باسمه تعالیٰ
📄 شرعی عقود میں ایک اہم رکن صیغہ (لفظی ایجاب و قبول) ہے جس کے فریقین کے درمیان بیان کرنے سے عقد انشاء ہوتا ہے۔
📄 لیکن کبھی عقد بغیر لفظی صیغہ جاری کیے انجام پاتا ہے جسے فقہا "عقد معاطاتی" سے تعبیر کرتے ہیں۔ معاطات لغت میں دینے اور بخش دینے کے معنی میں ہے، مثلاً رائج خرید و فروخت درحقیقت بیع معاطاتی کہلاتی ہے کہ بیچنے والا اور خریدار میں سے ہر ایک تبادلے کے قصد کے ساتھ، رقم ادا کرکے اور مال لے کر معاملہ انجام دیتے ہیں، بغیر اس کے کہ فریقین کو ایجاب و قبول کے لفظی الفاظ بیان کرنے کی ضرورت ہو۔
نکاح معاطاتی یعنی وہ نکاح جو زوجیت کے انشاء کے قصد کے ساتھ، ایسے فعل کے ذریعے سے جو عرفاً نکاح پر دلالت کرے، عقد کا انشاء ہوتا ہے۔
(سلیمی، مہدی- سلطانی، عباسعلی، مقالہ «نکاح معاطاتی و فرق با زنا»، پژوهش نامہ حقوق اسلامی، دورہ ۱۴، شمارہ ۳۸، بہار ۱۳۹۳)
حقیقت میں نکاح معاطاتی میں میاں بیوی لفظ کی بجائے ایک فعل کے ساتھ علقہ زوجیت کا اظہار کرتے ہیں؛ کیونکہ نکاح پر باطنی رضامندی زوجیت پیدا نہیں کرتی۔
🛑 اکثر فقہائے امامیہ معاطات کو غالب عقود اور معاملات میں صحیح مانتے ہیں۔ لیکن عقدِ نکاح کے بارے میں معاطات کو باطل جانا اور ایجاب و قبول کے لفظی ہونے کے لزوم پر تاکید کرتے ہیں۔
📖 امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں کہ:
"نکاح دو قسم کا ہے:
دائم اور مؤقت، اور ان میں سے ہر ایک ایسے عقد کا محتاج ہے جس میں لفظی ایجاب و قبول ہو، جو مقصود کے معنی کے انشاء اور رضامندی کے انشاء پر اس طرح دلالت کرے کہ اہل محاورہ کے نزدیک معتبر ہو۔ فریقین کی محض قلبی رضامندی اور وہ معاطات جو غالب معاملات میں جاری ہے، اور اس کا لکھنا، یا گونگے شخص کے علاوہ کسی اور کی طرف سے اس معنی کو پہنچانے والا اشارہ، ان میں سے کوئی بھی کفایت نہیں کرتا۔"
(مینی، روح اللہ، تحریر الوسیلہ، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رہ)، تہران، ۱۳۸۵، ج۲، ص ۲۶۳)
📖 شیخ انصاری نے نکاح کے باب میں لکھا ہے کہ فقہا نے عقدِ نکاح میں اصل صیغہ کے اعتبار پر اجماع کیا ہے اور آگے فرماتے ہیں: "بے شک فروج اباحہ اور معاطات سے حلال نہیں ہوتے، اور نکاح اور سفاح (زنا یا غیر صحیح تزویج) کا فرق بھی اسی صیغہ لفظی میں ہے؛ کیونکہ زنا میں بھی غالباً فریقین کے درمیان تراضی موجود ہوتی ہے۔"
(انصاری، مرتضی، «کتاب النکاح»، ص ۷۷)
📖 آیت اللہ خویی شیخ کے نقد میں لکھتے ہیں:
"شیخ انصاری سے اس مطلب کا بیان عجیب معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ نکاح اور سفاح کے درمیان فرق لفظ میں نہیں ہے؛ کیونکہ کبھی لفظ کے ساتھ دو مخالف جنسوں کا تعلق سفاح ہوتا ہے اور کبھی بغیر لفظ کے ان دونوں کا تعلق نکاح ہوتا ہے (جیسے گونگے شخص کا نکاح جو اشارے سے ہوتا ہے)۔ ان کے نزدیک نکاح اور سفاح کے درمیان فرق ایک امر اعتباری میں ہے؛ یعنی نکاح ایک اعتباری امر ہے جس میں مرد عورت کو زوجہ اعتبار کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں عورت بھی مرد کو زوج اعتبار کرتی ہے، لیکن زنا دخول ہے بغیر فریقین کے درمیان زوجیت کے اعتبار کے۔ اسی طرح شیخ کی بات صرف خاص فعل (مواقعه) میں صدق کرتی ہے اور باقی تمام رابطوں پر زنا صدق نہیں کرتا۔"
