ایک مجلس میں تین طلاقیں

باسمه تعالیٰ،

طلاق کے مسائل میں سے ایک مسئلہ، جو بہت سے خاندانوں کے بکھرنے اور قطعِ رحمی کا سبب بنا ہے، ایک ہی مجلس میں تین طلاقوں کو مؤثر تسلیم کرنا ہے؛ یعنی شوہر یہ کہے: «أنتِ طالقٌ ثلاثاً» (تمہیں تین طلاقیں ہیں)، یا تین مرتبہ یہ جملہ دہرائے: «أنتِ طالق، أنتِ طالق، أنتِ طالق» (تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے)۔ یقیناً یہ بات مسلم ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق دے دے تو وہ اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، بشرطیکہ دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے۔ لیکن بسا اوقات شوہر غصے کی حالت میں ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق دے دیتا ہے، پھر اسے شدید پشیمانی ہوتی ہے اور وہ اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ وہ مذاہبِ اربعہ میں اس کا حل ڈھونڈتا ہے، حالانکہ ان میں اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ملتی۔ لیکن اگر وہ فقہِ امامیہ کی طرف رجوع کرے، جو کتابِ خدا، سنتِ رسولؐ اور ائمۂ اہلِ بیتؑ کی احادیث سے ماخوذ ہے، تو اسے اس مسئلے کا حل مل سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی مجلس میں دی جانے والی تین طلاقیں باطل ہیں۔



📜 فقہائے اہلسنت (اہل حدیث کے علاؤہ) کا کہنا ہے کہ تین طلاقوں کا الگ الگ مجلس میں ہونا ضروری نہیں، بلکہ اگر ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ طلاق دی جائے تو بھی تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ تاہم، مصر کے علمائے کرام نے حال ہی میں اس قانون میں ترمیم کی ہے اور تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی انہوں نے عائلی قانون میں تبدیلی کی ہے۔


📜 لیکن فقہِ امامیہ کے مطابق تین طلاقیں الگ الگ ہونی چاہییں اور ان کے درمیان عدّت کا فاصلہ ہونا ضروری ہے۔


🛑 رسولِ اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں ایک ہی مجلس میں دی جانے والی تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی تھی۔ عمر بن خطاب کی خلافت کے ابتدائی چھ سال میں بھی یہی حکم جاری رہا، لیکن بعد میں انہوں نے لوگوں کی طلاق میں جلدبازی کے پیشِ نظر فیصلہ کیا کہ ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی۔ اسی فیصلے کے بعد یہ نظریہ فقہائے اہلِ سنت میں رائج ہوا، جبکہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور بعض دیگر صحابہ اس موقف کے مخالف تھے۔


💬 ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بدعت ہونے پر دلالت کرنے والی روایات:


📖 روی مسلم عن طاووس، عن ابن عباس، قال: «کان الطلاق علی عهد رسول الله ﷺ و ابی بکر سنتین من خلافة عمر: طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: انّ الناس قد استعجلوا فی امر قد کانت لهم فیه اناة- اناة، یعنی مهلت - فلو امضیناه علیهم، فامضاه علیهم»


"مسلم نے طاؤس سے، انہوں نے ابنِ عباسؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں، حضرت ابوبکر کے دورِ خلافت میں اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں۔ پھر عمر بن خطاب نے کہا: لوگوں نے ایک ایسے معاملے میں جلدبازی شروع کر دی ہے جس میں انہیں مہلت حاصل تھی۔ پس کیوں نہ ہم اسے ان پر نافذ کر دیں؟ چنانچہ انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔"


(قشیری نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج۲، ص۱۰۹۹)


📖 و روی مسلم عن ابن طاووس عن ابیه، انّ ابا الصهباء قال لابن عباس: «اتعلم انّما کانت الثلاث تجعل واحدة علی عهد النبی ﷺ و ابی بکر و ثلاثاً من خلافة عمر؟ فقال: نعم»


مسلم نے ابنِ طاؤس نے اپنے والد (طاؤس) سے روایت کی ہے کہ ابوالصہباء نے ابنِ عباسؓ سے کہا:

’’کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں، حضرت ابوبکر کے دورِ خلافت میں اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کیا جاتا تھا؟‘‘ ابنِ عباسؓ نے جواب دیا: ’’جی ہاں۔‘‘


(قشیری نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج۲، ص۱۰۹۹)


