تقاص کا شرعی حکم 📖
تقاص سے مراد یہ ہے کہ قرض دینے والا، جب قرض دار اپنا قرض ادا کرنے سے انکار کر دے اور عدالت یا حاکم شرع تک رسائی ممکن نہ ہو، تو وہ اپنے قرض کے برابر رقم یا مال، قرض دار کے پاس سے خود وصول کر لے، بغیر اس کی اجازت کے۔
👤مقروض کو قرض دینے والا اپنے علمِ وجدانی کے مطابق قرض کی اصل اور مقدار کا یقین رکھتا ہو، مگر مقروض شخص ادا کرنے سے انکار کرے؛
تو دو صورتیں ہیں: مقروض، قرض کا اعتراف کرتا ہے، یا اس کا انکار کرتا ہے۔
مقروض ممتنع سے قرض کی وصولی، عدالت یا حاکم شرع کے ذریعے: یا ممکن ہے یا ممکن نہیں۔
📄 صورتِ اول (یعنی جب قرض دار کا قرض پر اعتراف ہو یا انکار، اور حاکم شرع تک رسائی ممکن ہو) میں فقہاء کے درمیان تقاص (برابر لے لینا) کی جواز میں اختلاف ہے، اور اکثر فقہاء جواز کے قائل ہیں۔
📖 جیسا کہ شرائع میں آیا ہے اور جواهر اس کی توضیح میں فرماتے ہیں:
«ولو كان المدين جاحداً وللغريم بينة تثبت حقه عند الحاكم والوصول إليه ممكن ففي جواز الأخذ تردد وخلاف. أشبهه وفاقا للأكثر كما في كشف اللثام وغيره الجواز ، وهو الذي ذكره الشيخ في الخلاف، والمبسوط، ومحكي التهذيب، والنهاية. وعليه دل عموم الإذن في الاختصاص.» (جواهر الكلام ج ٤٠ ، ص ۳۸۸)
"اور اگر قرض دار منکر ہو اور قرض دینے والے کے پاس بینہ (ثبوت) ہو جو حاکم کے سامنے اس کے حق کو ثابت کرتی ہو، اور حاکم تک رسائی ممکن ہو، تو اس صورت میں (قرض دار کے مال سے) لینے کی جواز میں تردد اور اختلاف ہے۔ بہتر قول—اور اکثر فقہاء کے مطابق، جیسا کہ کشف اللثام اور دیگر کتب میں ہے—جواز ہے، اور یہی شیخ طوسی نے الخلاف، المبسوط، اور محکیِ تہذیب و نہایہ میں ذکر کیا ہے۔ اور اس پر عمومِ اذنِ اختصاص (تقاص کی عام اجازت) دلالت کرتی ہے۔"
📖 اور محقق نراقی مستند الشیعہ میں فرماتے ہیں:
«وإن كان المطلوب ديناً… ولو أمكن الوصول إلى الحق بالرفع إلى الحاكم من غير تأخير و ضرر ، كان مقرا مماطلا أو جاحدا ، ففي جواز التقاص حينئذ وعدمه قولان: الأول: للأكثر – كما في المسالك والكفاية وعن الصيمري ومنهم: الشيخ والشرائع والمسالك والدروس والخلاف ، بل قيل : عامة المتأخرين. »
(مستند الشيعة : ج ١٧، ص ۴۵۲-۴۵۳)
"اور اگر مطالبہ (طلب) دین (قرض) ہو… اور اگر بغیر کسی تاخیر و ضرر کے، حاکم کی طرف رجوع کر کے حق تک پہنچنا ممکن ہو، خواہ قرض دار مقر (اقرار کرنے والا) مگر مماطل (ٹال مٹول کرنے والا) ہو یا جاحد (انکار کرنے والا) تو اس وقت تقاص کی جواز اور عدم جواز میں دو قول ہیں:
قول اول (جواز): اکثر فقہاء کا قول ہے جیسا کہ مسالک، کفایہ، اور صیمری سے منقول ہے اور انہی میں سے شیخ طوسی، شرائع، مسالک، دروس، اور خلاف ہیں، بلکہ کہا گیا ہے کہ متاخرین فقہاء کا عامہ (اکثر) اسی قول پر ہیں۔"
📄 اور اگر حاکم شرع کے ذریعے قرض واپس لینا ممکن نہ ہو خواہ اس لیے کہ قرض دینے والے کے پاس بینہ (ثبوت) نہ ہو، یا اسے حاکم تک رسائی حاصل نہ ہو تو اس صورت میں تقاص کی جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔
📖 جیسا کہ جواهر میں ہے:
«و لو لم تكن بينة أو تعذر الوصول إلى الحاكم بل في المسالك أو أمكن ولم تكن يده مبسوطة بحيث يمكنه تولي القضاء عنه… فمتى تعذّر ، و وجد الغريم من جنس مال اقتصّ مستقلاً بالاستیفاء بلا خلاف فیه عندنا بل الإجماع بقسميه عليه. » (جواهر الکلام، ج ۴، ص۳۹۱)
"اور اگر بینہ (ثبوت) نہ ہو، یا حاکم تک رسائی ممکن نہ ہو—بلکہ مسالک میں (یہاں تک کہا گیا ہے) کہ اگر ممکن بھی ہو مگر اس کا اختیار اس قدر وسیع نہ ہو کہ وہ خود قضاء (عدالت) کا عہدہ سنبھال سکے… تو جب (حاکم تک رسائی) ممکن نہ ہو، اور وہ قرض دار سے (اس کے) مال کی جنس میں (اپنا حق) پائے، تو وہ خود مختارانہ طور پر استیفا (وصولی) کر سکتا ہے، اور اس میں ہمارے نزدیک کوئی اختلاف نہیں، بلکہ اس پر اجماع بہ دو قسم (منقول و محصل) ہے۔"
🛑 تقاص کے جائز ہونے پر ادلّۂ نقلی:
📄 اطلاقات آیات
📖 «فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ»
(البقره: ۱۹۴)
"پس جو شخص تم پر زیادتی کرے، تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے۔"
📖 «وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ» (النحل: ۱۲۶)
"اور اگر تم (کسی کو) سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تمہیں سزا دی گئی ہے۔"
چونکہ تقاص مالی بھی ایک قسم کا "اعتداء" اور "مقابلہ بہ مثل" ہے، اس لیے یہ آیات اس پر اطلاق رکھتی ہیں۔
📄 روایات
اس مسئلہ میں دو طرح کی روایات وارد ہوئی ہیں:
1️⃣ دستۂ اول: روایات جو تقاص مال ـ حتیٰ کہ قرض ـ کے جواز پر دلالت کرتی ہیں
📖 نبوی مشہور:
«لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَ عُقُوبَتَهُ»
(الوسائل: ب ٨ من ابواب القرض، ح۴)
"ممکن (استطاعت رکھنے والے) کا ٹال مٹول کرنا، اس کی آبروریزی اور اس کی سزا (عقوبت) کو حلال کر دیتا ہے۔"
چونکہ تقاص مال مصداق "عقوبت" (سزا) ہے، اس لیے یہ حدیث اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
📖 روایت عامّی:
جب ابو سفیان کی بیوی نے رسول اللہ(ص) سے شکایت کی کہ میرا شوہر میرا نفقہ نہیں دیتا، تو آپ(ص) نے فرمایا:
«خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَ وَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ»
(سنن البیهقی، ج ۱، ص۱۴۰)
"(اے زوجۂ ابو سفیان!) تم اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہارے بچے کو معروف (مناسب) طریقے پر کافی ہو۔"
ان دو روایات سے صاحب جواہر (جواہر الکلام، ج ۴، ص ۳۸۹) نے استدلال کیا ہے۔ البتہ انہوں نے دوسری صحیح روایات سے بھی استدلال کیا ہے جو سند اور دلالت کے اعتبار سے مکمل ہیں۔
📖 صحیحۂ علی بن سلیمان:
«كَتَبْتُ إِلَيْهِ: رَجُلٌ غَصَبَ مَالاً أَوْ جَارِيَةً ثُمَّ وَقَعَ عِنْدَهُ مَالٌ بِسَبَبِ وَدِيعَةٍ أَوْ قَرْضٍ مِثْلَ خِيَانَةٍ أَوْ غَصْبٍ. أَيَحِلُّ لَهُ حَبْسُهُ عَلَيْهِ أَمْ لَا؟ فَكَتَبَ: نَعَمْ يَحِلُّ لَهُ ذَلِكَ إِنْ كَانَ بِقَدْرِ حَقِّهِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مَا كَانَ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمُ الْبَاقِيَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.»