(خویی، سید ابوالقاسم، موسوعہ الامام خوئی، ج۳۳، ص۱۲۹- خویی، مصباح الفقاہہ، ج۲، ص۱۹۲)
🛑 نکاح معاطاتی کے مخالفین کے دلائل:
بعض فقہا نے نکاح معاطاتی کے باطل ہونے کے بارے میں سورہ نساء سے استناد کیا ہے:
وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّکَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّ اٰتَیۡتُمۡ اِحۡدٰہُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ اَتَاۡخُذُوۡنَہٗ بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا
"اور اگر تم لوگ ایک زوجہ کی جگہ دوسری زوجہ لینا چاہو اور ایک کو بہت سا مال بھی دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا، کیا تم بہتان اور صریح گناہ کے ذریعے مال لینا چاہتے ہو؟"
وَ کَیۡفَ تَاۡخُذُوۡنَہٗ وَ قَدۡ اَفۡضٰی بَعۡضُکُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ وَّ اَخَذۡنَ مِنۡکُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا
"اور دیا ہوا مال تم کیسے واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے سے مباشرت کر چکے ہو اور وہ تم سے شدید عہد و قرار لے چکی ہیں؟"
(سورہ نساء: آیت ۲۱-۲۰)
📄 امام باقر (ع) سے ایک روایت کی بنیاد پر، آیت میں لفظ میثاق نکاح کے عقد کے الفاظ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ برید بن معاویہ عجلی کہتے ہیں:
"میں نے امام باقر (ع) سے عبارت «وَ أَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا» کی تفسیر کے بارے میں پوچھا، امام نے فرمایا: «میثاق وہی کلمہ ہے جس کے ساتھ نکاح واقع ہوتا ہے۔»
(کلینی، الکافی، ج۵، ص۵۶۱- حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۲۰، ص۲۶۲)
📄 آیت اللہ خوئی نے اس روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: "یہ روایت لفظ کے اعتبار اور تنہا قلبی رضامندی کے عدم کفایت پر اشارہ کرتی ہے، بلکہ متعین الفاظ کے غیر کے تلفظ کے عدم کفایت پر واضح دلالت کرتی ہے۔"
(خویی، سید ابوالقاسم: «مبانی فی شرح العروہ الوثقی»، قم، موسسہ احیاء آثار الامام الخویی، بےتا، ج۳۳: ص۱۲۹)
🛑 فقہا میں سے بعض نے اس دلیل کے نقد میں بیان کیا ہے کہ یہ روایت کہ جس نے میثاق کو صیغہ عقد اور لفظی انشاء سے تفسیر کیا ہے، ممکن ہے متعارف فرد کی طرف ناظر ہو؛ کیونکہ عقد کا انشاء عرفاً لفظ کے ساتھ انجام پاتا ہے اور فعل کے ساتھ واقع نہیں ہوتا، لیکن چونکہ روایت انشاء کے طریق کو لفظ میں منحصر نہیں کرتی، بلکہ صرف عقد کے انشاء کے متعارف فرد کی طرف ناظر ہے، اس لیے اسے بطور دلیل استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
