قربانی کا بہترین وقت کون سا ہے؟


 باسمه تعالیٰ،

✔️ عید الاضحیٰ اور اس کے بعد کے دو دنوں میں قربانی کرنا سنّتِ ثابتہ و مؤکدہ ہے، اور فقہاء و متشرّعین نے اپنی مختلف طبقات کے اعتبار سے معصوم (ع) کے زمانے تک اس پر تسالم (یعنی اتفاق و استمرارِ عمل) کیا ہے۔

✔️ (حدیث موثقه) محمد بن الحسن عن أحمد بن الحسن بن علي بن فضال، عن عمرو ابن سعيد ، عن مصدق بن صدقة ، عن عمار الساباطي ، عن أبي عبدالله عليه‌السلام قال : سألته عن الاضحى بمنى؟ فقال : أربعة أيام ، وعن الاضحى في سائر البلدان فقال : ثلاثة أيام

ترجمہ: "میں نے امام سے منیٰ میں قربانی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: چار دن، اور دوسرے شہروں میں قربانی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: تین دن۔"

(وسائل الشيعة، حرّ العاملي، جلد ۱۴ صفحه ۹۲)

✔️ فقہاء کے درمیان اہلِ بیت (ع) سے وارد شدہ روایات کے تابع یہ امر معروف ہے کہ قربانی کے ذبح کا مقررہ وقت عید الاضحیٰ کے دن سے شروع ہو کر تیسرے دن (بارہویں ذی الحجہ) پر ختم ہوتا ہے، چنانچہ کل وقت تین دن ہوتا ہے: وہ عید کا دن اور اس کے بعد والے دو دن۔ یہ حکم منیٰ کے علاوہ باقی تمام بلاد (شہروں) کے لیے ہے۔ رہا منیٰ، تو وہاں قربانی کے ذبح کا وقت عید کے دن سے شروع ہو کر ایامِ تشریق (جو عید کے بعد کے تین دن ہیں) کے ختم ہونے تک رہتا ہے، لہٰذا منیٰ میں قربانی کے ذبح کے لیے مقررہ وقت کا مجموعہ چار دن ہے۔

✔️ "ہاں، یہ بعید نہیں کہ پہلا دن یعنی عید کا دن ہی قربانی کے ذبح کے لیے بہترین دنوں میں سے ہو۔ اس بات کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے صدوق نے معتبر سند کے ساتھ غیاث بن ابراہیم سے، اور انہوں نے امام جعفر صادق (ع) سے، اور انہوں نے اپنے والد امام باقر (ع) سے، اور انہوں نے امام علی (ع) سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: قربانی (کے ایام) تین دن ہیں اور ان میں سب سے افضل پہلا دن ہے۔"

(وسائل الشيعة -الحر العاملي- ج14 / ص92)

✔️ اور رہا عید کے دن ذبح کرنے کا بہترین وقت، تو متعدد فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ وہ طلوعِ آفتاب اور نمازِ عید اور دونوں خطبوں کے بقدر وقت گزر جانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اور اس پر سماعہ کی معتبر روایت سے استدلال کیا گیا ہے، جو امام ابو عبد اللہ (جعفر صادق علیہ السلام) سے روایت ہے،

واستُدلَّ على ذلك بمعتبرة سماعة، عن أبي عبد الله (ع) قال: "قلتُ له: متى يُذبح؟ قال: إذا انصرف الإمامُ، قلتُ: فإذا كنتُ في أرضٍ ليس فيها إمام فأُصلِّي بهم جماعة، فقال: إذا استقلَّت الشمس، وقال: لا بأس أنْ تصليَ وحدك، ولا صلاةَ إلا مع إمام

ترجمہ: "فرمایا: میں نے آپ سے پوچھا: قربانی کب ذبح کی جائے؟ آپ نے فرمایا: جب امام (نماز عید سے) فارغ ہو جائے۔ میں نے کہا: اگر میں ایسی سرزمین میں ہوں جہاں کوئی امام نہ ہو، اور میں لوگوں کو جماعت پڑھاؤں (یعنی امامت کروں)؟ تو آپ نے فرمایا: (تب وقت وہ ہے) جب سورج بلند ہو جائے (یعنی اچھی طرح طلوع ہو کر چمکنے لگے)۔ اور فرمایا: کوئی حرج نہیں کہ تم اکیلے نماز پڑھ لو، اور (بہرحال) کوئی نماز نہیں مگر امام کے ساتھ۔"

(وسائل الشيعة، الحر العاملي- ج7 / ص422)

✔️ مذکورہ وقت کو امام (ع) کے قول «جب امام فارغ ہو جائے» سے ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ امام خطبوں کے بعد ہی فارغ ہوتا ہے، اور وہ نمازِ عید طلوعِ آفتاب کے بعد پڑھاتا ہے کیونکہ نماز عید کا یہی وقت ہے۔ پس اس سے قربانی کے ذبح کے وقت کا آغاز طلوعِ آفتاب اور نماز و خطبوں کے بقدر وقت گزر جانے کے بعد ثابت ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس شخص کے حق میں بھی جس نے نمازِ عید نہ پڑھی ہو۔


✍🏻 سید شہروز زیدی