(الوسائل: ب ٨٣ من ابواب ما يكتسب به، ح۹)
"میں نے امام (ع) کو لکھا: ایک شخص نے کسی کا مال یا کنیزی غصب کی، پھر اس کے پاس امانت یا قرض کے سبب کوئی مال آ گیا، جیسے خیانت یا غصب۔ کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے (اپنے حق کے بدلے) روک لے؟ تو امام (ع) نے جواب میں لکھا: ہاں، اس کے لیے یہ جائز ہے اگر وہ اس کے حق کے برابر ہو، اور اگر زیادہ ہو تو وہ اس میں سے اتنا لے لے جتنا اس پر (قرض) ہے اور بقیہ اسے واپس کر دے، ان شاء اللہ۔"
📖 صحیحۂ ابی العباس البقباق:
«أَنَّ شِهَاباً مَارَاهُ فِي رَجُلٍ ذَهَبَ لَهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَ اسْتَوْدَعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ فَقُلْتُ لَهُ: خُذْهَا مَكَانَ الْأَلْفِ الَّتِي أَخَذَ مِنْكَ، فَأَبَى شِهَابٌ، قَالَ: فَدَخَلَ شِهَابٌ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ وَ تَحْلِفَ.»
(ب ٨٣ من ابواب ما يكتسب به، ح۲)
"شہاب نے ایک شخص کے بارے میں (ابو عباس سے) گفتگو کی جس نے اس کی ایک ہزار درہم لیے تھے اور پھر اس کے بعد اس نے اس کے پاس ایک ہزار درہم بطور امانت رکھے۔ ابو عباس نے کہا: میں نے شہاب سے کہا: انہیں (امانت کے درہم) اس ایک ہزار کے بدلے لے لو جو اس نے تم سے لیے تھے۔ مگر شہاب نے انکار کر دیا۔ شہاب نے امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات عرض کی، تو امام (ع) نے فرمایا: (اگر تم مجھ سے پوچھو تو) میں پسند کرتا ہوں کہ تم (انہیں) لو اور (اس کے ساتھ) قسم کھاؤ۔"
📖 صحیحۂ ابی بکر الحضرمی، عن ابی عبداللہ(ع):
«قُلْتُ: رَجُلٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مَالٌ فَجَحَدَهُ إِيَّاهُ وَ ذَهَبَ بِهِ، ثُمَّ صَارَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلرَّجُلِ الَّذِي ذَهَبَ بِمَالِهِ مَالٌ قِبَلَهُ، أَيَأْخُذُهُ مَكَانَ مَالِهِ الَّذِي ذَهَبَ بِهِ مِنْهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنْ لِهَذَا كَلَامٌ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي آخُذُ هَذَا الْمَالَ مَكَانَ مَالِي الَّذِي أَخَذَهُ مِنِّي، وَإِنِّي لَمْ آخُذِ الَّذِي أَخَذْتُهُ خِيَانَةً وَ لَا ظُلْماً.»
