ وسائل الشیعة، 4/243، حدیث 13
[9] ۔ وسائل الشیعة، 4/235، حدیث 3
[10] ۔ وسائل الشیعة 4/234، حدیث 1
[11] ۔ وسائل الشیعة/4/236/ح8
[12] ۔ مدارک الاحکام/3/109
[13] ۔ وسائل الشیعة/4/245/ح1

.jpg)