باسمه تعالیٰ،
✔️ اگر کوئی مرد کسی لڑکے کے ساتھ لواطت کا ارتکاب کرے تو مفعول کی والدہ اور اس کے سلسلۂ نسب میں آنے والی تمام نانیاں اور دادیاں فاعل پر حرام ہو جاتی ہیں، اور اس کے لیے ان سے نکاح کرنا جائز نہیں رہتا۔ اسی طرح مفعول کی بیٹی، نواسی، پوتی اور اس کی بہن بھی فاعل پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہیں، اور اس کے لیے ان میں سے کسی کے ساتھ عقدِ نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا۔
📜 مرحوم شیخ مفید اس بارے میں لکھتے ہیں:
"اگر کوئی شخص کسی بچے کے ساتھ جنایت کرے (یعنی اس کے ساتھ لواطت کا ارتکاب کرے) اور دخول بھی واقع ہو جائے تو اس بچے کی بہن، ماں اور بیٹی اس شخص پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہیں، اور وہ ان سے نکاح نہیں کر سکتا۔"
(شیخ مفید، محمد بن محمد، المقنعة، ص۵۰۱)
بہت سے دیگر فقہاء کی عبارات بھی تقریباً اسی مضمون پر مشتمل ہیں۔
✔️ اس حکم کی دلیل فقہاء کا اجماع بھی ہے،
(شهید ثانی، مسالک الافهام، ج۷، ص۳۴۳)
جسے بعض اکابرین کی تعبیر کے مطابق استفاضہ اور تواتر کے اعلیٰ ترین مرتبے پر قرار دیا گیا ہے، نیز اس کی دلیل وہ روایات بھی ہیں جو حدِّ استفاضہ تک پہنچی ہوئی ہیں۔ بطورِ نمونہ روایات:
📖 محمد بن يعقوب ، عن علي بن إبراهيم ، عن أبيه ، عن ابن أبي عمير عن بعض أصحابنا ، عن أبي عبدالله عليهالسلام في رجل يعبث بالغلام قال : إذا أوقب حرمت عليه ابنته واخته
"امام صادق علیہالسلام سے روایت ہے کہ ایک شخص نے لڑکے کے ساتھ فاعلیت کی، تو اس پر اس لڑکے کی بیٹی اور بہن ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔"
(وسائل الشيعة الجزء 20 صفحة 444)
📖 وبهذا الاسناد عن أبي عبدالله عليهالسلام في رجل يأتي أخا امرأته فقال : إذا أوقبه فقد حرمت عليه المرأة
"امام صادق علیہالسلام سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے بھائی کے ساتھ جماع کرے، تو اس پر وہ عورت ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔"
(وسائل الشيعة الجزء 20 صفحة 444)
📖 وعنه ، عن أبيه أو عن محمد بن علي ، عن موسى بن سعدان ، عن بعض رجاله قال : كنت عند أبي عبدالله عليهالسلام فقال له رجل : ما ترى في شابين كانا مصطحبين فولد لهذا غلام وللآخر جارية ، أيتزوّج ابن هذا ابنة هذا؟ قال : فقال : نعم، سبحان الله لم لا يحلّ ، فقال : انه كان صديقا له ، قال : فقال : وان كان فلا بأس ، قال : فإنه كان يفعل به قال : فأعرض بوجهه ثم اجابه وهو مستتر بذراعه فقال : إن كان الذي كان منه دون الايقاب فلا بأس أن يتزوج وإن كان قد أوقب فلا يحل له أن يتزوج.