📖 روی مسلم عن طاووس ایضاً انّ ابا الصهباء، قال لابن عباس: «هات من هناتک (هنات، شر و فساد را می‌گویند،‌ هات، یعنی بیاور از آن شرور و فسادی که در زندگی رخ داده، کلمه «هنات» به معنی شر و فساد است-،‌هاتِ، بیاور) الم یکن الطلاق الثلاث علی عهد رسول الله ص و ابی بکر واحد؟ قال: «قد کان ذلک، فلمّا کان فی عهد عمر تتایع الناس فی الطلاق (تتایع، یعنی دنبال شر رفتن، اگر کسی مرتّب دنبال شر برود، می‌گویند: تتایع) «تَتایعَ» فاجازه علیهم»


مسلم نے طاؤس سے بھی روایت کی ہے کہ ابوالصہباء نے ابنِ عباسؓ سے کہا: ’’اپنی ان باتوں میں سے کچھ بیان کیجیے۔ کیا رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار نہیں ہوتی تھیں؟‘‘

ابنِ عباسؓ نے جواب دیا: ’’ایسا ہی تھا۔ پھر جب حضرت عمر کا دور آیا تو لوگوں نے طلاق دینے میں پے در پے جلدبازی شروع کر دی، تو انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔‘‘


(قشیری نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج۲، ص۱۰۹۹)


📖 روی البیهقی قال: «کان ابو الصهباء کثیر السؤال لابن عباس، قال: اما علمت انّ الرّجل کان اذا طلّق امراته ثلاثاً قبل ان یدخل بها جعلوها واحدة علی عهد النبیّ صو ابی بکر و صدراً من امارة عمر، فلمّا رای الناس قد تتایعوا فیها، قال: اجیزوهنّ علیهم»


بیہقی نے روایت کی ہے کہ ابو الصہباء نے کہا: وہ ابن عباسؓ سے کثرت سے سوال کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دور میں، جب کوئی شخص اپنی بیوی سے دخول سے پہلے تین طلاقیں دیتا تھا، تو اسے ایک طلاق شمار کیا جاتا تھا؟ پھر جب حضرت عمر نے دیکھا کہ لوگ طلاق دینے میں کثرت سے جلدبازی کرنے لگے ہیں، تو انہوں نے کہا: ان طلاقوں کو ان کے خلاف نافذ کردو۔


(بیهقی، احمد بن حسین، سنن بیهقی، ج۷، ص۵۵۴)


📖 اخرج الطحاوی من طریق ابن عباس انّه قال: لمّا کان زمن عمر، قال: «یا ایّها الناس قد کان لکم فی الطلاق اناة و انّه من تعجّل اناة الله فی الطلاق الزمناه ایّاه»


طَحاوی نے ابن عباسؓ کے طریق سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تمہیں طلاق دینے میں مہلت حاصل تھی، لیکن جو شخص اللہ کی عطا کردہ مہلت سے فائدہ اٹھانے میں جلدبازی کرے گا، ہم اس (جلدبازی کے نتیجے) کو اس پر لازم قرار دے دیں گے۔


(بدرالدین عینی، محمود بن احمد، عمدة القاری، ج۲۰، ص۲۳۳)


📖 عن طاووس قال: قال عمر بن الخطاب: «قد کان لکم فی الطلاق اناة فاستعجلتم اناتکم، و قد اجزنا علیکم ما استعجلتم من ذلک


طاؤوسؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا: ’’طلاق کے معاملے میں تمہارے لیے مہلت کی گنجائش تھی، لیکن تم نے اپنی مہلت میں جلدبازی کی، لہٰذا ہم نے تم پر وہی نافذ کر دیا جس میں تم نے جلدبازی کی۔‘‘


(متقی هندی، علی بن حسام‌الدین، کنز العمال، ج۹، ص۶۷۶، برقم۲۷۹۴۳)


📖 عن الحسن: انّ عمر بن الخطاب کتب الی ابی موسی الاشعری: «لقد هممت ان اجعل ا‌ذا طلّق الرّجل امراته ثلاثاً فی مجلس ان اجعلها واحدة، ولکنّ اقواماً جعلوا علی انفسهم، فالزِم کلّ نفس ما الزمه نفسه؟ من قال لامراته: انت علیّ حرام، فهی حرام، و من قال لامراته: انت بائنة، فهی بائنة، و من قال: انت طالق ثلاثاً، فهی ثلاث»


حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ابو موسیٰ اشعری کو لکھا: ’’میں نے ارادہ کیا تھا کہ اگر کوئی شخص ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو انہیں ایک طلاق قرار دوں، لیکن کچھ لوگوں نے اپنے اوپر خود سختی لازم کر لی ہے؛ لہٰذا ہر شخص پر وہی لازم کیا جائے گا جو اس نے خود اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ جو شخص اپنی بیوی سے کہے: تم مجھ پر حرام ہو، تو وہ حرام ہے؛ اور جو کہے: تم مجھ سے جدا ہو، تو وہ جدا ہے؛ اور جو کہے: تمہیں تین طلاقیں ہیں، تو اسے تین طلاقیں ہیں۔‘‘


(متقی هندی، علی بن حسام‌الدین، کنز العمال، ج۹، ص۶۷۶، برقم۲۷۹۴۴)


🛑 اشباہ و نظائر

کیا فقہ میں ایسا ممکن ہے کہ جس عمل کو تین مرتبہ انجام دینا ضروری ہو، اسے ایک ہی جملے سے انجام دیا ہوا شمار کر لیا جائے؟ مثلاً شوہر کہے: «أنتِ طالقٌ ثلاثاً» (تمہیں تین طلاقیں ہیں) اور اسے تین طلاقیں شمار کیا جائے؟ فقہی اصطلاح میں ایسے مسائل کو اشباہ و نظائر کہا جاتا ہے، جن میں مشابہ فقہی احکام سے استدلال کیا جاتا ہے۔ اس اصول کی وضاحت کے لیے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:


1. لعان: شوہر کو چار مرتبہ اپنی سچائی کی گواہی دینی ہوتی ہے اور بیوی کو بھی چار مرتبہ شوہر کے جھوٹا ہونے کی گواہی دینی ہوتی ہے۔ محض ایک جملے میں چار مرتبہ کہہ دینا، چار الگ گواہیوں کا قائم مقام نہیں ہوتا۔


2. اذان: اذان کے چار ابتدائی تکبیروں کو الگ الگ ادا کیا جاتا ہے؛ صرف "الله اکبر اربعة مرّات" کہہ دینا کافی نہیں۔


3. قسامہ: قتل کے بعض مقدمات میں پچاس قسمیں ادا کرنا ہوتی ہیں۔ انہیں ایک ہی جملے میں شمار کر دینا، پچاس الگ قسمیں ادا کرنے کے مترادف نہیں۔


4. رمیِ جمرات: سات کنکریاں ایک ساتھ پھینکنا کافی نہیں، بلکہ ہر کنکری الگ پھینکنی ہوتی ہے۔


5. نماز کی تکبیریں: نماز کے آغاز میں مستحب سات تکبیروں کو الگ الگ کہا جاتا ہے؛ صرف "الله اکبر سبعة مرّات" کہنا ان کا متبادل نہیں۔


💬 ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بدعت ہونے پر دلالت کرنے والی آیات:


📖 الطَّلاَقُ‌ مَرَّتَانِ‌ فَاِمْسَاکٌ‌ بِمَعْرُوفٍ‌ اَوْ تَسْرِیحٌ‌ بِاِحْسَانٍ ‌ وَ لاَ یَحِلُ‌ لَکُمْ‌ اَنْ‌ تَاْخُذُوا مِمَّا آتَیْتُمُوهُنَ‌ شَیْئاً اِلاَّ اَنْ‌ یَخَافَا اَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّهِ‌ فَاِنْ‌ خِفْتُمْ‌ اَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّهِ‌ فَلاَ جُنَاحَ‌ عَلَیْهِمَا فِیمَا افْتَدَتْ‌ بِهِ‌ تِلْکَ‌ حُدُودُ اللَّهِ‌ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَ مَنْ‌ یَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ‌ فَاُولٰئِکَ‌ هُمُ‌ الظَّالِمُونَ‌

(سورہ بقره آیه۲۲۹)


آیت میں «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ» سے مراد یہ ہے کہ طلاق مرحلہ وار، یعنی ایک کے بعد دوسری مرتبہ واقع ہو۔ اس کے بعد شوہر کو رجوع یا حسنِ سلوک کے ساتھ جدائی کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس بنا پر استدلال کیا جاتا ہے کہ ایک ہی مجلس میں «أنتِ طالق ثلاثاً» کہہ کر تین طلاقیں دینا، طلاق کے مرحلہ وار طریقے کے مطابق نہیں؛ کیونکہ اس میں طلاقیں الگ الگ مراحل میں واقع نہیں ہوتیں۔


اعتراض: اگر شوہر ایک ہی مجلس میں وقفے وقفے سے تین مرتبہ «أنتِ طالق» کہے تو کیا یہ طلاقیں الگ الگ شمار نہیں ہوں گی؟

