باسمه تعالیٰ،
نمازِ جمعہ کے وقت کے بارے میں فقہائے امامیہ کے درمیان اصل اختلاف آخری وقت کے متعلق ہے۔ نمازِ جمعہ کا ابتدائی وقت زوالِ آفتاب ہے، اس پر اتفاق ہے، البتہ زوال کے بعد کتنی مدت تک نمازِ جمعہ ادا کی جاسکتی ہے، اس بارے میں متعدد اقوال پائے جاتے ہیں۔
🛑 ابتدائی وقتِ نمازِ جمعہ
روایات سے واضح ہوتا ہے کہ نمازِ جمعہ کا وقت زوالِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ:
وَقْتُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ عِنْدَ الزَّوَالِ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي غَيْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
"امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "نمازِ جمعہ کا وقت زوال کے وقت ہے، اور جمعہ کے دن نمازِ عصر کا وقت وہی ہے جو غیرِ جمعہ کے دن نمازِ ظہر کا وقت ہے۔"
(وسائل الشیعہ، ج ۷، ص ۳۱۶، ح ۵)
اسی طرح روایت میں ہے:
وَقْتُ الظُّهْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ
"جمعہ کے دن نمازِ ظہر کا وقت اس وقت ہے جب سورج زائل ہوجائے۔"
(وسائل الشیعہ، ج ۷، ص ۳۱۸، ح ۱۴)
لہٰذا نمازِ جمعہ کے آغاز میں بنیادی اختلاف نہیں اور زوال، وقتِ جمعہ کا آغاز ہے۔
🛑 آخری وقت کے بارے میں فقہی اقوال
آخری وقت کے بارے میں بنیادی طور پر پانچ اقوال ذکر ہوئے ہیں:
1️⃣ پہلا قول: وقتِ جمعہ مضیق ہے
اس قول کے مطابق زوال کے بعد صرف اتنا وقت ہے جس میں دو خطبے اور دو رکعت نماز معمول کے مطابق ادا کی جاسکے۔ وقت گزرنے کے بعد نمازِ ظہر ادا کی جائے گی۔
اس کی اہم دلیل صحیحہ زرارہ ہے:
عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ:
إِنَّ مِنَ الْأُمُورِ أُمُورًا مُضَيَّقَةً وَأُمُورًا مُوَسَّعَةً، وَإِنَّ الْوَقْتَ وَقْتَانِ، وَالصَّلَاةَ مِمَّا فِيهِ السَّعَةُ، فَرُبَّمَا عَجَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وَرُبَّمَا أَخَّرَ، إِلَّا صَلَاةَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ مِنَ الْأَمْرِ الْمُضَيَّقِ، إِنَّمَا لَهَا وَقْتٌ وَاحِدٌ حِينَ تَزُولُ
"امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: "بعض امور محدود اور بعض وسیع ہیں۔ نماز ان امور میں سے ہے جن میں وسعت ہے، لیکن نمازِ جمعہ اس سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ جمعہ محدود وقت والی عبادت ہے؛ اس کا ایک وقت ہے، جب سورج زائل ہوجائے۔"
)وسائل الشیعہ، ج ۷، ص ۳۱۶، ح ۳)
اس روایت میں من الأمر المضيق اور إنما لها وقت واحد حين تزول کے الفاظ اس قول کے لیے اہم دلیل ہیں۔
2️⃣ دوسرا قول: ایک گھنٹے تک
بعض فقہاء نے نمازِ جمعہ کا وقت زوال سے ایک گھنٹے (ساعت) تک قرار دیا ہے۔
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: أَوَّلُ وَقْتِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى أَنْ تَمْضِيَ سَاعَةٌ، فَحَافِظْ عَلَيْهَا...