"امام صادق علیہ السلام کے پاس میں موجود تھا کہ ایک شخص نے پوچھا: آپ کیا رائے دیتے ہیں اگر دو نوجوان ساتھ ہوں اور ایک کا بیٹا لڑکا پیدا کرے اور دوسرے کا بیٹا لڑکی، کیا ممکن ہے کہ ایک کا بیٹا دوسرے کی بیٹی سے نکاح کرے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں، سبحان اللہ، کیوں نہیں جائز ہوگا؟ کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ پھر اس نے کہا: اگر ایسا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ پھر امام علیہ السلام نے اپنے بازو کے پیچھے چھپتے ہوئے کہا: اگر جو کچھ ہوا ہے وہ دخول کے بغیر تھا تو نکاح جائز ہے، لیکن اگر دخول ہوا (لواط) تو نکاح جائز نہیں ہے۔"
(وسائل الشيعة الجزء 20 صفحة 444)
📖 وعن الحسين بن محمد ، عن المعلى بن محمد ، عن الحسن بن علي ، عن حماد بن عثمان قال : قلت لابي عبدالله عليهالسلام : رجل أتى غلاما ، أتحل له اخته؟ قال : فقال : إن كان ثقب فلا۔
"حماد بن عثمان سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ایک شخص نے کسی لڑکے کے ساتھ جماع کیا، کیا اس کے لیے اپنی بہن سے نکاح جائز ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر دخول (ثقب) ہوا ہے تو نہیں۔"
(وسائل الشيعة الجزء 20 صفحة 445)
📖 محمد بن عليّ بن الحسين في ( عقاب الاعمال ) قال : روي عن أبي عبدالله عليهالسلام في رجل لعب بغلام قال : إذا أوقب لم تحل له اخته أبدا.
"محمد بن علی بن حسین نے (عقاب الأعمال) میں روایت کی ہے کہ امام صادق علیہالسلام سے ایک شخص نے لڑکے کے ساتھ کھیل کیا، تو فرمایا: اگر اس کے ساتھ دخول ہوا، تو اس پر اس لڑکے کی بہن ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔"
(وسائل الشيعة الجزء 20 صفحة 445)
📖 محمد بن الحسن بإسناده عن محمد بن أحمد بن يحيى ، عن يعقوب بن يزيد عن محمد بن أبي عمير ، عن رجل ، عن أبي عبدالله عليهالسلام في الرجل يعبث بالغلام قال : إذا أوقب حرمت عليه اخته وابنته.
"امام صادق علیہالسلام سے روایت ہے کہ اگر کسی شخص نے لڑکے کے ساتھ جماع کیا، تو اس پر اس لڑکے کی بہن اور بیٹی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہیں۔"
(وسائل الشيعة الجزء 20 صفحة 445)
📖 وبإسناده عن علي بن الحسن بن فضال ، عن محمد بن إسماعيل ، عن حماد بن عيسى ، عن إبراهيم بن عمر ، عن أبي عبدالله عليهالسلام في رجل لعب بغلام ، هل تحل له امه؟ قال : إن كان ثقب فلا.
"اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ علی بن حسن بن فضال، محمد بن اسماعیل، حماد بن عیسیٰ، ابراہیم بن عمر سے امام صادق علیہالسلام سے روایت ہے کہ اگر کسی شخص نے لڑکے کے ساتھ جماع کیا، تو کیا اس پر اس لڑکے کی ماں نکاح کے لیے جائز ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر دخول (ثقب) ہوا ہو تو نہیں۔"
(وسائل الشيعة الجزء 20 صفحة 445)
🛑 آیا یہ حکم صرف اس صورت سے مختص ہے کہ لواط کا فاعل بالغ ہو، یا اس معاملے میں بچے اور بالغ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں:
1️⃣ بہت سے فقہاء جیسے سید مرتضیٰ، شیخ مفید، شہید ثانی، فاضل آبی، محقق حلی، امام خمینی کا نظریہ ہے کہ اس حکم میں نابالغ اور بالغ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