جواب: اس استدلال کے مطابق، پہلی طلاق کے صحیح طور پر واقع ہوتے ہی زوجیت ختم ہو جاتی ہے، لہٰذا دوسری اور تیسری طلاق کے وقت عورت محلِ طلاق نہیں رہتی۔ فقہی قاعدہ ہے: «المُطَلَّقَةُ لَا تُطَلَّقُ» یعنی مطلقہ عورت کو دوبارہ طلاق نہیں دی جا سکتی، جب تک شرعی طور پر زوجیت بحال نہ ہو۔


📖 وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ‌ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ‌ اَجَلَهُنَ‌ فَاَمْسِکُوهُنَ‌ بِمَعْرُوفٍ‌ اَوْ سَرِّحُوهُنَ‌ بِمَعْرُوفٍ‌ وَ لاَ تُمْسِکُوهُنَ‌ ضِرَاراً لِتَعْتَدُوا وَ مَنْ‌ یَفْعَلْ‌ ذٰلِکَ‌ فَقَدْ ظَلَمَ‌ نَفْسَهُ‌ وَ لاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ‌ اللَّهِ‌ هُزُواً وَ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ‌ عَلَیْکُمْ‌ وَ مَا اَنْزَلَ‌ عَلَیْکُمْ‌ مِنَ‌ الْکِتَابِ‌ وَ الْحِکْمَةِ یَعِظُکُمْ‌ بِهِ‌ وَ اتَّقُوا اللَّهَ‌ وَ اعْلَمُوا اَنَ‌ اللَّهَ‌ بِکُلِ‌ شَیْ‌ءٍ عَلِیمٌ

(سورہ بقره، آیه۲۳۱)


یہ آیت ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بطلان پر دلیل ہے، خواہ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کو ہر طلاق کے الگ الگ واقع ہونے پر محمول کیا جائے یا دوسری طلاق کے بعد کے حکم پر۔ قرآنِ مجید کے مطابق طلاق کے بعد شوہر کو دو میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہے:

فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ: بھلے طریقے سے رجوع کرکے بیوی کو روک لینا۔

أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ: اچھے طریقے سے رخصت کر دینا۔

یہ دونوں اختیارات اسی صورت میں قابلِ عمل ہیں جب طلاقیں الگ الگ مراحل میں دی جائیں۔ اگر شوہر ایک ہی مجلس میں کہے: «أنتِ طالقٌ ثلاثاً» تو اس نے آیت میں بیان کردہ طریقۂ کار کی پیروی نہیں کی۔ لہٰذا اس استدلال کے مطابق، ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا باطل ہے۔

ابنِ اثیر لکھتے ہیں کہ جب شوہر اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دے تو عدت باقی رہنے تک اسے اختیار ہے کہ اصلاح اور حسنِ سلوک کی نیت سے رجوع کرلے، یا عدت ختم ہونے دے، تاکہ عورت اس کے نکاح سے جدا ہو جائے۔ اس صورت میں شوہر کو چاہیے کہ عورت کے حقوق میں کوئی کمی نہ کرے اور اسے نقصان نہ پہنچائے۔


📖 یَا اَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّکُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُیُوتِهِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَاْتِینَ بِفَاحِشَةٍ مُبَیِّنَةٍ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِی لَعَلَّ اللَّهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِکَ اَمْرًا

(سورہ طلاق آیه۱)


اس آیت میں لفظ لِعِدَّتِهِنَّ میں حرفِ لام کو خواہ "فی" کے معنی میں لیا جائے یا غایت و مقصد کے معنی میں، دونوں صورتوں میں استدلال کیا جاتا ہے کہ طلاق عدت کے شرعی ضابطے کے مطابق ہونی چاہیے۔ اسی بنا پر حالتِ حیض میں طلاق کو باطل قرار دینے کا استدلال پیش کیا جاتا ہے، کیونکہ اس حالت میں طلاق دینا مقررہ طریقۂ طلاق کے مطابق نہیں ہے۔

اسی آیت سے ایک مجلس میں تین طلاقوں کے بطلان پر بھی استدلال کیا جاتا ہے؛ کیونکہ طلاق کا تعلق عدت سے ہے، جبکہ ایک ہی مجلس میں یکے بعد دیگرے تین طلاقیں دینے کی صورت میں پہلی طلاق کے بعد عدت کے مراحل مکمل ہونے سے پہلے دوسری اور تیسری طلاق دی جاتی ہے۔


وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِينَ


سید شہروز زیدی

قم المقدس 

۲۹ ربیع الثانی ۱۴۴۸ ھجری