کیا نکاح میں گواہان کا ہونا ضروری ہے؟ 💍

باسمه تعالیٰ،

فقہاء امامیہ میں مشہور ہے کہ نکاح دائمی میں گواہ بنانا مستحب اور سنت مؤکد ہے۔

البتہ یہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے شرط نہیں ہے، گواہ کے بغیر بھی نکاح درست ہے۔



1️⃣ دلیل اول: قرآن کریم:

📄 قال تعالى: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ

(النساء ٣)


📄 قال تعالى: وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ

(النور ٣٢)


📄 قال تعالى: فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ

(الطلاق ٢)


بات بالکل واضح ہے کہ قرآن نے گواہ بنانے کی شرط صرف طلاق میں لگائی ہے؛ نکاح کا تو کئی جگہ ذکر کیا ہے، لیکن نکاح میں گواہوں کو شرط نہیں بنایا، حتیٰ کہ ایک آیت میں بھی نہیں۔


اور اہلِ بیت علیہم السلام نے اسی قرآنی بیان کو واضح کیا ہے:


📄 روى الكليني في الكافي: ج٥ ص٣٨٧ ح٤، بسنده عن الإمام الكاظم (ع)، أنه قال لأبي يوسف القاضي السُّني الشهير: «إن الله (تبارك وتعالى) أمر في كتابه بالطلاق، وأكَّد فيه بشاهدَيْن، ولم يرضَ بهما إلا عَدْلَين. وأمر في كتابه بالتزويج، فأهمَله بلا شهود. فأثبتُّم شاهدَيْن فيما أهمَل، وأبطلتُم الشاهدَيْن فيما أكَّد!»


"۔۔۔بے شک اللہ (تبارک و تعالیٰ) نے اپنی کتاب میں طلاق کا حکم دیا، اور اس میں دو گواہوں کی تاکید کی، اور ان دو گواہوں کو عادل ہونے کے سوا قبول نہ کیا۔ اور اپنی کتاب میں نکاح کا حکم دیا، تو اسے بغیر گواہوں کے چھوڑ دیا۔ پس تم نے دو گواہوں کو اس میں ثابت کیا جسے اس نے نظر انداز کیا، اور دو گواہوں کو اس میں باطل کیا جس میں اس نے تاکید کی!"


2️⃣ دلیل دوم: سنت شریفہ:


📄 قال ابن إدريس الحلي في السرائر: ج٢ ص٥٥٠، «ليست الشهادة عند أهل البيت (ع) شرطاً في صحته، بل من مستحباته، وبه تجب الموارثة»


"اہل بیت (ع) کے نزدیک گواہی نکاح کے صحیح ہونے میں شرط نہیں، بلکہ یہ اس کے مستحبات میں سے ہے، اور اسی (نکاح) سے وراثت واجب ہوتی ہے۔"


اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کی سنت دو طرح کی ہے:

1. سیرت:

تاریخ نے اُن (علیہم السلام) کے کئی واقعات درج کیے ہیں کہ انہوں نے خود نکاح کیا اور (دوسروں کا) نکاح کرایا، اور اس پر کسی کو گواہ نہیں بنایا، مثلاً:


📄 روى البخاري في صحيحه: ج٦ ص١٩٢ ح٥٠٢٩، ومسلم في صحيحه: ج٤ ص١٤٣ ح١٤٢٥، «عن سهل بن سعد، قال: أتت النبي (ص) امرأة، فقالت: إنها قد وهبتْ نفسها لله ولرسوله (ص)، فقال: ما لي في النساء من حاجة! فقال رجل: زوِّجنيها. قال: أعطها ثوباً، قال: لا أجد. قال: أعطها ولو خاتماً من حديد، فاعتلَّ له. فقال: ما معك من القرآن؟ قال: كذا، وكذا، قال: فقد زوَّجتُكها بما معك من القرآن!»


"سہل بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی (ص) کے پاس ایک عورت آئی، اس نے کہا: اس نے خود کو اللہ اور اس کے رسول (ص) کے لیے ہبہ کر دیا ہے، تو آپ (ص) نے فرمایا: مجھے عورتوں کی کوئی حاجت نہیں! ایک شخص نے کہا: اس سے میرا نکاح کر دیجیے۔ آپ (ص) نے فرمایا: اسے ایک کپڑا دو۔ اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ (ص) نے فرمایا: اسے دو، اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو۔ اس نے عذر کیا۔ تو آپ (ص) نے فرمایا: تمہارے پاس قرآن میں سے کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں فلاں۔ آپ (ص) نے فرمایا: میں نے اس کا نکاح تم سے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے کر دیا!"