(الوسائل: ب ۸۳ من ابواب ما يكتسب به، ح۵ و۴)
"میں نے عرض کیا: ایک شخص پر دوسرے شخص کا مال (قرض) تھا، اس نے اس کا انکار کر دیا اور اسے (اپنے پاس) رکھ لیا، پھر بعد میں اس شخص کے پاس (یعنی قرض دار کے ذمہ) اس (قرض دینے والے) کا مال (بطور قرض یا امانت) آ گیا، تو کیا وہ اسے اپنے اس مال کے بدلے لے سکتا ہے جو اس شخص نے اس سے لے لیا تھا؟ امام (ع) نے فرمایا: ہاں، لیکن اس کے لیے (لینے وقت) یہ کلمات کہنا ہیں: «اے اللہ! میں یہ مال اپنے اس مال کے بدلے لے رہا ہوں جو اس (قرض دار) نے مجھ سے لیا تھا، اور میں نے جو کچھ لیا ہے وہ خیانت اور ظلم سے نہیں لیا۔»"
📖 معتبرۂ جمیل بن درّاج:
«سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ (ع) عَنِ الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ عَلَى الرَّجُلِ الدَّيْنُ فَيَجْحَدُهُ فَيَظْفَرُ مِنْ مَالِهِ بِقَدْرِ الَّذِي جَحَدَهُ، أَيَأْخُذُهُ وَ إِنْ لَمْ يَعْلَمِ الْجَاحِدُ بِذَلِكَ؟ فَقَالَ(ع): نَعَمْ.»
(الوسائل: ب ٨٣ من ابواب ما يكتسب به، ح۱۰)
"میں نے امام صادق (ع) سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس پر دوسرے شخص کا قرض ہے اور وہ اس کا انکار کرتا ہے، پھر (قرض دینے والا) اس کے مال میں سے اتنی رقم پاتا ہے جتنی اس نے انکار کی ہے، کیا وہ اسے لے سکتا ہے، اگرچہ منکر (قرض دار) کو اس کا علم نہ ہو؟ امام (ع) نے فرمایا: ہاں۔"
2️⃣ دستۂ دوم: معارض روایات
📖 صحیحۂ سلیمان بن خالد:
«سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ (ع) عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ لِي عِنْدَهُ مَالٌ فَكَابَرَنِي عَلَيْهِ وَحَلَفَ ثُمَّ وَقَعَ لَهُ عِنْدِي مَالٌ آخِذُهُ مَكَانَ مَالِي الَّذِي أَخَذَهُ وَأَجْحَدُهُ وَأَحْلِفُ عَلَيْهِ كَمَا صَنَعَ قَالَ : إِنْ خَانَكَ فَلَا تَخُنْهُ وَلَا تَدْخُلْ فِيمَا عُتِّبَ عَلَيْهِ»
(الوسائل، ب ٨٣ من ابواب ما يكتسب به، ح ۷)
"میں نے امام صادق (ع) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس کے پاس میرا مال ہے، وہ مجھ سے اس کا انکار کرتا ہے اور قسم کھاتا ہے، پھر اس کا مال میرے پاس آ جاتا ہے، تو کیا میں اسے اپنے اس مال کے بدلے لے لوں جو اس نے لیا ہے، اور میں اس کا انکار کروں اور قسم کھاؤں جیسا اس نے کیا؟ امام (ع) نے فرمایا: اگر اس نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو اور اس کام میں مت پڑو جس پر (شرعاً) اسے ملامت کی گئی ہے۔
📖 صحیحۂ معاویہ بن عمار، عن ابی عبداللہ(ع):
«قُلْتُ لَهُ : الرَّجُلُ يَكُونُ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ فَيَجْحَدُنِيهِ ثُمَّ يَسْتَوْدِعُنِي مَالاً ، أَلِي أَنْ آخُذَ مَالِي عِنْدَهُ ؟ قَالَ : لَا ، هَذِهِ الْخِيَانَةُ»
(الوسائل، ب ٨٣ من ابواب ما يكتسب به، ح ۱۱)
"میں نے امام (ع) سے عرض کیا: ایک شخص پر میرا حق (قرض) ہے، وہ اس کا انکار کرتا ہے، پھر وہ میرے پاس کوئی مال بطور امانت رکھتا ہے، تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اپنا حق اس کے اس مال میں سے لے لوں؟ امام (ع) نے فرمایا: نہیں، یہ خیانت ہے۔"
