کیا شادی شدہ عورت سے زنا کرنے والا اس کے لیے حرام ابدی ہو جاتا ہے؟

باسمه تعالیٰ،

وہ فقہاء جو حرمت ابدی کے قائل ہیں انکی پہلی دلیل اس مسئلہ پر فقہاء امامیہ کا اجماع ہے، نیز دوسری دلیل روایات ہیں۔



1️⃣ فقہاء حرمت ابدی کے قائل ہیں۔ جیسے، شيخ مفيد، سيد مرتضیٰ، ابوالصلاح حلبی، شيخ طوسی، سلّار ديلمی، ابن برّاج، ابوالفتوح رازی، ابن حمزه، قطب راوندی، سيد ابوالمكارم ابن زہره، ابن ادريس، قطب الدين كيدری، مہذب الدين نيلی، محقق حلی، يحيی بن سعید، علّامه حلی، فخر المحققين، شہید اوّل، فاضل مقداد، ابن فهد حلی، شيخ مفلح صيمری، محقق كركی، شہید ثانی، فيض كاشانی، كاشف اللثام، صاحب حدائق، صاحب رياض، شيخ حسن كاشف الغطاء، صاحب جواهر، شيخ انصاری


یہ 30 فقہا، جن کے ذریعے فقہ ہم تک پہنچی ہے، اپنی 40 کتابوں میں حرمت ابدی کے قائل ہوئے ہیں، جبکہ فقہی کتب میں جو اجماع کے دعوے کیے گئے ہیں، انہوں نے اس سے کم تعداد کے ساتھ اجماع حاصل کیا ہے۔

اس مسئلہ میں 11 کتابوں میں حرمت ابدی کے فتویٰ کے علاؤہ اجماع کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، اور بعض نے اس مسئلہ کے علاؤہ عدت رجعی والی عورت سے زنا کے مسئلہ میں بھی اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔


2️⃣ حرمت ابدی کی دوسری دلیل: روایات 


📖 فقہ الرضا میں روایت ہے کہ:

من تزوج امراة لها زوج ـ دخل بها او لم يدخل بها ـ او زني بها لم تحل ابداً

"جس نے ایسی عورت سے نکاح کیا جس کا شوہر ہو خواہ اس نے اس سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو یا اس سے زنا کیا، تو وہ عورت ابدی طور پر حلال نہ ہوگی۔"

📖 ایک اور جگہ ہے کہ:

و من زني بذات بعل محصنا كان او غير محصن ـ ثم طلقها زوجها او مات عنها و اراد الذّي زني بها ان يتزوج بها لم تحل له ابداً

"اور جس نے شادی شدہ عورت سے زنا کیا، خواہ وہ خود شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، پھر اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی یا وہ مر گیا، اور جس نے اس سے زنا کیا وہ اس سے نکاح کرنا چاہے، تو وہ اس کے لیے ابدی طور پر حلال نہ ہوگی۔"

(الفقه، فقه الرضا؛ ص: 278)


صاحبِ حدائق اس کتاب پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اور اسے صحیح روایت مانتے ہیں۔

(الحدائق الناضرة في أحكام العترة الطاهرة؛ ج 23، ص: 583 و بالجملة فإن الكتاب عندي معتمد لاعتماد الصدوقين عليه، كما لا يخفى …)


صاحب ریاض کہتے ہیں:

"اور متأخر اصحاب میں سے بعض سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا: روایت کی گئی ہے کہ جو شخص ایسی عورت سے زنا کرے جس کا شوہر ہو، یا جو رجعی عدت میں ہو، تو وہ اس پر حرام ہو جاتی ہے اور اس کے لیے ابدی طور پر حلال نہیں ہوتی۔ اور یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس مسئلے میں خاص طور پر روایت موجود ہے، جیسا کہ انتصار اور اصحاب کی ایک جماعت سے ظاہر ہوتا ہے۔"

(رياض المسائل؛ ج 11، ص: 228)


سید مرتضیٰ نے انتصار میں شادی شدہ عورت سے زنا میں ابدی حرمت پر اجماع کے دعوے کے بعد کہا:

