میں شیعہ ہوں اور میرا شوہر سنی ہے، اس نے مجھے اپنی فقہ کے مطابق بغیر گواہان کے زبانی طلاق دے دی ہے؟ کیا ایسی طلاق میرے لیے متعبر ہے؟ اور کیا میں آزاد ہوں؟

سوال: میں شیعہ ہوں اور میرا شوہر سنی ہے، اس نے مجھے اپنی فقہ کے مطابق بغیر گواہان کے زبانی طلاق دے دی ہے؟ کیا ایسی طلاق میرے لیے متعبر ہے؟ اور کیا میں آزاد ہوں؟


باسمه تعالیٰ،

اگر کوئی غیر شیعہ اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق طلاق دے تو چاہے بیوی شیعہ ہو اور وہ طلاق ہمارے اصولوں کے مطابق نہ بھی ہو تب بھی وہ طلاق صحیح ہوگی اور اس کے تمام شرعی اثرات لاگو ہوں گے۔

پس، اگر سنی شوہر نے اپنی فقہ کے مطابق درست طلاق دی ہو تو وہ طلاق شیعہ عورت کے لیے بھی معتبر و درست ہے، لہذا عورت خود کو طلاق یافتہ شمار کرے گی اور (اگر عدت واجب ہو تو) عدت مکمل کرنے کے بعد کسی اور مرد سے شادی کر سکتی ہے۔



📄 فقہ امامیہ میں ایک قاعدہ موجود ہے جسے قاعدۂ الزام کہا جاتا ہے۔ اس قاعدے کا استعمال ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں شیعہ مذہب اور دیگر مذاہب کے درمیان فقہی اختلاف پایا جاتا ہو۔ مثلاً شیعہ اور اہل سنت کے درمیان طلاق کے گواہوں کے مسئلے میں اختلاف ہے۔ لہٰذا قاعدۂ الزام کے مواردِ تطبیق میں سے ایک یہی مسئلہ ہے۔ اگر اہل سنت میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو بغیر گواہوں کے طلاق دے، تو اپنے مذہب کے مطابق اس نے ایک صحیح عمل انجام دیا ہے؛ لیکن ہمارے شیعہ فقہ کے مطابق یہ طلاق باطل ہے۔ تاہم قاعدۂ الزام کی بنیاد پر ہم اس طلاق کو صحیح قرار دے سکتے ہیں، اسے تسلیم کر سکتے ہیں اور انہیں ان کے اپنے عمل کے مقتضیٰ کو قبول کرنے کا پابند قرار دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ عمل ان کے اپنے مذہب کے مطابق ہے۔


📖 حضرت امام کاظمؑ نے فرمایا:

الزموهم بما الزموا به انفسهم

"انہیں اسی چیز کا پابند کرو جس کے وہ خود اپنے آپ کو پابند سمجھتے ہیں۔"

(الوسائل ج 15 كتاب الطلاق أبواب مقدماته وشرائطه الباب 30 الحديث 5)


📖 مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ، عَنِ السَّنْدِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلَاءِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عليه السلام) قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْأَحْكَامِ قَالَ: تَجُوزُ عَلَى أَهْلِ كُلِّ ذِي دِينٍ مَا يَسْتَحِلُّونَ. 

"میں نے امامؑ سے احکام کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ہر دین کے پیروکاروں کے بارے میں وہ احکام نافذ کیے جائیں گے جنہیں وہ اپنے مذہب کے مطابق جائز سمجھتے ہیں۔"

(وسائل الشیعة جلد ۲۶، صفحہ ۳۱۹)


یہ احکامِ میراث، طلاق، قضاوت وغیرہ میں ہے۔


📖 نیز امام رضاؑ نے فرمایا:

من دانَ بدين قوم لزمته أحکامهم

"جو شخص کسی قوم کے دین کو اختیار کرے، اس پر اسی دین کے احکام لازم ہوں گے۔"

(وسائل الشيعة صفحة ۳۲۲)


📖 وباسناده عن الحسن بن محمد بن سماعة، عن عبد الله بن جبلة، عن عدة، عن علي بن أبي حمزة، عن أبي الحسن عليه السلام أنه قال: ألزموهم بما ألزموا (به) أنفسهم.

