باسمه تعالیٰ،
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ درج ذیل دلائل کی بنا پر، مجتہدِ جامع الشرائط امامِ زمانہ کی غیبت کے زمانے میں سہمِ امام کو وصول کر سکتا ہے اور اسے ان مصارف میں صرف کر سکتا ہے جو شرعی اور درست ہیں:
1️⃣ چونکہ مراجع تقلید، امام زمانہ عج کے دورِ غیبت میں نوابِ عام ہیں، اس لیے انہیں یہ اجازت ہے کہ خمس میں سے سہمِ امام کو اس راہ میں صرف کریں جسے خود مناسب سمجھیں؛ جیسے حوزاتِ علمیہ پر خرچ کرنا جہاں اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے، اور نیز بعض سماجی خدمات میں صرف کرنا، جیسے سیلاب زدگان، زلزلہ زدگان وغیرہ کی مدد کرنا۔
2️⃣ فقیہ کو مالِ غائب پر ولایت حاصل ہے، اور اموالِ حضرت امامِ زمانہ پر بھی ولایت اسی معنی میں ثابت ہے، بلکہ اس کی اولویت ہے؛ کیونکہ جب لوگوں کے اموال کی مصلحت کے تحفظ کے لیے فقہاء کو مالِ غائب پر ولایت حاصل ہے، تو امام کے اموال کی حفاظت و رعایت جو کہ زمانۂ غیبت میں دین کی بقا کا سبب ہے، بطریقِ اولیٰ لازم ہے، اور فقیہ کو اس پر ولایت حاصل ہے۔ اور کم از کم یہ صورت تو موجود ہے اور فقیہ پر واجب ہے کہ امام کے اموال کو وصول کرے اور ایسے مصرف میں صرف کرے جس سے امام کی رضایت کا یقین ہو۔
3️⃣ ایسی روایات موجود ہیں جو مجتہد کے فتویٰ کی حجیت، قضاوت، اور امورِ حسبیہ (یعنی وہ امور جن کا کوئی خاص متولی یا ادارہ نہیں اور خداوند متعال بھی اس بات پر راضی نہیں کہ یہ امور بغیر انجام کے رہ جائیں؛ جیسے بے سرپرست بچوں کی کفالت اور ان کے اموال کی حفاظت، لاوارث مسلمان کی تدفین، غائب اشخاص کے اموال کی نگہداشت، وغیرہ میں تصرف کے جواز پر دلالت کرتی ہیں۔ یعنی فقہی اعتبار سے اس قسم کے کاموں کی ذمہ داری عادل فقیہ پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا حکم اور موضوع کی مناسبت کی بنا پر یہ روایات فقہاء کے سہمِ امام میں تصرف کرنے کی جواز پر دلالت کرتی ہیں۔
تفصیلی جواب:
1️⃣ سہمِ امام، خود امام (علیہ السلام) کی ملکیت ہے۔
2️⃣ اگر مکلف یقین حاصل کر لے کہ امام (ع) اس کے تصرف پر راضی ہیں، تو کوئی حرج نہیں (البتہ یہ ایک نادر مفروضہ ہے)۔
3️⃣ لیکن اکثر موارد میں مکلف کے پاس ایسا احراز موجود نہیں، اور اسے قوی احتمال ہے کہ شارع مقدس نے مصالحِ عامہ اور زعامتِ دینی کے شئون کی حفاظت کے پیشِ نظر، اموال شرعی کے تصرفات پر رضایت نہیں دی ہے اور اس معاملے کو اپنے نائب کے اذن سے مشروط کر دیا ہے۔
🛑 نتیجہ: ایسی صورت میں عقل خود بخود (مستقلًا) حکم دیتی ہے کہ بری الزمہ ہونے اور مالِ غیر میں تصرف کی حرمت سے بچنے کے لیے 'قدر متیقن' پر عمل کیا جائے۔ تصرف کے جواز کا قدر متیقن وہی ہے جہاں حاکمِ شرع کا اذن موجود ہو۔ لہٰذا، حتیٰ کہ ولایتِ مطلقۂ فقیہ کو ثابت کیے بغیر بھی، محض امام (ع) کی رضایت میں شک ہونا، حاکم شرع کی طرف رجوع کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔
✔️ امام (ع) کے مال میں تصرف کرنے کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ وہ کسی نیک کام میں خرچ ہونے پر راضی ہیں، جس طرح کوئی قرض دار اپنے قرض خواہ کی اجازت کے بغیر اس کا پیسہ خیرات نہیں کر سکتا، اسی طرح سہمِ امام میں بھی ہمیں خود عمل کرنے کا حق نہیں۔ چوں کہ ہم امام کی ترجیحات اور تفصیلات سے بے خبر ہیں، اس لیے ہمارے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو یہ مال فقیہ کو دے دیں یا اس سے اجازت لے لیں۔
