باسمه تعالیٰ،
مشہور یہ ہے کہ جب میاں بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو جائے تو انکے نکاح کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، بیوی کے مرنے کے بعد شوہر اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے اور اسے مردہ بیوی سے تمتع کا حق بھی نہیں رہتا۔
جبکہ (دلیلِ خاص کی بناء پر) یہ ایک دوسرے کے لیے نامحرم نہیں ہوتے، البتہ یہ محرمیت صرف دیکھنے، چھونے اور غسل دینے تک محدود ہے۔
تفصیلی جواب:

مسلم ہے کہ مرد اپنی بیوی کی موت کے بعد اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے، یا اگر وہ اس کی چوتھی بیوی تھی تو دوسری عورت سے نکاح کر سکتا ہے؛ اسی طرح عورت پر شوہر کی موت کے بعد عدّہ وفات رکھنا واجب ہے، اور یہ سب کچھ ان دونوں کے درمیان زوجیت کے ختم ہونے کی دلیل ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ زوجیت کے ختم ہو جانے کے بعد حرمت (محرمیت) کے باقی رہنے کی کوئی علت نہیں رہتی۔ لہٰذا حق یہ ہے کہ موت زوجین کی محرمیت کو ختم کر دیتی ہے۔
البتہ وہ دلائل خاص جو مرنے کے بعد ایک دوسرے کو غسل دینے، چھونے/مس کرنے یا دیکھنے کے جواز پر دلالت کرتے ہیں، ان دلائل کی بناء پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محرمیت قائم رہتی ہے لیکن محدود ہو جاتی ہے۔
📄 فقہا کا اس بات پر اجماع ہے کہ مردہ بیوی سے استمتاع کرنا حرام ہے۔ اور ارتکاب کی صورت میں بعض (فقہا) حد شرعی کے ثبوت کے قائل ہیں۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں میاں بیوی میں سے کسی کی موت کے بعد ازدواجی تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اجماع کے علاوہ متوفی بیوی سے جماع کی حرمت پر کوئی خاص دلیل موجود نہیں ہے۔
📄 ایک قول کی بناء پر اس حالت میں وہ ایک دوسرے کو غسل نہیں دے سکتے، مگر حالت ضرورت میں اور کپڑے کے اوپر سے،
📖 جیسا کہ روایت ابو بصیر میں آیا ہے:
قالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلامُ: يُغَسِّلُ الزَّوْجُ امْرَأَتَهُ فِي السَّفَرِ وَالْمَرْأَةُ زَوْجَها فِي السَّفَرِ إِذا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ رَجُلٌ
"امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: شوہر سفر میں اپنی بیوی کو غسل دیتا ہے اور عورت سفر میں اپنے شوہر کو غسل دیتی ہے، جب ان کے ساتھ کوئی مرد نہ ہو۔"
(تهذيب الأحكام، ج۱، ص۴۳۹ و ۴۴۰)
📖 صحیحہ منصور بن حازم میں ہے:
سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّه عَلَيْهِ السَّلامُ عَنِ الرَّجُلِ يَخْرُجُ فِي السَّفَرِ ومَعَهُ امْرَأَتُه يُغَسِّلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ وأُمَّهُ وأُخْتَهُ ونَحْوَ هَذَا يُلْقِي عَلَى عَوْرَتِهَا خِرْقَةً
"میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو سفر میں جاتا ہے اور اس کی بیوی اس کے ساتھ ہوتی ہے، کیا وہ اسے غسل دے؟ فرمایا: ہاں۔۔۔۔۔"
(الكافي، ج۳، ص۱۵۸؛ من لا يحضره الفقيه، ج۱، ص۱۵۵؛ تهذيب الأحكام، ج۱، ص۴۳۹)
📖 صحیحہ حلبی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے:
أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَمُوتُ ولَيْسَ عِنْدَهُ مَنْ يُغَسِّلُهُ إِلَّا النِّسَاءُ، فَقَالَ: تُغَسِّلُهُ امْرَأَتُهُ أَوْ ذَاتُ قَرَابَةٍ إِنْ كَانَتْ لَهُ وتَصُبُّ النِّسَاءُ عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبّاً وفِي الْمَرْأَةِ إِذَا مَاتَتْ يُدْخِلُ زَوْجُهَا يَدَهُ تَحْتَ قَمِيصِهَا فَيُغَسِّلُهَا