"انہیں اسی چیز کا پابند قرار دو جس کے وہ خود اپنے آپ کو پابند سمجھتے ہیں۔"

(وسائل الشيعة ج ٢٦ الصفحة ٣٢٠)


شیخ فرماتے ہیں اس حکم پر دلالت کرنے والی روایات پہلے بھی بابِ ایمان، بابِ طلاق، بابِ تعصیب اور دیگر ابواب میں گزر چکی ہیں۔


🔶 مذکورہ روایات سے قاعدۂ الزام پر استدلال اس طرح کیا جاتا ہے کہ سوال کرنے والا دراصل ایک سنی عورت کے بارے میں امامؑ سے پوچھ رہا ہے جسے اس کے سنی شوہر نے سنی طریقے کے مطابق طلاق دی ہے؛ مثلاً ایسی طلاق جو بغیر گواہوں کے دی گئی ہو یا حیض کے دوران یا طُہرِ مواقَعہ میں دی گئی ہو، جو شیعہ فقہ میں غیرِ سنت اور باطل ہے، لیکن اہل سنت میں رائج اور ان کے نزدیک صحیح ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں امام صادقؑ قاعدۂ الزام کی بنیاد پر اس طلاق کو، جسے اہل سنت اپنے مذہب کے مطابق صحیح سمجھتے ہیں، اس عورت سے شیعہ شخص کے نکاح کے لیے صحیح قرار دیتے ہیں؛ یعنی اس عورت کی طلاق کو معتبر مانتے ہیں تاکہ وہ اپنی عدت کے تین طُہروں کے بعد نکاح کر سکے۔

بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر امامؑ تاکید فرماتے ہیں کہ:

اس عورت کو شوہر کے بغیر نہ چھوڑو اور لازماً اس سے نکاح کرو! اور یہ حکم قاعدۂ الزام کے ضمن میں قابلِ استفادہ قرار پایا۔ تو پھر اس کے مقابلے میں امامؑ کی یہ فکر اور اہتمام کہ کنواری شیعہ لڑکیاں اور بے شوہر (طلاق یافتہ) شیعہ خواتین شوہر کے بغیر نہ رہیں، بدرجۂ اولیٰ قابلِ توجہ ہے!


ذیل میں قاعدۂ الزام، کے تحت اس قاعدے پر دلالت کرنے والی صحیح اور موثق روایات ذکر کی گئی ہیں۔


📖 الحسن بن محمد بن سماعة عن جعفر بن سماعة والحسن بن عديس عن أبان عن عبد الرحمن البصري عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: قلت له: امرأة طلقت على غير السنة، قال: تتزوج هذه المرأة ولا تترك بغير زوج

"عبدالرحمن بصری کہتے ہیں: میں نے امام صادقؑ سے عرض کیا: ایک عورت کو غیرِ سنت طریقے سے طلاق دی گئی ہے۔ امامؑ نے فرمایا: یہ عورت نکاح کرے گی اور اسے شوہر کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔"

(تہذیب الأحکام، جلد ۸، صفحہ ۵۸، حدیث ۱۰۷)


📖 عنه عن محمد بن زياد عن عبد الله بن سنان قال : سألته عن رجل طلق امرأته لغير عدة ثم امسك عنها حتى انقضت عدتها هل يصلح لي ان اتزوجها؟ قال : نعم لا تترك المرأة بغير زوج

"میں نے امامؑ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے اپنی بیوی کو غیرِ شرعی طریقۂ عدت کے مطابق طلاق دی، پھر اس کے بعد اس سے رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ اس عورت کی عدت بھی پوری ہوگئی۔ کیا میرے لیے اس عورت سے نکاح کرنا جائز ہے؟ امامؑ نے فرمایا: ہاں، عورت کو شوہر کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔"