"اور شیعہ کے طریقوں سے ہم نے جس کا ذکر کیا، اس کی حرمت کے بارے میں مشہور اخبار وارد ہوئے ہیں۔ اور ہمارے مخالفین کے لیے یہ نہیں ہے کہ وہ کہیں: یہ ایسے اخبار ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے اور نہ ہم نے انہیں روایت کیا ہے، پس ان پر عمل کرنا واجب نہیں۔ ہم نے کہا: وہ شرائط خبر جو تمہارے نزدیک عمل کو موجب کرتی ہیں، یہ اخبار میں موجود ہیں۔

اس مسئلے کے بعد، رجعی عدت والی عورت سے زنا کے مسئلہ میں دلیل وہی ہے جو اس سے پہلے والے مسئلے میں ہے، اور دونوں مسئلوں میں کلام ایک ہی ہے، پس اس کے دہرانے کا کوئی معنی نہیں۔"

(الانتصار في انفرادات الإمامية؛ ص: 262-264)


شیخ مفید، مسائل العویص میں، دوسرے مسئلے میں اس شخص کے بارے میں جس پر ابدی حرمت ہے، فرماتے ہیں:

"اور یہ احتمال ہے کہ اس نے اس عورت کے ساتھ اس کے شادی شدہ ہونے کی حالت میں زنا کیا ہو، پس وہ اس کے لیے ابدی طور پر حلال نہ ہوگی، آلِ رسول علیہم السلام کے قول میں بالخصوص۔"

(العويص، جوابات المسائل النيسابورية؛ ص: 24)


یہ عبارت، جس کا سیاق خود شیخ مفید کے فتویٰ کا سیاق بھی ہے، اس مسئلے میں ایسی روایت کی طرف اشارہ ہو سکتی ہے جسے فقہی کتابوں اور حدیثی مجموعوں میں نہیں لائے۔


3️⃣ حرمت ابدی کی تیسری دلیل اولویت:


شوہر دار عورت کے ساتھ شادی کرنے سے حرام ابدی ہونے پر بہت ساری روایات ہیں، جیسے:

🛑 ادیم بن حر نے روایت کی ہے:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام:‏ الَّتِي تَتَزَوَّجُ وَ لَهَا زَوْجٌ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَتَعَاوَدَانِ أَبَداً

"وہ عورت جو شوہر کے ہوتے ہوئے شادی کرے، ان دونوں کے درمیان جدائی ڈالی جائے گی پھر وہ دونوں کبھی بھی ایک نہیں ہوسکیں گے۔"

(وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۶، حدیث ۱)

اس روایت کے اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ اس مر د پر وہ عورت حرام ابدی ہو جائے گی خواہ حکم سے جاہل ہی کیوں نہ ہو اور دخول بھی نہ کرے۔

🛑 البتہ اس روایت کے مقابلے میں عبد الرحمن بن حجاج کی روایت صحیحہ ہے کہ:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَ لَهَا زَوْجٌ وَ هُوَ لَا يَعْلَمُ، فَطَلَّقَهَا الْأَوَّلُ أَوْ مَاتَ عَنْهَا ثُمَّ عَلِمَ الْأَخِيرُ أَ يُرَاجِعُهَا؟ قَالَ: لَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا

"میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو لاعلمی میں کسی شوہر دارعورت سے شادی کرتا ہے۔ پس اگر سابق شوہر اس کو طلاق دے یا وہ مرجائے اور دوسرے کو اس کا علم ہوجائے تو کیا وہ رجوع کر سکتا ہے؟ فرمایا: جب تک اس کی عدت ختم نہ ہو جائے وہ رجوع نہیں کرسکتا۔"

(وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۶، حدیث۳)

یہ روایت جہالت اور لاعلمی کو بیان کر رہی ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے لاعلمی کی صورت میں حرام ابدی واقع نہیں ہوگا خواہ دخول کرے یا نہ کرے۔

اس روایت کے ذریعے گزشتہ روایت کو تخصیص دینا ضروری ہو جائے گا، نتیجتاً علم کی صورت میں حرام ابدی واقع ہو جائے گا اور لاعلمی کی صورت میں نہیں ہوگا ۔نیز دونوں صورتوں میں دخول کرنے یا نہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔

🛑 البتہ عبد الرحمن کی روایت صحیحہ کے مقابلے میں ایک دوسری صحیحہ بھی ہے جو زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی ہے:

إِذَا نُعِيَ الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ أَوْ أَخْبَرُوهَا أَنَّهُ قَدْ طَلَّقَهَا، فَاعْتَدَّتْ، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، فَإِنَّ الْأَوَّلَ أَحَقُّ بِهَا مِنْ هَذَا الْأَخِيرِ، دَخَلَ بِهَا الْأَوَّلُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَ لَيْسَ لِلْآخَرِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا أَبَداً، وَ لَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا

"کسی شخص کے گھر والوں کو اس کی موت کی خبر ملے یا یہ خبر ملے کہ شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ، وہ عدت گزارنے کے بعد دوسری شادی کرلے۔ پھر اس کا سابق شوہر پلٹ آئے تو سابق شوہر بعد والے شوہر سے زیادہ حقدار ہے، خواہ سابق شوہر نے دخول کیا ہو یا نہ، اور دوسرے شوہر پر ہمیشہ کے لئے اس کے ساتھ شادی کرنا حرام ہو جائے گا اور اس عورت کو دخول کی وجہ سے مہر بھی مل جائے گا۔"

(وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۶، حدیث۶)

یہ روایت دخول کرنے کی صورت میں بعد والے شوہر پر اس عورت کے حرام ابدی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

اگر دوسری صحیحہ کی طرح اس روایت میں بھی صرف لاعلمی کی جہت کو مد نظر رکھا جائے تو یہ روایت ، دوسری روایت سے اخص مطلق ہو جائے گی۔ پس یہ دخول نہ کرنے کی صورت کے ساتھ خاص ہو جائے گی نتیجتاً لاعلمی اور عدم دخول کی صورت میں حرام ابدی واقع نہیں ہوگا ؛ لیکن لاعلمی کے ساتھ دخول کرنے کی صورت میں حرام ابدی ہو جائے گا۔ علم کی صورت میں حرام ابدی ہونا موثقہ ادیم سے ثابت ہے۔ اس طرح ہم متن میں ذکر کردہ حکم کا نتیجہ لے سکتے ہیں۔

لیکن اگر لاعلمی کی جہت کے لحاظ سے تیسری روایت کو مطلق مان لیا جائے تو دوسری اور تیسری روایت کے درمیان عام و خاص من وجہ کی نسبت ہوگی۔ اور لاعلمی کے ساتھ دخول کرنے کی صورت میں دونوں روایتیں متعارض ہوں گی اور ساقط ہو جائیں گی ۔ دونوں کے ساقط ہونے کے بعد موثقہ ادیم کے اطلاق سے رجوع کرنا ضروری ہو جائے گا ؛ کیونکہ اس کے لئے مقید بننے والی روایت (دوسری روایت) معارض کی وجہ سے ساقط ہوگئی ہے؛ لہذا اس طرح بھی ہم وہی نتیجہ لے سکیں گے۔


شادی شدہ عورت یا رجعی عدت والی عورت سے زنا میں حرمت ابدی کے اثبات کے لیے اولویت سے استدلال کیا گیا ہے، دو تقریروں کے ساتھ۔


پہلی تقریر:

شادی شدہ عورت سے نکاح یا عدت والی عورت سے نکاح، علم کے ساتھ، باوجود یہ کہ ابھی دخول نہ ہوا ہو، ابدی حرمت کا موجب بنتا ہے۔ نکاح دخول کے مقدمات میں سے ایک ہے۔ اگر نکاح، جو دخول کا مقدمہ ہے، ابدی حرمت کا موجب ہو، تو خود دخول، جو ذی المقدمہ ہے، بالاولویہ ابدی حرمت کا موجب ہونا چاہیے، کیونکہ مقدمہ ذی المقدمہ سے بلند نہیں ہو سکتا۔ پس شادی شدہ عورت یا عدت والی عورت سے زنا بھی ابدی حرمت لانا چاہیے۔


دوسری تقریر:

اگر شادی شدہ عورت سے نکاح یا عدت والی عورت سے نکاح نادانی کی بنا پر ہو، تو دخول کے ساتھ ابدی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اگر نادانستہ دخول ابدی حرمت لائے، تو علم کے ساتھ دخول بہ طریق اولیٰ ابدی حرمت لائے گا۔


🔅 حرمت ابدی پر دلالت کرنے والی روایات کا جائزہ:


✔️ روایتِ فقہ الرضا:

ہماری بحث میں کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ فقہ الرضا حدیثی کتاب نہیں ہے، بلکہ غالب امکان یہ ہے کہ وہی کتاب التکلیف شلمغانی ہے، جو ایک فقہی کتاب ہے۔ صاحب حدائق قدما کے فتویٰ کی مدرک کو یہی روایتِ فقہ الرضا علیہ السلام سمجھتے ہیں، لیکن یہ عجیب دعویٰ ہے۔ جبکہ کسی نے بھی اس روایت سے استدلال نہیں کیا، نہ صدوق نے اور نہ ان کے والد نے، بلکہ شیخ طوسی نے دوسری روایات کو تمسک کیا ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ کیسے ان کی مدرک کو یہ کتاب قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور بالکل کسی بھی قدما کی کتاب میں فقہ الرضا علیہ السلام کی منقولات سے استناد نہیں کیا گیا، اور کوئی مورد دیکھا نہیں گیا کہ قدما میں سے کسی نے اس کتاب کی کوئی عبارت امام رضا علیہ السلام کی طرف نسبت دی ہو اور ”قال الرضا“ کے الفاظ کے ساتھ اسے نقل کیا ہو۔ جب اس کتاب سے استدلال کا کوئی نشان اور اثر نظر نہیں آتا، تو کیسے قدما کے فتویٰ کی مدرک کو یہ روایت قرار دیا جا سکتا ہے؟ بزرگوں کا عام طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کتاب فقہ الرضا کو معتمد نہیں مانتے اور اس کی روایات پر عمل نہیں کرتے، بلکہ اس کے روایت ہونے میں بھی اشکال ہے۔ پس فقہ الرضا حدیث نہیں ہے، اور اگر حدیث ہو بھی، تو قابل اعتماد نہیں ہے۔


✔️ انتصار اور عویصِ مفید کی روایات:

سید مرتضیٰ نے انتصار میں دعویٰ کیا ہے کہ اس مسئلے میں مشہور اخبار موجود ہیں، جبکہ حدیثی کتابوں جیسے کافی اور فقیہ میں اس مسئلے کے لیے کوئی روایت ذکر نہیں ہوئی۔ شیخ طوسی، جو سید مرتضیٰ کے سب سے اہم شاگرد تھے اور شیخ مفید کی وفات (413ھ) سے سید مرتضیٰ کی وفات (436ھ) تک کے 23 سالہ عرصے میں سید مرتضیٰ کے زمانے کو پا لیا اور شاید سید کی زندگی کے آخر تک ان کے درس میں جاتے رہے، انہوں نے تہذیب اور استبصار اور اپنی کسی بھی دوسری حدیثی کتاب میں اس بارے میں بالکل کوئی روایت نقل نہیں کی۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ مسئلے میں اخبار (نہ کہ ایک خبر) بلکہ مشہور اخبار ہوں اور کسی بھی حدیثی کتاب میں ان کا کوئی نشان و اثر نظر نہ آئے؟

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سید مرتضیٰ کی مراد مشہور اخبار سے وہی اخبار ہیں جو شادی شدہ عورت سے نکاح یا عدت والی عورت سے نکاح میں ابدی حرمت کے بارے میں ہیں، جن سے اولویت کے ذریعے زنا کا حکم اخذ کیا گیا ہے، یا اس تقریب سے جو ہم آئندہ جلسے میں بیان کریں گے، ان روایات کو مسئلہ زنا پر بھی شامل سمجھا اور ان کے اطلاق سے تمسک کیا ہے۔

شیخ طوسی نے بھی شادی شدہ عورت سے زنا میں ابدی حرمت کے بارے میں مفید کے فتویٰ پر استدلال کے لیے انہی روایات سے تمسک کیا ہے۔ شیخ طوسی کی عبارت تہذیب میں یہ ہے:


قَالَ الشَّيْخ (أي المفيد) رَحِمَهُ اللَّهُ: وَ مَنْ سَافَحَ امْرَأَةً وَ هِيَ ذَاتُ بَعْلٍ لَمْ يَحِلَّ لَهُ الْعَقْدُ عَلَيْهَا أَبَداً وَ كَذَلِكَ إِنْ سَافَحَهَا وَ هِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْ بَعْلٍ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ أَبَداً

رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِنَا …

"شیخ مفید رحمہ اللہ نے کہا:

اور جو شخص کسی عورت سے زنا کرے جبکہ وہ شادی شدہ ہو، تو اس پر اس عورت سے نکاح ابدی طور پر حلال نہیں ہوگا۔

اور اسی طرح اگر وہ اس سے زنا کرے جبکہ وہ ایسے شوہر کی عدت میں ہو جسے اس پر رجوع کا حق ہو، تو وہ اس کے لیے ابدی طور پر حلال نہیں ہوگی۔

محمد بن یعقوب نے ہمارے اصحاب کی ایک جماعت سے روایت کی ہے…"

(تهذيب الأحكام؛ ج 7، ص: 305)


پھر احمد بن محمد کی مرفوع اور ادیم بن الحر کی موثق روایت، جو شادی شدہ عورت سے نکاح کے بارے میں ابدی حرمت کا حکم دیتی ہیں، کو مفید کے فتویٰ کی دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے۔


شیخ مفید بھی، جو عویص میں حرمت ابدی کو آل رسول علیہ السلام کا قول مانتے ہیں، نے انہی روایات کی بنا پر یہ کلام ذکر کیا ہے، نہ یہ کہ کوئی اور روایت ان کے اختیار میں تھی جو (ہم تک) نہیں پہنچی۔

پس ہم شیخ مفید اور شیخ مرتضیٰ کے کلام سے یہ کشف نہیں کر سکتے کہ مسئلہ میں کوئی خاص روایت تھی جو علماء کے فتویٰ کی مدرک تھی، پس اگر ہم اولویت کو ناتمام مانیں تو روایات کے ذریعے سے حرمت ابدی کا حکم نہیں لگا سکتے۔

وہ روایت بھی جو صاحب ریاض نے واسطے کے ساتھ بعض متاخرین سے نقل کی ہے، قابل اعتماد نہیں ہے۔

🛑 بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں کوئی خاص روایت موجود نہیں ہے۔


خلاصہ بحث:

✔️ شوہر دار عورت کے ساتھ زنا کرنے کی صورت میں حرام ابدی ہونا مشہور فتویٰ ہے (جواہر الکلام: ۲۹/ ۴۴۶) ؛ بلکہ اس پر اجماع ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ 

اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے مندرجہ طریقوں سے استدلال کیا گیا ہے:

🛑 ۱۔ اولویت قطعیہ کے دعویٰ سے تمسک کرنا:

جب شوہر دار عورت کے ساتھ شادی کرنے سے وہ اس مرد پر حرام ابدی ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ زنا کرنے سے بطریق اولیٰ حرام ابدی ہو جائے گی۔

اس استدلال پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ شرعی احکام تعبدی ہیں اور ہمارے پاس ان کے ملاک کو معلوم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے؛ لہذا یہ اولویت صحیح نہیں ہے۔

🛑 ۲۔ فقہ رضوی کے مذکورات سے تمسک کرنا:

فقہ رضوی میں کہا گیا ہے کہ جو شخص کسی شوہر دار عورت سے زنا کرے خواہ وہ عورت پاکدامن ہو یا نہ ہو، پھر اس کا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ مرجائے اور زانی اس عورت کے ساتھ شادی کا ارادہ کرے تو وہ اس کے لئے کبھی بھی حلال نہیں ہوگی۔

(مستدرک الوسائل: ۱۴/ ۳۸۷ ، نمبر 17048)

اس پر یہ اشکال ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی طرف اس کتاب “فقہ رضوی”کی نسبت ثابت نہیں ہوئی ہے تاکہ ہم اس پر اعتماد کریں۔

🛑 ۳۔ بعض فقہاء کے نقل کردہ دعوائے اجماع سے تمسک کرنا:

اس بات پر یہ اشکال ہے کہ اجماع کا واقع ہونا ثابت نہیں ہے۔ بالفرض ثابت بھی ہوجائے تو یہ اجماع حجت نہیں ہے؛ کیونکہ اس کے اجماع مدرکی ہونے کا احتمال ہے۔


جب حرام ابدی کی کوئی دلیل ثابت نہ ہو تو حلال ہونے کو ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے عموم سے تمسک کیا جا سکتا ہے:


...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ...


"...اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں..."

(نساء : ۲۴)