📄 قال ابن رشد في بداية المجتهد: ج٣ ص٤٤، «وفعل ذلك الحسن بن علي (رض)، رُوِيَ عنه: أنه تزوَّج بغير شهادة، ثم أعلن بالنكاح»


ابن رشد نے بدایۃ المجتہد میں کہا: "اور یہی کام حسن بن علی (ع) نے کیا، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے بغیر گواہی کے نکاح کیا، پھر نکاح کا اعلان کیا۔"


2. احادیث:

📄 روى الكليني في الكافي: ج٥ ص٣٨٧ ح١، بسند صحيح، عن الإمام الصادق (ع)، «سُئِل: عن الرجل، يتزوَّج المرأة بغير شهود؟ فقال: لا بأس بتزويج البتة، فيما بينه وبين الله. إنما جُعِل الشهود في تزويج البتة من أجل الولد، لولا ذلك لم يكن به بأس»


"امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا: ایسے مرد کے بارے میں جو عورت سے بغیر گواہوں کے نکاح کرے؟ تو آپ نے فرمایا: نکاحِ دائمی میں کوئی حرج نہیں، اللہ اور اس کے درمیان معاملے میں۔۔۔۔"


نکاحِ بتہ سے مراد دائمی نکاح ہے، کیوں کہ شیعہ اور سنی کے درمیان گواہ بنانے کو شرط سمجھنے یا نہ سمجھنے کا اختلاف اسی مسئلے میں ہے۔


📄 روى الكليني في الكافي: ج٥ ص٣٨٧ ح٢، بسند صحيح، عن الإمام الصادق (ع)، قال: «إنما جُعلت البيِّنات للنَّسب والمواريث»، قال الكليني: وفي رواية أخرى: «والحدود»


"امام صادق (ع) نے فرمایا: بے شک گواہیاں صرف نسب اور میراث کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔"

کلینی نے کہا: اور ایک دوسری روایت میں ہے: «اور حدود (شرعی سزاؤں) کے لیے۔"


📄 روى الكليني في الكافي: ج٥ ص٣٨٧ ح٣، بسند صحيح، عن الإمام الصادق (ع)، سُئِل: «في الرجل يتزوَّج بغير بيِّنة؟ قال: لا بأس»


"امام صادق (ع) سے پوچھا گیا: ایسے مرد کے بارے میں جو بغیر گواہ کے نکاح کرے؟ تو آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔"


یہ روایات نکاح میں گواہ بنانے کے شرط نہ ہونے میں صریح ہیں، مگر وہ اس کی طرف رہنمائی کرتی ہیں، تاکہ تہمت دور ہو، اور نسب اور میراث ثابت ہو؛ اور اس رہنمائی سے مراد یہ ہے کہ گواہ بنانا مستحب ہے۔


3️⃣ دلیل سوم: اجماع:

📄 شیخ مرتضیٰ نے الانتصار میں: ص281، م157، اور طوسی نے الخلاف میں: ج4 م13 ص261، اور ابن زہرہ نے غنیۃ النزوع میں: ص245 ف1، اور حلی نے تذکرۃ الفقہاء میں: ج2 ص571، اور مجلسی نے مرآۃ العقول میں: ج20 ص120، اور دیگر نے صریحاً بیان کیا ہے کہ شیعہ اس بات پر اجماع رکھتے ہیں کہ نکاح میں گواہ بنانا شرط نہیں ہے۔


📄 نکاح میں گواہ بنانے کو شرط نہ سمجھنے پر صحابہ، تابعین اور اہل سنت کے فقہاء کے نامور افراد میں سے ایک جماعت متفق ہوئی، جن میں سے:

عبداللہ بن عمر، اور ان کے دو بیٹے سالم اور حمزہ، اور عبداللہ بن زبیر، اور عثمان بن مسلم البتی، اور ابن ابی لیلیٰ، اور عبداللہ بن ادریس اودی، اور عبدالرحمٰن بن مہدی، اور یزید بن ہارون واسطی، اور ابو ثور ابراہیم بن خالد، اور ابن المنذر نیشاپوری، اور یحییٰ بن محمد عنبری، اور اہل ظاہر۔ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے از: ابن شہاب زہری، اور مالک بن انس، اور احمد بن حنبل۔ جیسا کہ مغنی از ابن قدامہ: ج9 ص347، اور الشرح الکبیر از رافعی: ج7 ص516 میں ہے۔