(شبیری زنجانی، سید موسی، کتاب النکاح، ج۹، ص ۳۱۱۰)
🛑 بعض فقہا کا کہنا ہے کہ آیت ان آثار عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو عقد کے پیچھے حاصل ہوتے ہیں؛ کیونکہ آمیزش اور نطفہ کی منتقلی کے بعد عقد مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ روایت انشاء لفظی کے اعتبار پر دلیل نہیں، بلکہ خارجی فعل (واقعہ خارجیہ) پر دلالت کرتی ہے۔ پس یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے معتبر ہے، لیکن نکاح معاطاتی کے موضوع پر کوئی دلالت نہیں رکھتی۔
(مکارم شیرازی، ناصر، کتاب النکاح، ج۱، ص ۸۹)
✔️ روایات
📖 نکاح معاطاتی کے مخالفین نے اپنے نظریے کے اثبات میں امام صادق (ع) کی ایک روایت سے استناد کیا ہے۔
ابان بن تغلب کہتے ہیں: میں نے امام صادق (ع) سے پوچھا: اگر میں کسی عورت کو نکاح موقت میں لانا چاہوں تو کیا کہوں؟ امام نے جواب میں فرمایا:
تقول أتزوجك متعه على كتاب الله و سنه نبيه ... فإذا قالت نعم فقد رضيت و هي امرأتك و أنت أولى الناس بها
"کہو میں نے تجھے کتاب خدا اور اس کے نبی کی سنت پر متعہ میں لایا...، اگر اس نے ہاں کہا، تو اس نے رضامندی دی اور وہ تیری بیوی ہے اور تو لوگوں میں اس پر سب سے زیادہ سزاوار ہے۔"
(حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۲۱، ص۴۳)
📄 بعض فقہا ایسی روایات کے بارے میں قائل ہیں کہ جب ان روایات سے متعہ اور عقد موقت کے باب میں لفظ کے اعتبار کا استفادہ ہو، تو بطریق اولیٰ عقد دائم کے باب میں لفظ عقد کے انشاء کے لیے معتبر ہے؛ کیونکہ نکاح دائم ہمیشگی والا ہے، لیکن نکاح منقطع موقت ہے۔
(خوئی، موسوعہ الامام خویی، ج ۳۳، ص ۱۲۹)
📄 بعض دوسرے کے عقیدے میں یہاں اولویت کا استفادہ مشکل ہے؛ کیونکہ عقد موقت کے باب میں قیود اور مقررات موجود ہیں جو نکاح دائم کے باب میں نہیں ہیں؛ مثلاً عقد دائم کے باب میں اگر مہر متعین نہ ہو تو عقد باطل نہیں، لیکن عقد منقطع میں مہر کا متعین ہونا عقد کی صحت کی شرط ہے اور اگر مہر متعین نہ ہو تو عقد باطل ہے۔ اس بناء پر عقدّ موقت سے عقد دائم تک تعدی نہیں کی جا سکتی؛ پس یہ روایات بھی مناسب دلیل نہیں ہیں۔
(شبیری زنجانی، سید موسی، کتاب النکاح، ج۹، ص ۳۱۱۰)
📄 اس کے علاوہ ممکن ہے امام (ع) کا جواب جو یہ فرماتے ہیں: «أتزوجك» اس وجہ سے ہو کہ راوی نے لفظ کے بارے میں پوچھا اور امام (ع) نے بھی جواب الفاظ پر رکھا؛ الا یہ کہ دعوی کیا جائے کہ راوی نے اس لیے تلفظ کے طریقے سے سوال کیا کہ اصل مسئلہ ایجاب و قبول کے لفظی ہونے کا مسلم تھا۔
(ہدایت نیا، فرج اللہ، مقالہ «نکاح معاطاتی از منظر فقہ»)