2️⃣ اس کے برخلاف، بعض دیگر فقہاء جن میں آیاتِ عظام حکیم، خوئی اور فاضل لنکرانی بھی شامل ہیں، کا نظریہ ہے کہ یہ حکم صرف بالغ فاعل کے ساتھ مختص ہے اور نابالغ کے فعل پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا؛ کیونکہ روایات میں وارد ہونے والے لفظ رَجُل (مرد) سے بظاہر بالغ فرد مراد ہے، نہ کہ بچہ۔
🛑 فقہاء نے صراحت کی ہے کہ یہ حکم صرف فاعل کے ساتھ مختص ہے اور مفعول کو شامل نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایات لواط کرنے والے (فاعل) کے بارے میں وارد ہوئی ہیں، اور اس حکم کو مفعول کے لیے بھی ثابت کرنا قیاس کی ایک صورت شمار ہوگا، جو فقہِ امامیہ میں شرعی حکم کی دلیل نہیں بن سکتا۔
فقہاء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا کہ حرمت کا یہ حکم فاعل اور ان افراد کے درمیان نکاح سے متعلق ہے جن کا ذکر اس بحث کے آغاز میں کیا گیا ہے، یعنی مفعول کی ماں، اس کی نانیاں اور دادیاں، اس کی بیٹی، نواسی، پوتی اور اس کی بہن۔ لہٰذا فاعل کا بیٹا مفعول کی بیٹی، بہن یا ماں سے نکاح کر سکتا ہے۔ تاہم، بعض فقہاء نے اس صورت میں بھی حرمتِ نکاح کو احتیاطِ واجب کے طور پر اختیار کیا ہے۔
🛑 مذکورہ افراد کے ساتھ فاعل کے لیے حرمتِ نکاح کا حکم اس صورت سے متعلق ہے جب یہ فعل عقدِ ازدواج سے پہلے انجام دیا گیا ہو۔ اسی بنا پر بہت سے فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر یہ فعل عقدِ ازدواج کے بعد انجام پائے تو یہ حکم لاگو نہیں ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے بھائی کے ساتھ لواط کا ارتکاب کرے تو اس کی بیوی، جو مفعول کی بہن ہے، اس پر حرام نہیں ہوگی۔
اس حکم کی دلیل فقہاء نے اصلِ براءت و استصحاب اور اجماع کے علاوہ ان روایات کے عموم کو قرار دیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کسی حرام فعل کا ارتکاب پہلے سے حلال چیز کو حرام نہیں کرتا۔ اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ الحَرَامَ لَا یُفْسِدُ الْحَلَالَ
"بے شک حرام فعل، حلال چیز کو فاسد نہیں کرتا۔"
(وسائل الشیعة، ج۲۰، ص۴۲۸، باب ۸، ح۱)
لہٰذا مذکورہ صورت میں فاعل اور مفعول کی بہن کے درمیان عقدِ نکاح، لواط کے ارتکاب سے پہلے حلال تھا، اور جن روایات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان کی بنا پر اس فعل کے ارتکاب کے بعد وہ نکاح حرام نہیں ہوگا۔
البتہ بعض فقہاء کا نظریہ تھا کہ اگر لواط کا ارتکاب عقدِ ازدواج کے بعد بھی ہو تو حرمتِ نکاح کا حکم لاگو ہوگا۔ اسی طرح بعض معاصر فقہاء نے بھی احتیاط کا تقاضا یہ قرار دیا ہے کہ حرمت کا حکم دیا جائے۔
📜 معاصر فقہاء کے فتاویٰ:
✔️ آیت اللہ العظمی سیستانی:
"اگر دخول کیا ہے اور دخول کے وقت لواط کرنے والا بالغ اور جس سے لواط کیا ہے نابالغ تھا تو اس صورت میں جس سے لواط کیا ہے اس کی ماں، بہن، بیٹی لواط کرنے والے پر حرام ہے اور اگر فاعل (لواط کرنے والا) نابالغ تھا تو یہ حکم احتیاط واجب کی بنا پر ہے۔"
✔️ آیت اللہ العظمی شہید خامنہ ای:
"جس شخص نے کسی کے ساتھ لواط (دخول) کیا ہو، اسکی ماں، بہن، بیٹی کے ساتھ فاعل کا عقد حرام ہے۔"
✔️ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی:
"مفعول بالغ ہو یا نابالغ ہو دونوں صورتوں میں فاعل اگر بالغ ہو تو مفعول کی ماں، بہن، بیٹی سے عقد حرام ہے، لیکن اگر فاعل نابالغ ہو تو عقد حرام نہیں ہے۔"
