کیا قبروں کے (پر لکھے نام) کتبے پڑھنے سے نسیان (عقل کمزور) ہوتی ہے؟

باسمه تعالیٰ،

ایسی روایات موجود ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ قبر پر لکھے ہوئے کتبے پڑھنے سے نسیان (بھولنے کی بیماری) یا عقل کی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ 

🔴 البتہ یہ روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ 

🔴 سند کے قطع نظر، ممکن ہے یہ نصیحت اس لیے ہو کہ انسان قبرستان میں غیر متعلق قبروں کے کتبے پڑھ کر اپنا ذہن مصروف نہ کرے اور توجہ موت کی یاد یا قرآن وغیرہ کی تلاوت پر مرکوز رکھے۔

🔴 چونکہ ان روایات کی سند غیر معتبر ہے، اس لیے فقہاء نے قبر پر لکھے کتبے پڑھنے کو ممنوع/مکروہ قرار نہیں دیا ہے۔

روایات یہ ہیں:

📖 "الخصال: عن أبيه، عن سعد، عن اليقطيني، عن الدهقان، عن درست، عن عبد الحميد، عن أبي الحسن الأول عليه السلام قال: تسعة يورثن النسيان۔۔۔۔وقراءة كتابة القبور۔"


"۔۔۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) نے فرمایا: نِو (۹) چیزیں نسیان (بھول پن) کا سبب بنتی ہیں … اور ان میں سے ایک قبروں کی تحریر (کتبے) پڑھنا بھی ہے۔"


(الخصال ج ٢ ص ٤٦، والنقرة منقطع القمحودة في القفا)


📖 "وروى الصدوق في من لا يحضره الفقيه في طي وصايا النبي صلى الله عليه وآله يا علي: تسعة أشياء تورث النسيان۔۔۔۔وقراءة كتابة القبور۔۔۔"


"۔۔۔صدوق (شیخ صدوق) نے وصیتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ضمن میں حضرت علیؑ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: نِو (۹) چیزیں بھول پن کا سبب بنتی ہیں … اور ان میں قبروں کے کتبے پڑھنا بھی ہے۔"


(فقيه من لا يحضره الفقيه ج ٤ ص ٢٦١)


📖 "وروى أبو الوزير بن أحمد الأبهري في رسالة طب النبي صلى الله عليه وآله عن سيدنا رسول الله صلى الله عليه وآله أنه قال: عشر خصال يورث النسيان۔۔۔۔وقراءة كتابة المقبرة"


"۔۔۔ابو الوزیر بن احمد اِبہری نے اپنی رسالہ "طب النبی" میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: دس (۱۰) خصلتیں (عادتیں) نسیان کا باعث بنتی ہیں … اور ان میں قبرستان کی تحریر (کتبے) پڑھنا بھی شامل ہے۔"


(بحار الأنوار، مجلسي جلد 73 صفحه 321)