📖 خبر ابن اخِی الفضیل بن یسار:
«كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) وَدَخَلَتِ امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ لِي: إِسْأَلْهُ ، فَقُلْتُ : عَمَّاذَا؟ فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً كَانَ فِي يَدِ أَخِي فَأَتْلَفَهُ ، ثُمَّ أَفَادَ مَالاً فَأَوْدَعَنِيهِ ، فَلِي أَنْ آخُذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَتْلَفَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ(ع) : لَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ»
(الوسائل، ب ٨٣ من ابواب ما يكتسب به، ح ۳)
"میں امام صادق (ع) کی خدمت میں تھا کہ ایک عورت آئی اور میں لوگوں میں سے ان کے قریب ترین تھا، اس نے مجھ سے کہا: آپ ان (امام) سے پوچھیں۔ میں نے کہا: کس بارے میں؟ اس نے کہا: میرے بیٹے کا انتقال ہو گیا اور اس نے کچھ مال چھوڑا تھا جو میرے بھائی کے پاس تھا، اس نے اسے ضائع کر دیا، پھر اس (بھائی) نے کچھ مال کمایا اور وہ میرے پاس امانت رکھ دیا، تو کیا میں اس میں سے اتنا لے سکتی ہوں جتنا اس نے ضائع کیا ہے؟ میں نے امام (ع) کو یہ بات بتائی تو آپ (ع) نے فرمایا: نہیں، رسول اللہ (ص) نے فرمایا: امانت اس شخص کو ادا کرو جس نے تمہیں امین بنایا، اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔"
🛑 تحلیل:
ان دو دستۂ (روایات) کے درمیان ابتدائی طور پر تعارض ذہن میں آتا ہے۔ اور ہر ایک گروہ میں سے بعض روایات اس صورت کی طرف متوجہ ہیں جہاں مقروض انکار کرتا ہے اور بعض دوسری اس فرض کی طرف جہاں وہ قرض کا اقرار کرتا ہے، لیکن یہ تعارض قابلِ رفع ہے، کیونکہ انکارِ مقروض کی صورت میں طائفۂ اول کی صحیحۂ ابو بکر حضرمی اور معتبرۂ جمیل بن درّاج تقاص کے جواز پر صراحت رکھتی ہیں، جبکہ طائفۂ دوم کی دو صحیحۂ سلیمان بن خالد اور صحیحۂ معاویہ بن عمار اپنے ظاہری نہی کے مفہوم کے باعث تقاص کی حرمت پر ظاہر ہیں؛ لہٰذا طائفۂ اول کی جواز پر صراحت کے قرینے سے، انکارِ مقروض کی صورت میں، طائفۂ دوم میں موجود نہی (منع) کو کراهت پر حمل کیا جائے گا۔ اور رہی صورتِ اعترافِ مقروض بہ دین، تو طائفۂ اول کی دو صحیحۂ علی بن اسماعیل اور صحیحۂ ابی العباس اور دیگر مطلق روایات تقاص کے جواز پر صراحت رکھتی ہیں اور اس طائفہ کا کوئی معارض نہیں، سوائے طائفۂ دوم کی خبر ابن اخِی الفضیل کے، جو کہ ضعیف ہے۔
🛑 نتیجہ بحث:
تقاص (یعنی قرض دار کے مال سے خود وصولی) مفروضہ سوال میں جائز ہے، البتہ اگر قرض دار قرض کا انکار کر رہا ہو تو تقاص مکروہ ہے (یعنی بہتر ہے کہ اس سے بچا جائے)۔
اور اگر قرض دار قرض کا اعتراف و اقرار کر رہا ہو (جو کہ اس سوال کی ظاہری صورت ہے) تو تقاص یعنی قرض دینے والے کا اپنے قرض کے برابر رقم یا مالیت لے لینا جائز ہے اور اس میں کراہت بھی نہیں، کیونکہ اس صورت میں جواز پر دلالت کرنے والی مطلق (عام) روایات کا کوئی معارض (مخالف) نہیں ہے۔
علامہ سید شہروز زیدی