"ان سے اس مرد کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو جاتا ہے اور اس کے پاس اسے غسل دینے کے لیے عورتوں کے سوا کوئی نہیں ہوتا، تو فرمایا: اسے اس کی بیوی یا اس کی کوئی قریبی عورت (محرم) غسل دے گی اور عورتیں اس پر پانی بہا کر ڈالیں گی، اور جب عورت فوت ہو جائے تو اس کا شوہر اپنا ہاتھ اس کے کرتے کے نیچے ڈال کر اسے غسل دے گا۔"
(الكافي، ج۳، ص۱۵۷؛ تهذيب الأحكام، ج۱، ص۴۳۷)
📖 روایت عبدالرحمن بن ابی عبداللہ میں ہے:
سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّه عَلَيْهِ السَّلامُ عَنِ الرَّجُلِ يَمُوتُ ولَيْسَ عِنْدَهُ مَنْ يُغَسِّلُهُ إِلَّا النِّسَاءُ هَلْ تُغَسِّلُهُ النِّسَاءُ؟ فَقَالَ: تُغَسِّلُهُ امْرَأَتُهُ أَوْ ذَاتُ مَحْرَمِهِ وتَصُبُّ عَلَيْهِ النِّسَاءُ الْمَاءَ صَبّاً مِنْ فَوْقِ الثِّيَابِ
"میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو فوت ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ عورتوں کے سوا کوئی نہیں جو اسے غسل دے، کیا عورتیں اسے غسل دیں گی؟ تو فرمایا: اس کی بیوی یا اس کی کوئی محرم عورت اسے غسل دے گی اور عورتیں کپڑوں کے اوپر سے اس پر پانی بہا کر ڈالیں گی۔"
(الكافي، ج۳، ص۱۵۷؛ تهذيب الأحكام، ج۱، ص۴۳۹)
📖 صحیحہ عبداللہ بن سنان میں ہے:
سَمِعْتُ أَبا عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلامُ يَقُولُ: إِذا ماتَ الرَّجُلُ مَعَ النِّساءِ غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنِ امْرَأَتُهُ مَعَهُ غَسَّلَتْهُ أَوْلاهُنَّ بِهِ وتَلَفُّ عَلَى يَدَيْها خِرْقَةً
"میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: جب مرد عورتوں کے ساتھ فوت ہو جائے تو اس کی بیوی اسے غسل دے گی، اور اگر اس کی بیوی اس کے ساتھ نہ ہو تو ان میں سے اس کی سب سے قریبی (محرم) عورت اسے غسل دے گی اور اپنے ہاتھوں پر ایک کپڑا لپیٹ لے گی۔"
(تهذيب الأحكام، ج۱، ص۴۴۴)
📖 صحیحہ محمد بن مسلم میں ہے:
سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ يُغَسِّلُ امْرَأَتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ
"میں نے ان (امام) سے اس مرد کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ اپنی بیوی کو غسل دیتا ہے؟ فرمایا: ہاں، کپڑے کے اوپر سے۔"
(الكافي، ج۳، ص۱۵۷؛ تهذيب الأحكام، ج۱، ص۴۳۸)
📖 صحیحہ سماعہ میں ہے:
سَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ إِذَا مَاتَتْ فَقَالَ: يُدْخِلُ زَوْجُهَا يَدَهُ تَحْتَ قَمِيصِهَا ويُغَسِّلُها إِلَى الْمَرَافِقِ
"میں نے ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو فوت ہو جائے تو فرمایا: اس کا شوہر اپنا ہاتھ اس کے کرتے کے نیچے ڈالے گا اور اسے مرافق (یعنی کہنیوں تک یا شرمگاہ تک) غسل دے گا۔"
(الكافي، ج۳، ص۱۵۸؛ تهذيب الأحكام، ج۱، ص۴۳۸)
📄 اگرچہ بعض روایات کے مطابق شوہر کا اپنی بیوی کو غسل دینا مطلقاً جائز ہے۔
📖 حضرت علی علیہ السلام کا حضرت فاطمہ علیہا السلام کو غسل دینا حالت ضرورت میں اور کپڑے کے اوپر سے تھا، بلکہ اسماء بنت عمیس کی مدد سے ہوا، بلکہ ایک روایت میں ہے:
أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلامُ أَمَرَ أَسْماءَ فَغَسَّلَتْ فاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلامُ وأَمَرَ الْحَسَنَ والْحُسَيْنَ عَلَیْهِمَا السَّلامُ يُدْخِلانِ الْماءَ
"علی علیہ السلام نے اسماء کو حکم دیا تو انہوں نے فاطمہ علیہا السلام کو غسل دیا اور حسن و حسین علیہما السلام کو حکم دیا کہ پانی لائیں۔"
(كشف الغمّة للإربلي، ج۲، ص۱۲۲)
📖 جبکہ امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ:
"امام جعفر صادقؑ سے دریافت کیا گیا: حضرت فاطمہؑ کو کس نے غسل دیا؟ آپؑ نے فرمایا: حضرت علیؑ نے، کیونکہ حضرت فاطمہ صدیقہ تھیں، اور صدیق کے سوا کسی کو اُنہیں غسل دینے کا حق نہ تھا۔"