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: "جمعہ کا ابتدائی وقت ایک ساعت ہے، سورج کے زائل ہونے سے ایک ساعت گزرنے تک؛ پس اس کی حفاظت کرو۔"
"وسائل الشیعہ، ج ۷، ص ۳۲۰، ح ۱۹"
یہاں ساعت سے مراد کیا ہے، اس میں بھی بحث ہے؛ بعض اسے ساٹھ منٹ اور بعض قدیم اصطلاح کے مطابق دن کے بارہویں حصے کے طور پر لیتے ہیں۔
3️⃣ تیسرا قول: دو قدم تک
اس قول کے مطابق نمازِ جمعہ کا وقت زوال سے اس وقت تک ہے جب سایہ تقریباً دو قدم یا دو ہفتمِ شاخص تک پہنچ جائے۔
اس کی دلیل ان روایات سے لی گئی ہے جن میں جمعہ کے دن عصر کے وقت کو عام دن کی ظہر کے وقت کے برابر قرار دیا گیا ہے:
وَوَقْتُ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي غَيْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
"جمعہ کے دن عصر کا وقت وہی ہے جو غیرِ جمعہ کے دن ظہر کا وقت ہے۔"
(وسائل الشیعہ، ج ۷، ص ۳۱۶، ح ۵)
اس سے بعض فقہاء نے یہ استدلال کیا کہ جمعہ کے دن وقت میں اتنی وسعت ہے جتنی عام دن کی نمازِ ظہر کے ابتدائی وقت میں ہوتی ہے۔
4️⃣ چوتھا قول: مثلِ شاخص تک
اس قول کے مطابق نمازِ جمعہ کا وقت زوال سے اس وقت تک ہے جب زوال کے بعد کا سایہ ایک مثل یعنی شاخص کے برابر ہوجائے۔
اس قول کی بنیاد نمازِ جمعہ کو نمازِ ظہر کا بدل قرار دینے اور دونوں کے اوقات میں تقابل پر ہے۔ آیت اللہ خوئی نے اسی سمت کو اختیار کیا ہے۔
تاہم اس کے مقابلے میں یہ اشکال ہے کہ روایات میں نمازِ جمعہ کو مضیق قرار دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و ائمہ علیہم السلام سے جمعہ کو بہت زیادہ مؤخر کرنا ثابت نہیں۔
5️⃣ پانچواں قول: غروب تک
ابن ادریس حلی اور شہید اول کی طرف یہ قول منسوب ہے کہ نمازِ جمعہ کا وقت نمازِ ظہر کے وقت کے برابر ہے، یعنی زوال سے غروب تک۔
اس کی بنیادی دلیل اصلِ بدلیت ہے؛ چونکہ نمازِ جمعہ نمازِ ظہر کے قائم مقام ہے، لہٰذا نمازِ ظہر کا وقت ہی جمعہ کا وقت ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے مقابلے میں روایاتِ تضییق موجود ہیں، اس لیے غروب تک وقت قرار دینے کے لیے ان روایات کی توجیہ ضروری ہے۔
📄 امام خمینی قدس سرہ نے ابتدائی وقت کو قطعی طور پر زوال قرار دیا، لیکن آخری وقت کو محلِ اختلاف و اشکال قرار دیا ہے:
وأمّا آخر وقتها بحيث تفوت بمضيّه ففيه خلاف وإشكال، والأحوط عدم التأخير عن الأوائل العرفيّة من الزوال، وإذا أُخّرت عن ذلك فالأحوط اختيار الظهر، وإن لا يبعد امتداده إلى قدمين من فيء المتعارف من الناس
"اس کا آخری وقت، جس کے گزرنے سے جمعہ فوت ہوجائے، اس میں اختلاف اور اشکال ہے۔ احتیاط یہ ہے کہ زوال کے عرفی ابتدائی حصے سے تاخیر نہ کی جائے، اور اگر تاخیر ہو جائے تو احتیاطاً نمازِ ظہر ادا کی جائے، اگرچہ یہ بعید نہیں کہ وقت عام لوگوں کے سایے کے دو قدم تک پھیل جائے۔"
(تحریر الوسیلہ، ج ۱، کتاب الصلاة، القول فی وقتها، مسئلہ ۱)
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دو قدم کو ہر مقام پر لازماً دو گھنٹے قرار نہیں دیا جاسکتا؛ سایہ موسم اور مقام کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔
🛑 وقت گزرنے کے بعد نمازِ جمعہ کی قضا:
اگر نمازِ جمعہ کا وقت گزر جائے تو نمازِ جمعہ کی قضا نہیں کی جاتی بلکہ نمازِ ظہر ادا کی جاتی ہے۔
امام خمینی قدس سرہ فرماتے ہیں:
وليسَتِ الجمعةُ قضاءٌ بفواتِ وقتِها
"وقت فوت ہوجانے کی صورت میں نمازِ جمعہ کی قضا نہیں ہے۔"
(تحریر الوسیلہ، ج ۱، کتاب الصلاة، القول فی وقتها، مسئلہ ۲)
🛑 اس بحث سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
✔️ نمازِ جمعہ کا ابتدائی وقت زوالِ آفتاب ہے اور اس پر روایات واضح ہیں۔
✔️ اصل اختلاف آخری وقت میں ہے۔
✔️ آخری وقت کے بارے میں پانچ بنیادی اقوال ہیں:
مضیق وقت، ایک ساعت، دو قدم، مثلِ شاخص، اور غروب تک۔
✔️ قولِ مضیق کے حق میں سب سے اہم دلیل وہ روایات ہیں جن میں نمازِ جمعہ کو من الأمر المضيق اور إنما لها وقت واحد حين تزول قرار دیا گیا ہے۔
✔️ دوسری طرف عصرِ جمعہ کے وقت کو عام دن کی ظہر کے وقت کے برابر قرار دینے والی روایات سے بعض فقہاء نے وقت میں وسعت کا استدلال کیا ہے۔
✔️ تحقیقی اعتبار سے نصوصِ تضییق کی ظاہری دلالت زیادہ صریح معلوم ہوتی ہے؛ اس لیے نمازِ جمعہ کو زوال کے بعد بلاوجہ مؤخر نہ کرنا اور اس کے محدود وقت میں خطبے و نماز ادا کرنا زیادہ محتاط اور روایات کے ظاہر سے زیادہ سازگار ہے۔
✔️ تاہم آخری وقت کے مسئلے میں معتبر فقہی اختلاف موجود ہے، اس لیے عملی فتویٰ میں ہر مکلف اپنے مرجعِ تقلید کے فتویٰ کے مطابق عمل کرے گا۔
🛑 معاصر فقہاء کے فتاویٰ
✔️ آیت اللہ سیستانی:
نماز جمعہ کا وقت اول زوال عرفی ہے اور اول زوال عرفی میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اگر خطبہ ۴۰ منٹ کا ہو اور پھر فورا بغیر فاصلے کے نماز جمعہ تمام شرائط کے بجا لایٔی جائے تو وہ نماز صحیح اور کافی ہے ۔ اور نماز ظہر پڑہنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر نماز جمعہ کا خطبہ ۴۰٘ منٹ سے لے کر سوا گھنٹے (۱:۱۵) تک ہو جائے تو احتیاط کی جائے اور احتیاط واجب کی بنا پر نماز ظہر بھی بجا لائے اور اگر اس سے ( ۷۵) منٹ سے زیادہ ہو جائے تو ظاہرا اس صورت میں جمعہ کافی نہیں ہے اور ظہر بھی پڑھنا ہوگا اور مکلف ( نمازی ) شک کی صورتوں میں مذکورہ دستور کے مطابق انجام دے تو کافی ہے۔
sistani.org/25586
✔️ آیت اللہ شہید خامنہ ای:
نماز جمعہ کا وقت ابتدائے زوال آفتاب (اول ظہر) سے شروع ہوتا ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اوائل عرفی زوال سے تقریباً ایک یا دو گھنٹے تک مؤخر نہ کیا جائے۔
farsi.khamenei.ir/amp-content?id=27270
✔️ آیت اللہ مکارم شیرازی:
نماز جمعہ کے وقت کی مقدار اتنی ہے کہ معمول کے مطابق خطبے اور متعادل لحاظ سے نماز جمعہ ہو جائے، البتہ ممکن ہے کہ اس میں اول زوال سے ایک گھنٹہ یا سوا گھنٹہ لگ جائے، اس کے بعد نماز جمعہ کا وقت گزرجاتا ہے۔
old.makarem.ir/main.aspx?reader=1&lid=4&mid=62515&catid=6482&pid=62039
✔️ آیت اللہ نوری ہمدانی:
نمازِ جمعہ کا وقت زوالِ آفتاب کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک باقی رہتا ہے جب شاخص کا سایہ عرفی طور پر دو قدم کے برابر ہوجائے۔ لیکن احتیاطِ واجب یہ ہے کہ اوائلِ عرفی ظہر سے نمازِ جمعہ ادا کرنے میں تاخیر نہ کی جائے، اور اگر تاخیر ہوجائے تو احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ نمازِ ظہر ادا کی جائے۔
noorihamedani.ir/term/category?id=607&sub=3077
✔️ آیت اللہ مرحوم شبیری زنجانی:
نمازِ جمعہ کا وقت اوّلِ ظہر (زوال آفتاب) سے ایک گھنٹے تک ہے، اور ایک گھنٹے سے مراد دن کے بارہ حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛ لہٰذا مختلف موسموں میں اس ایک گھنٹے کی مقدار بدلتی رہتی ہے۔
hawzah.net/Resaleh/List?cId=437&mId=62168&Title=وقت_نماز_جمعه
✔️ آیت اللہ وحید خراسانی:
احتیاط کی بنا پر نمازِ جمعہ شروع کرنے میں اس وقت سے تاخیر نہیں کرنی چاہیے جسے عرفاً اولِ ظہر کہا جاتا ہے، اور احتیاطاً خطبوں کا کچھ حصہ وقت کے اندر پڑھا جانا چاہیے۔ ظہر سے پہلے خطبہ شروع کرنا خلافِ احتیاطِ مستحب ہے۔ احتیاطِ واجب کی بنا پر نمازِ جمعہ ظہر شرعی کے تقریباً ایک گھنٹے بعد تک مکمل ہو جانی چاہیے، اور اگر اس وقت تک نمازِ جمعہ مکمل نہ ہوئی ہو تو احتیاطاً نمازِ ظہر بھی پڑھ لیں۔
marjaema.com/?p=108&l=4&s=931
التماس دعا
سید محمد شہروز حسین زیدی
قم المقدس
۱۳ ربیع الثانی ۱۴۴۸ ھجری