(تہذیب الأحکام جلد ۸، صفحہ ۵۸، حدیث ۱۸۹⁠)


📖 ما رواه غير واحد عن علي بن أبي حمزة انه سأل عن أبي الحسن عليه السّلام عن المطلقة على غير السنة، أ يتزوجها الرجل؟ فقال ألزموهم من ذلك ما ألزموه أنفسهم، وتزوجوهن، فلا بأس بذلك

"انہیں اسی معاملے میں اسی چیز کا پابند قرار دو جس کے وہ خود اپنے آپ کو پابند سمجھتے ہیں، اور ان عورتوں سے نکاح کرلو؛ پس اس میں کوئی حرج نہیں۔"

(الوسائل ج 15 كتاب الطلاق أبواب مقدماته وشرائطه الباب 30 الحديث 5)


🛑 مراجع عظام کے فتاویٰ


✔️ معاصر فقہاء میں سے ہمارے علم کے مطابق صرف آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی ہیں جنکے مطابق قاعدۂ الزام اس شیعہ عورت کے معاملے میں جاری نہیں ہوگا جسے اس کے سنی شوہر نے اہلِ سنت کی فقہ کے مطابق طلاق دی ہو۔ فرماتے ہیں:

"قاعدۂ الزام اس شیعہ عورت کے معاملے میں جاری نہیں ہوگا، بلکہ اسے چاہیے کہ اپنے شوہر سے (طلاق کی) وکالت حاصل کرے اور دوبارہ شرائطِ شرعیہ کے ساتھ طلاق جاری کرے۔ اگر شوہر اس کام پر رضامند نہ ہو تو حاکمِ شرع (مجتہد یا انکے وکیل) سے رجوع کرکے طلاق حاصل کرے۔

(مرکز پاسخگویی به احکام شرعی و مسائل فقھی، شرائط صیغه طلاق صفحه ۱۲)


🔅 البتہ باقی فقہاء فرماتے ہیں:


✔️ آیت اللہ العظمی شہید خامنہ ای:

"اگر کوئی غیر شیعہ اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق طلاق دے تو چاہے بیوی شیعہ ہو اور وہ طلاق ہمارے اصولوں کے مطابق نہ بھی ہو تب بھی وہ طلاق صحیح ہو گی اور اس کے تمام شرعی اثرات لاگو ہوں گے۔"

(سائٹ المجیب)


✔️ آیت اللہ العظمی سیستانی:

"۔۔۔اگر کوئی غیر امامی شخص اپنی بیوی کو ایسے طریقے سے طلاق دے جو اُس کے اپنے مسلک کے مطابق تو صحیح ہو لیکن ہمارے (شیعہ) مسلک کے مطابق باطل ہو، تو پیروانِ مکتبِ امامیہ کے لیے جائز ہے کہ وہ چونکہ دوسرا فریق اپنے مسلک کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ اس عورت سے عدت کے بعد نکاح کر سکتے ہیں۔۔۔"

(توضیح المسائل، مسئلہ ۲۸۴۵)


✔️ آیت اللہ العظمی وحید خراسانی:

"اگر اہلِ سنت شخص اپنی بیوی کو دو عادل گواہوں کی موجودگی کے بغیر طلاق دے، یا عورت کے جسم کے کسی حصے مثلاً ایک انگلی کو طلاق دے، تو اس کے اپنے مذہب کے مطابق طلاق صحیح ہے، اگرچہ مذہبِ امامیہ کے مطابق باطل ہے۔ لہٰذا شیعہ مرد قاعدۂ الزام کی بنا پر اس مطلقہ عورت کی عدت ختم ہونے کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے۔

(توضیح المسائل مسئله ۲۸۸۲)


✍🏻 علامہ سید شہروز زیدی