کیا داڑھی مونڈنا حرام ہے؟

باسمه تعالیٰ،

📄 داڑھی منڈوانا پہلی بار ساتویں صدی ہجری میں ایک فقہی مسئلے کی شکل میں مطرح ہوا۔ پہلی بار جس فقیہ نے اس کے بارے میں بحث کی وہ یحیی بن سعید حلی تھے جنہوں نے داڑھی منڈوانے کو ایک غیر شائستہ عمل قرار دیا؛ البتہ ان کی یہ بات اس کام کے حرام ہونے پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں یہ کام مکروہ ہے۔ 

(بہشتی و واحدجوان، «بررسی ادلّہ قائلين بہ حرمت ريش‌تراشی در ميان فقہای امامیہ»، ص۲۸)

📄 ایک صدی بعد شہید اول کی تحریروں میں ایسی تعابیر پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی منڈوانا ان کے نزدیک حرام تھا؛ لیکن دسویں اور گیارہویں صدی ہجری کے بعد ابن ابی جمہور احسایی، میرد اماد اور شیخ بہایی جیسے فقہاء نے صراحت کے ساتھ اس کے حرام ہونے کا فتوا دیا۔ ان کے بعد حر عاملی، صاحب جواہر اور شیخ انصاری وغیرہ بھی اس کے حرام ہونے کے قائل تھے۔

(بہشتی و واحدجوان، «بررسی ادلّہ قائلين بہ حرمت ريش‌تراشی در ميان فقہای امامیہ»، ص۲۸)


📄 اکثر معاصر فقہاء صریحا داڑھی منڈوانے کے حرام ہونے کا فتوا نہیں دیتے؛ بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر اسے حرام قرار دیتے ہیں۔


📄 نیز یہ کہ ضرورت کی بناء پر جب ڈاڑھی نہ منڈانے کی صورت میں شدید حرج کا سامنا کرنا پڑے تو بلیڈ سے شیو کرنا جائز ہے جیسا کہ اس کے لیے اس ملازمت کے علاوہ کوئی اور ذریعۂ معاش نہ ہو اور بغیر کسب معاش کے رہنا ایسی حرج و مشقت کا موجب ہو جسے برداشت نہ کیا جا سکتا ہو۔


📄 بعض فقہاء ٹھوڑی پر بال رکھ کر (فرینچ کٹ) چہرے کے باقی حصوں سے بالوں کو صاف کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔


🛑 معاصر فقہاء کے فتاویٰ:

✔️ آیت اللہ سیستانی:

"داڑھی کا مونڈنا احتیاط واجب کی بنا پر جائز نہیں ہے۔"

✔️ آیت اللہ شہید خامنہ ای:

"احتیاط کی بنا پر داڑھی مونڈنا حرام ہے اور احوط یہ ہے کہ اس پر فسق کے احکام جاری ہوں گے۔"

✔️ آیت اللہ مکارم شیرازی:

"داڑھی مونڈنا احتیاط کے خلاف ہے۔ داڑھی کی حد وہ ہے کہ عرف میں اس شخص کو داڑھی والا کہا جائے۔ اور چہرے کے دونوں اطراف کو مونڈنا، بشرطیکہ ٹھوڑی اور اس کے اطراف محفوظ رہیں (یعنی فرینچ کٹ)، اس میں کوئی حرج نہیں۔"

✔️ آیت اللہ وحید خراسانی:

"احتیاطِ واجب کی بنا پر ٹھوڑی کی داڑھی یا اس کے کسی حصے کو مونڈنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر اتنی مقدار میں داڑھی رکھے کہ عرف میں اس پر داڑھی کا صدق ہو تو کافی ہے۔ یعنی فرینچ کٹ داڑھی رکھ کر باقی مونڈنے میں حرج نہیں ہے۔"

✔️ آیت اللہ صانعی:

"اس کی حرمت میری نظر میں معلوم نہیں ہے اور حرمت کے آثار اس پر مرتب نہیں ہوتے گرچہ اس کو ترک کرنے کی احتیاط مطلوب ہے."


📄 قائلین حرمت نے مختلف ادلّہ کتاب، روایات، اجماع، شہرت، سیرۂ مسلمین، ارتکازِ متشرعین اور عقل سے استدلال کیا ہے، مگر ان کی دقیق تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی سند حرمت ثابت کرنے کے لیے کافی اہلیت نہیں رکھتی۔ بلکہ اصلِ برائت کے دلائل داڑھی مونڈنے کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔ 

لیکن چونکہ دوسری طرف انبیاء، اولیاء (معصومین) اور صدرِ اسلام سے اب تک کے علماء میں سے کسی نے بھی داڑھی نہیں مونڈی، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ داڑھی نہ مونڈی جائے۔


هذا ما فهمنا من النصوص و اما اذا اردتم التفصیل فعلیکم باهل الذکر وفقکم الله


علامہ سید شہروز زیدی