📖 بعض نے امام باقر (ع) کی دوسری روایت سے اس بارے میں استناد کیا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ (ص) کے پاس آئی اور چاہا کہ اس کا نکاح کسی سے کر دیا جائے اور حضور نے بھی اس کا نکاح اپنے ایک صحابی سے قرآن کا کچھ حصہ سکھانے کے عوض کر دیا:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَه إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَتْ زَوِّجْنِي ... فَقَالَ رسولالله ص فِي الْمَرَّه الثَّالِثَه أَ تُحْسِنُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئاً قَالَ نَعَمْ فَقَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا تُحْسِنُ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْهَا إِيَّاه
(کلینی، ابو جعفر، محمد بن یعقوب، الکافی، ج۵، ص ۳۸۰)
📄 فقہا کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح صیغہ اور لفظ کے بغیر محقق نہیں ہوتا؛ کیونکہ امام (ع) مقام بیان میں ہیں اور اگر کوئی دوسرا سبب ہوتا یعنی اگر نکاح کسی دوسرے طریقے سے منعقد ہوتا تو اشارہ کرتے۔
(مطہری، احمد، مستند تحریر الوسیلہ، ص ۹۵)
📄 بعض نے اس بات کی نقد میں اس عقیدے کا اظہار کیا ہے کہ اس روایت میں امام (ع) مقام بیان میں نہیں ہیں؛ کیونکہ مقام بیان وہ جگہ ہے جہاں کلی حکم کے بارے میں سوال ہو اور حضور اسے بیان فرمائیں، لیکن یہاں ایک عورت پیغمبر (ص) کے پاس آئی ہے اور کہتی ہے "زوجنی" اور حضور (ع) نے جواب میں فرمایا: "قد زوجتکها" اور یہ کلی حکم نہیں ہے۔
(حسینی ادیانی، مسلم، مقالہ «نکاح معاطاتی»)
🛑 اجماع و سیره مسلمین:
فقہا کی بڑی جماعت نے نکاح کے صیغہ کے لفظی ہونے کی ضرورت پر اجماع کیا ہے۔ فقہا جیسے شیخ انصاری، صاحب ریاض (ریاض المسائل، ج۱۱، ص۱۰) نے اس بارے میں فقہا کے درمیان اجماع کا دعوی کیا ہے اور شہید ثانی (مسالک الافہام، ج۷، ص ۸۵) نے عدم خلاف کا دعوی کیا ہے۔
اسی طرح بعض فقہا نے امامیہ اور اہل تسنن کے علما کے اجماع کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
(بحرانی، الحدائق الناظرہ، ج۲۳، ص ۱۵۶)
صاحب العروهالوثقی نے بھی ایجاب و قبول لفظی کی شرط پر اصرار کیا ہے اور قلبی رضامندی، فعلی ایجاب و قبول اور حتی کتابت کو کافی نہیں مانتے۔
(طباطبائی یزدی، سید محمد کاظم، العروہ الوثقی مقالہ نکاح معاطاتی، حسینی ادیانی سے منقول)
📄 بعض فقہا کے مطابق، نکاح کے عقد کے انشاء کے باب میں لفظ کے اعتبار پر عمده دلیل وہی مسلمین یعنی امامیہ اور اہل سنت کے درمیان تسلم ہے کہ سب نے لفظ کے اعتبار کو مسلم لیا ہے اور صیغہ کی شرائط کی طرف گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا عقیدہ ہے کہ ہمارے پاس اس مقام میں کوئی دلیل نہیں کہ شخص فعل کے ساتھ نکاح کا انشاء کر سکے؛ نہ عامہ سے اور نہ خاصہ سے اس مطلب کے جواز پر کوئی روایت ہم تک نہیں پہنچی۔