✔️ مرحوم آیت اللہ العظمی اسحاق فیاض:
"دونوں بالغ ہوں تو مفعول کی ماں، بہن یا بیٹی سے فاعل کا عقد کرنا حرام ابدی نہیں ہے۔ لیکن اگر فاعل بالغ ہو اور مفعول نابالغ ہو تو مفعول کی ماں، بہن، بیٹی سے عقد حرام ہے۔"
✔️ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی:
"اگر کوئی بالغ شخص کسی نابالغ لڑکے کے ساتھ لواط کا ارتکاب کرے اور دخول کا تحقق بھی یقینی ہو، تو اس لڑکے کی ماں، بہن اور بیٹی اس شخص پر حرام ہو جائیں گی۔ لیکن اگر فاعل نابالغ ہو یا اسے شک ہو کہ وہ بالغ تھا یا نہیں، تو وہ اس پر حرام نہیں ہوں گی۔ اور اگر دونوں بالغ ہوں تو احتیاطِ واجب کی بنا پر وہ اس پر حرام ہوں گی۔"
✔️ مرحوم آیت اللہ یوسف صانعی:
"اگر لواط کرنے والا مرد (بالغ) ہو تو نکاح حرام ہے، اور اگر وہ اوائلِ بلوغت میں ہو تو احتیاطِ واجب کی بنا پر نکاح حرام ہے۔ اگر لواط کرنے والا اس مسئلہ سے غافل ہو (جہالت کے سبب)، تو ظاہراً حرمت پیدا نہیں ہوتی۔ احکام میں اس قسم کے جاہل کے بارے میں (ما لا يعلمون عن قصور) رعایت ہے اور لوگوں کو اس معاملے میں آسانی دی گئی ہے۔" (سوال 982 - 29/1/77)
✔️ آیت اللہ العظمی وحید خراسانی:
"جس لڑکے کے ساتھ لواط کا ارتکاب کیا گیا ہو، اس کی ماں، بہن اور بیٹی لواط کرنے والے پر حرام ہیں، بشرطیکہ لواط کرنے والا بالغ ہو۔ اسی طرح احتیاط کی بنا پر اس لڑکے کی نانی اور پوتی بھی اس پر حرام ہیں۔ اور اگر لواط کرنے والا بالغ ہو یا جس لڑکے کے ساتھ لواط کیا گیا ہو وہ بالغ نہ ہو، تو اگر ان کے درمیان عقدِ نکاح واقع ہو چکا ہو، احتیاطِ واجب کی بنا پر عورت کو طلاق کے ذریعے مرد سے جدا کیا جائے۔ یہی حکم اس لڑکے کی نانی اور نواسی کے ساتھ عقدِ نکاح واقع ہونے کی صورت میں بھی ہے۔ اور اگر اسے گمان یا شک ہو کہ دخول ہوا تھا یا نہیں، تو وہ عورتیں اس پر حرام نہیں ہوں گی۔"
✔️ آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی:
"جس لڑکے کے ساتھ لواط کیا گیا ہو، اس کی ماں، بہن اور بیٹی لواط کرنے والے پر حرام ہیں، اگرچہ لواط کرنے والا اور جس لڑکے کے ساتھ لواط کیا گیا ہو، دونوں نابالغ ہوں۔ لیکن اگر اسے گمان ہو کہ دخول ہوا ہے، یا اسے شک ہو کہ دخول ہوا ہے یا نہیں، تو وہ اس پر حرام نہیں ہوں گی۔"
✔️ آیت اللہ العظمی بشیر نجفی:
"اگر دخولِ حشفہ، خواہ اس کا کچھ حصہ ہی داخل ہوا ہو، محقق ہو جائے تو مفعول کی بہن، بیٹی اور ماں فاعل پر حرام ہو جاتی ہیں، لیکن اس کے برعکس حکم نہیں ہے۔ تاہم، اگر دونوں نے ایک دوسرے کے دبر میں دخول کیا ہو تو ان میں سے ہر ایک کی بہن، بیٹی اور ماں دوسرے پر حرام ہو جائے گی۔ اس مسئلے میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دونوں بالغ ہوں، یا دونوں نابالغ ہوں، یا ان میں سے ایک بالغ اور دوسرا نابالغ ہو۔"
✔️ مرحوم آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی:
"اگر فاعل بالغ ہو اور مفعول نابالغ یا ابتدائی عمرِ بلوغ میں ہو، تو مفعول کی بہن، ماں، بیٹی، نانی، دادی اور نواسی و پوتی، خواہ نسبی ہوں یا رضاعی، فاعل پر حرام ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کے ساتھ بچپن (نابالغی) میں لواط کیا گیا ہو تو احتیاطِ مستحبِ مؤکد کی بنا پر اسے نکاح کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔"
سید شہروز زیدی