(ابن شهر آشوب مازندرانی، مناقب آل أبیطالب، ج 3، ص 364)
📄 اور ایسی روایات بھی آئی ہیں کہ عورت کا اپنے شوہر کو غسل دینا مطلقاً جائز ہے؛ کیونکہ عورت شوہر کی موت کے بعد اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک اس کی عدّہ ختم نہ ہو جائے۔
جیسا کہ صحیحہ زرارہ میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے:
فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ ولَيْسَ مَعَهُ إِلَّا النِّساءَ قالَ: تُغَسِّلُهُ امْرَأَتُهُ لِأَنَّها مِنْهُ فِي عِدَّةٍ وإِذا ماتَتْ لَمْ يُغَسِّلْها لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْها فِي عِدَّةٍ
"اس مرد کے بارے میں جس کے ساتھ عورتوں کے سوا کوئی نہ ہو، فرمایا: اس کی بیوی اسے غسل دے گی کیونکہ وہ اس کی عدّہ میں ہے، اور جب عورت فوت ہو جائے تو اس کا شوہر اسے غسل نہیں دے گا کیونکہ وہ اس کی عدّہ میں نہیں ہے۔"
(تهذيب الأحكام للطوسي، ج۱، ص۴۳۷)
📖 ایک دوسری روایت میں ہے:
سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُغَسِّلُ امْرَأَتَهُ؟ قالَ: نَعَمْ مِنْ وَراءِ الثَّوْبِ لا يَنْظُرُ إِلَى شَعْرِها ولا إِلَى شَيْءٍ مِنْها، والْمَرْأَةُ تُغَسِّلُ زَوْجَها لِأَنَّها إِذا ماتَ كانَتْ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ وَإِذا ماتَتْ هِيَ فَقَدِ انْقَضَتْ عِدَّتُها
"ان سے اس مرد کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی بیوی کو غسل دیتا ہے؟ فرمایا: ہاں، کپڑے کے پیچھے سے، اس کے بالوں کو اور اس کے جسم میں سے کسی چیز کو نہیں دیکھے گا، اور عورت اپنے شوہر کو غسل دے گی کیونکہ وہ اس کی موت کے بعد عدّہ میں ہوتی ہے، جبکہ عورت کے مرنے کے بعد اس کی عدّہ ختم ہو جاتی ہے۔"
(تهذيب الأحكام للطوسي، ج۱، ص۴۴۰ و ۴۴۱)
💡 معاصر فقہاء کے فتاویٰ:
✔️ آیت اللہ شہید خامنہ ای:
"ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔ البتہ احتیاطِ مستحب ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو غسل نہ دے۔"
(احکام غسل میت، مسئله 559)
✔️ آیت اللہ سیستانی:
"بیوی اور شوہر ایک دوسرے کو غسل میت دے سکتے ہیں اگرچہ میت کا ہم جنس شخص موجود ہی کیوں نہ ہو۔ شرعی بیوی اور شوہر مرنے کی وجہ سے نامحرم نہیں ہوتے اور ایک دوسرے کے بدن کو مس کرنا دیکھنا جب کہ مرچکے ہوں بغیر شہوت اور لذت کے کوئی حرج نہیں ہے۔"
(مسئلہ 691)
✔️ آیت اللہ مکارم شیرازی:
"جب میاں بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو جائے تو دوسرا فریق متوفی کے لیے نامحرم نہیں ہوتا، البتہ یہ محرمیت صرف دیکھنے اور غسل دینے تک محدود ہے۔ تاہم احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ اگر ضرورت نہ ہو تو غسل نہ دے۔"
✔️ آیت اللہ شبیری زنجانی:
"بیوی کی موت کے بعد، مرد اُس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے، اور اگر وہ چار اور بیویاں رکھے تو وہ زنِ پنجم شمار نہیں ہوتی، اور حتیٰ کہ اُسے مُردہ بیوی سے استمتاع کا حق بھی حاصل نہیں ہے، اور یہ کہ زوجیت کے بعض احکام، جیسے نظر، مس اور غسل دینے کی اجازت، بیوی کی موت کے بعد باقی رہتے ہیں، اس کا مطلب ان کے درمیان زوجیت کا بقا نہیں ہے۔"
(کتاب نکاح، ج17، ص 5643)
✔️ آیت اللہ نوری:
"ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔ البتہ احتیاطِ مستحب ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو غسل نہ دے۔"
(توضیح المسائل، مسئله 560)
✔️ آیت اللہ وحید خراسانی:
احتیاط مستحب ہے کہ غسل نہ دے۔
(مسئله 567)
هذا ما فهمنا من النصوص و اما اذا اردتم التفصیل فعلیکم باهل الذکر وفقکم الله
سید شہروز زیدی