📄 دوسرے بیان میں کوئی دلیل موجود نہیں کہ ہر طریقے سے عقد کا انشاء کیا جا سکے؛ مثلاً ہاتھ ہلانا یا اشارہ یا انگوٹھی پہنانا اور جشن کی تقریب کرنا۔ درحقیقت ہمارے پاس کوئی عام دلیل یا اطلاق نہیں کہ ہر انشاء نکاح کے عقد کا سبب ہے؛ بنابراین غیر لفظی انشاء پر اکتفا کرنا خلاف شرع ہے۔ عقلاء کے درمیان بھی بیع معاطاتی (خرید و فروخت) مرسوم ہے، لیکن نکاح کے صیغہ کے باب میں کوئی عام عقلائی بناء موجود نہیں۔ اس بناء پر نکاح معاطاتی باطل ہے۔
(شبیری زنجانی، کتاب نکاح، ج۹، ص ۳۱۱۱ و ۳۱۱۲)
📄 البتہ فقہا کے ایک گروہ نے اس اجماع کو حجیت نہیں جانا (مکارم شیرازی، بحوث فقہیہ ہامہ، ص ۱۲۳) اور بعض نے احتمال دیا ہے کہ اجماع مدرکی ہے اور ان روایات پر اعتماد کی بنیاد پر ہے جو بیان ہوئیں۔
(ہدایت نیا، فرج اللہ، مقالہ نکاح معاطاتی از منظر فقہ)
(البتہ کوئی فقیہ "قصد ازدواج" کو محرمیت کے لیے کافی نہیں مانتا)
🛑 معاصر فقہاء:
اکثر معاصر فقہا کے نزدیک نکاح معاطاتی اعتبار نہیں رکھتا اور انہوں نے بھی عقد نکاح میں ایجاب و قبول لفظی کو لازمی جانا ہے۔
✔️ آیت اللہ شہید خامنہ ای قدس سرہ: "غیر لفظی نکاح مشروع نہیں ہے۔"
✔️ آیت اللہ مکارم شیرازی: "ہمارے پاس ازدواج معاطاتی نام کی کوئی چیز نہیں اور ایسا نکاح باطل ہے۔"
✔️ آیت اللہ بہجت قدس سرہ نے نکاح معاطات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اظہار کیا ہے: "نکاح کے مورد میں معاطات نہیں ہے۔"
(مجموعہ آرائے فقہی در امور حقوقی، نکاح-۱»، قم، معاونت آموزش و تحقیقات قوہ قضائیہ، چ دوم، ۱۳۸۲، ج۱، ص۶۹)
✔️ آیت اللہ شبیری زنجانی قدس سرہ نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا لڑکے اور لڑکی کی محض رضامندی ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کے لیے محرمیت اور زوجیت کے جاری ہونے کے معنی میں ہے یا عقد دائم یا موقت کا صیغہ پڑھنا ضروری ہے؟ اور اگر صیغہ عقد کے جاری ہونے کی ضرورت ہے، تو کیا یہ ضرورت زوجیت دائم کے لیے ہے یا زوجیت موقت کے لیے بھی ضروری ہے اور کیا قلبی رضامندی کافی نہیں؟
فرماتے ہیں: "دیگر شرائط سے قطع نظر، دائم اور موقت نکاح میں صیغہ پڑھنا لازم ہے۔"
✔️ آیت اللہ سبحانی نے بھی اسی سوال کے جواب میں فرمایا: "ازدواج سفید وہی ازدواج معاطاتی ہے اور شرعاً کافی نہیں اور اگر کنواری ہے تو باپ کی اجازت سے عقد پڑھا جائے اور مہر متعین کیا جائے۔ افسوس کہ ایسا موضوع جو مفت زنا کے مشابہ ہے، ازدواج کا نام اختیار کر چکا ہے۔ عقد دائم اور موقت دونوں میں عقد پڑھا جانا چاہیے اور حدود واضح ہوں۔"
(سائٹ شفقنا سے منقول)
✔️ آیت اللہ گلپایگانی (رہ) نے بھی تصریح کی ہے کہ نکاح میں معاطات اور دوسرے لفظوں میں لفظی عقد کے اجرا کے بغیر نکاح پر رضامندی کافی نہیں، اور جس نے عقد کے اجرا کے بغیر زناشویی عمل انجام دیا ہے، اس نے زنا کا ارتکاب کیا اور ان کی اولاد زنا کی اولاد کے حکم میں ہے؛ مگر اس صورت میں کہ اس مسئلے سے آگاہ نہ ہو۔
(گلپایگانی، مجمع المسائل، ج۲، ص ۱۴۱، سوال ۳۷۸)