✔️ اشتغال یقینی: جس شخص پر خمس واجب ہو گیا ہو، اس کی ذمہ داری یقینی ہے اور وہ اس سے بری نہیں ہو سکتا جب تک کہ یقینی طور پر ادا نہ کر دے۔ چونکہ خمس ایک تکلیف شرعی یقینی ہے، اس لیے اس کی ادائیگی میں شک یا احتمال کافی نہیں، بلکہ ذمہ داری سے فارغ ہونے کے لیے یقینی ادا ضروری ہے۔
✔️ قاعده عقلی-اصولی: فقہ و اصول میں یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ "الاشتغال الیقینی یستدعی الفراغ الیقینی" یعنی جب کسی شخص کی ذمہ داری کسی تکلیف کے بارے میں یقینی ہو جائے، تو اسے ایسا عمل کرنا ہوگا جس سے اسے یقین ہو جائے کہ اس نے تکلیف صحیح طور پر ادا کر دی اور اس کی ذمہ داری ادا ہو گئی ہے۔
✔️ اگر مکلف خود مستقلاً اور بغیر حاکم شرع سے رجوع کیے سہمِ امام میں تصرف کر لے، تو اسے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہونے کے بارے میں شک ہو جائے گا۔ وہ شک کرے گا کہ آیا یہ تصرف وہی ہے جو شارع نے اس سے مطلوب کیا تھا؟ کیا اس نے اپنی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کر لی؟ کیا اسے اس تصرف پر کوئی ولایت حاصل تھی؟
✔️ اس کے برعکس، سہمِ امام کو مجتہدِ جامعالشرایط کو دینا یا اس کے اذن سے مصرف کرنا، انجامِ وظیفہ کی قطعی اور یقینی صورت ہے۔ اس صورت میں مکلف کو اپنی ذمہ داری سے بری ہونے میں کوئی شک نہیں ہوگا۔
لہٰذا، قاعدۂ اشتغال کا تقاضا ہے کہ ذمہ داری سے یقینی برائت حاصل کرنے کے لیے مکلف وہ راستہ اختیار کرے جس میں کوئی شک و شُبہ نہ ہو، اور وہ مجتہدِ جامعالشرایط کی طرف رجوع کرنا ہے۔
✔️ عقلا کا بھی اسی پر عمل کرنا ثابت کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جب وہ خود منوبعنہ (جس کی طرف سے کوئی کام کرنا ہو) تک رسائی نہ پا سکیں، تو اپنی فطرت کے مطابق اس کے نائب کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اس کے اقوال کو نقل کرتا اور اعمال کی پیروی کرتا ہے۔
عقلا (تمام عقلمند لوگ، چاہے کسی بھی مذہب کے ہوں) کا طریقہ یہ ہے کہ جب اصل مالک یا صاحبِ اختیار تک پہنچ ممکن نہ ہو، تو وہ خود بخود اس کے نائب اور جانشین کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اس کی طرف سے کام کرتا ہے۔ اسی بنا پر سہمِ امام (ع) میں بھی جب خود امام تک رسائی نہیں، تو عقلا کے مطابق نائبِ امام (یعنی فقیہ) کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
✔️ جب سہمِ امام (ع) منصبِ امامت کے اعتبار سے امام کی ملکیت ہے، تو ولایتِ فقیہ کا تقاضا ہے کہ اس سہم کا معاملہ بھی فقیہ ہی کی طرف راجع ہو۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سہمِ امام (ع) کو مجتہدِ جامعالشرایط تک پہنچایا جائے یا اس کے اذن سے خرچ کیا جائے۔ پس غیبت کے زمانے میں سہمِ امام کو مجتہد تک پہنچانا احوط ہے، بلکہ یہ کہنا کہ یہ قوی تر ہے، بعید نہیں۔
لوگوں کا مال، منصبِ امامت کے اعتبار سے امام کا حق ہے۔ چونکہ یہ مال منصب سے وابستہ ہے، اور غیبت میں یہ منصب اور اس کے اختیارات فقیہ (نائبِ امام) کو منتقل ہو جاتے ہیں، اس لیے اس مال کا اختیار بھی فقیہ کو ہے اور عام افراد کو اس میں خود مختار تصرف کا حق نہیں۔
✔️ سہمِ امام امام کی ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ منصبِ زعامتِ دینی کا حصہ ہے۔ یہ منصب صرف زمانۂ حضور کے لیے خاص نہیں، بلکہ غیبت میں بھی جاری ہے، اس لیے اس کا متولی جامع الشرایط فقیہ (نائبِ امام) ہے۔ جو اختیارات رسول اور ائمہ کو شریعت کے نفاذ اور حدود کی حفاظت میں حاصل تھے، وہی اختیارات غیبت میں فقیہ کو حاصل ہیں۔ لہٰذا سہمِ امام کا فقیہ کی طرف رجوع کرنا ہی دلیل کے مطابق ہے۔
سید شہروز زیدی
![]() |


